5 برس بعد تاریخ اتحادی حکومت کے ہائبرڈ دور کو کیسے دیکھے گی؟

دنیا کی تاریخ بارہا یہ بتا چکی ہے اور دکھا بھی چکی ہے کہ جب بھی کوئی حاکم تخت اقتدار پر براجمان ہوتا ہے، اسکی تمام خامیاں روپوش ہو جاتی ہیں۔ اس کی لغزشوں پر پردہ پڑ جاتا ہے، اس کی غلطیاں دھندلا جاتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ حاکم وقت تخت سے اترتا ہے، اس کے  دور کی حقیقت کھل جاتی ہے، اس کی خامیاں بھی سامنے آ جاتی ہیں، اور اسکی لغزشیں بھی بے نقاب ہو جاتی ہیں، یعنی تاریخ کسی دور کو اس کے گزر جانے کے بعد پرکھتی ہے۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی تاریخ اتحادی حکومت کے ہائبرڈ دور کو کیسے پرکھے گی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ابن الوقتوں میں گھرے رہتے ہیں جو ان کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے زمیں اور آسمان ایک کر دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ حضرت ضیا الحق کا دور تھا، ہر طرف مرد مومن، مرد حق کا نعرہ گونج رہا تھا۔ ہر کوئی جہاد افغانستان کا سفیر بنا ہوا تھا۔ مجلس شوریٰ قائم ہو چکی تھی۔ ہر کوئی اس کا ممبر بننے کا خواہاں تھا۔ مرد مومن بسا اوقات ٹی وی کی ریکارڈڈ تقاریر میں امت مسلمہ کی حالت زار پر آبدیدہ ہو جاتے اور شیروانی کی جیب سے سفید براق رومال نکالتے اور پھر اس سے وہ آنسو پونچھتے تھے جنہیں بدخواہ ایک سمندری مخلوق کے آنسو قرار دیتی تھی۔

عمار مسعود کے بقول وہ کرب ناک دور بیت گیا، ایک طیارہ کیا تباہ ہوا، تاریخ کے سارے صفحے الٹا گیا۔ چند برس بعد ہم پر منکشف ہوا کہ افغان جہاد ہماری غلطی تھی۔ ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ غیر جماعتی الیکشن ایک ڈھکوسلہ تھا۔پھر ہمیں پتا چلا کہ ضیا کی مجلس شوریٰ ایک جمہوریت کش ادارہ تھا۔ تب ہمیں پتا چلا کہ وہ آنسو مگر مچھ کے آنسو تھے۔ مگر ان حقیقتوں کے واشگاف ہونے کے لیے ہمیں ایک حادثے کا انتظار کرنا پڑا۔ اس سے پہلے راوی چین ہی چین لکھتا تھا، تب راوی لکھتا تھا کہ اب شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔ تاہم مرد مومن کے جہنم رسید ہونے کے بعد پتہ چلا کہ پانی پینے کے بعد شیر اسی گھاٹ پر موجود پیاسی بکری کو کھا جاتا تھا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ جب بھی پیپلز پارٹی کا دور آیا تو لوگوں نے نعرہ لگایا کہ عوام کی حکومت آ گئی۔ اب تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے اور راج کرے گی خلق خدا۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں کو ان کا حق ملا۔ یونینوں کی عید ہوگئی۔ طلبا تنظیمیں بحال ہوئیں۔ آئین میں وہ بنیادی تبدیلیاں کی گئیں جو لازم تھیں۔ صوبوں کو حق ملا، آئینی ترامیم تجویز کی گئیں۔ دانش وروں، فنکاروں کے دن پلٹ آئے۔ انسانی حقوق کی بات ہونے لگی۔ لیکن پیپلزپارٹی کا دور چاہے 1988 کا ہو، 1993 کا یا پھر 2008 والی حکومت ہو، اس کے ختم ہونے کے بعد پتا چلا کہ یہ تو بڑے کرپٹ لوگ تھے۔ ہر منصوبے میں بندر بانٹ ہو رہی تھی۔ اقربا پروری کی انتہا تھی۔ جیالے سب خزانہ لوٹ کر چلے گئے۔ یہ سب حقیقتیں تب منکشف ہوئیں جب پیپلز پارٹی کا دور ختم ہو گیا۔ جب تک وہ دور چلتا رہا، تب تک ہمیں کسی نے ان الزامات کا شائبہ تک نہ ہونے دیا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ جب جنرل پرویز مشرف کا دور آیا تو قصیدہ خوانوں نے پھر لفظوں کو شیرے میں بھگونا شروع کردیا۔ بتایا گیا کہ یہ ہے قوم کا اصل مسیحا ہے، جو ختم کرے گا کرپشن۔ جو لائے گا واپس لوٹی ہوئی دولت۔ جو کرے گا کڑا احتساب۔ پھر این آر او لکھا گیا۔ پھر غیر جماعتی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کی بات چلی۔ پھر ابن الوقتوں نے سچ چھپانا شروع کر دیا۔ کسی نے مارشل لا کی بات نہیں کی۔ مشرف کے دور کو اصل جمہوری دور کہا جانے لگا، کوئی فیس بک اور کوئی ٹوئٹر پر ان کی مقبولیت کے ترانے گانے لگا۔ کوئی ان کی پرکشش شخصیت کے قصے سنانے لگا۔ لیکن جب مشرف دور بیت گیا تب پتا چلا کہ وہ تو ایک آئین شکن ڈکٹیٹر اور جمہوریت کا دشمن تھا۔ وہ تو انسانی حقوق کا قاتل تھا۔ اسکے دور میں تو تاریخی کرپشن ہوئی اور خزانہ بھی لوٹا گیا۔ پر تشدد لسانی جماعتوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی اور پی ٹی وی کی دیواریں پھاند کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ لیکن یہ سب باتیں بعد کی ہیں۔ جب تک مشرف اقتدار میں رہا، تنقید کرنے والی زبانیں گنگ رہیں اور اعتراض کرنے والوں کو سانپ سونگھا رہا۔

بلوچستان میں بیٹیوں کے باپ کب تک لاپتہ کیے جاتے رہیں گے؟

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب ن لیگ کا  دور آیا تو سب کہنے لگے کہ اب کرے گی معیشت ترقی، اب ہو گی خوشحالی، اب تاجر برادری کے دن پھریں گے، اب کرے گی سٹاک مارکیٹ آسمان سے باتیں، اب بنیں گی موٹر ویز، اب جال بچھے گا میٹروز کا، اب غربت ختم ہو گی، اب اورنج ٹرین چلے گی اور اب ہوں گے بھارت سے تجارتی معاہدے۔ یہ سب باتیں درست ہیں لیکن جب ایسے کسی دور کے پانچ سال گزر جاتے ہیں تب پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ تو غلط لوگ تھے۔ یہ تو ڈان لیکس کے ذمہ دار تھے۔ یہ تو موروثی سیاست کے بانی ہیں۔ اس شریف دور میں تو بٹ برادری کے علاوہ کسی اور کی شنوائی ہی نہیں ہوتی۔ ان کی فیکٹریوں میں بھارتی کام کرتے ہیں۔ ان کی سٹیل مل کا سریا ہر منصوبے میں لگتا ہے۔ ان کو نہ آئین کی سمجھ ہے اور نہ ان کے دور میں کسی قانون پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ یہ تو بادشاہوں کی طرح ملک چلاتے ہیں۔

عمار مسعود کے بقول عمران خان کے دور کی مثال بھی کچھ مخلتف نہیں، جب خان صاحب اقتدار میں تھے سب اچھا تھا، دنیا میں سب سے زیادہ مشہور بھی وہی تھے اور مقبول بھی۔ بیرون ملک پاکستانی انہی کے گرویدہ تھے۔ کرپشن کے خلاف وہی جہاد کرتے تھے۔ ترقی کا سونامی ان کے دم قدم سے آیا لیکن جب خان صاحب کا دور ختم ہوا تو پتا چلا کہ یہ تو 9 مئی والے ملک دشمن شر پسند تھے۔ یہ تو انتقامی سیاست پر یقین رکھتے تھے۔ یہ تو کرپشن کے خلاف جہاد کا نعرہ لگا کر خود کرپشن کرتے تھے، لیکن یہ سب ایک دم پتا نہیں چلا، تاریخ نے رفتہ رفتہ یہ حقائق منکشف کیے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ ماضی کے ادوار کے بخیے ادھڑنے کے بعد سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجود دور، ہائبرڈ نظام اور شہباز شریف کی حکومت کے بارے میں تاریخ پانچ سال بعد کیا کہے گی؟ قرائن بتاتے ہیں کہ پانچ سال بعد بھی اس دور کے معترضین کی زبانیں بند ہوں گی کیونکہ عزائم اور امکانات بتاتے ہیں کہ پانچ سال بعد بھی پاکستان میں انہی لوگوں کا دور چل رہا ہو گا۔

Back to top button