پی ایس ایل میں آکشن سسٹم سے کھلاڑیوں کو کیسے فائدہ ہو گا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ میں 360 ارب روپے کے عوض دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کے بعد پی ایس ایل کے ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لاتے ہوئے پلیئرز ڈرافٹ ماڈل کی جگہ آکشن سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تا کہ لیگ کو زیادہ مسابقتی بنایا جا سکے اور کھلاڑیوں کو زیادہ پیسہ کمانے کے مواقع مل سکیں۔ پی ایس ایل کے سٹرکچر میں بڑی تبدیلیوں کا ایک اور مقصد پاکستان سپر لیگ کو عالمی سطح کی دیگر بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگز، خصوصاً انڈین پریمیئر لیگ، کے ساتھ بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنانے ہے۔
پاکستان سپر لیگ انتظامیہ نے رواں برس سیزن 11 سے قبل نیلامی کے ماڈل میں متعدد اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے اور پہلی مرتبہ آئی پی ایل کی طرز پر کھلاڑیوں کی نیلامی کا طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پی ایس ایل کے دس سیزنز میں کھلاڑیوں کا انتخاب پلیئرز ڈرافٹ کے ذریعے کیا جاتا رہا، تاہم اب کھلاڑیوں کے لیے بیس پرائس مقرر کی جائے گی اور فرنچائزز کھلی نیلامی یا آکشن کے ذریعے انہیں حاصل کر سکیں گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پی ایس ایل نے اپنے 11ویں ایڈیشن سے قبل ایک تاریخی پیش رفت کی ہے، جو لیگ کی مسلسل ترقی، جدت اور مسابقتی معیار کو مزید مضبوط کرے گی۔ اعلامیے کے مطابق پلیئرز آکشن ماڈل کا مقصد شفافیت میں اضافہ، ٹیموں کے درمیان توازن اور کھلاڑیوں کے لیے آمدن کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ پی ایس ایل 11 کا آغاز رواں برس 26 مارچ سے ہوگا۔ حالیہ دنوں میں 360 ارب کے عوض سیالکوٹ اور حیدر آباد کی دو نئی ٹیموں کے اضافے کے بعد اب لیگ میں مجموعی طور پر آٹھ فرنچائزز ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل ہوں گی۔ پاکستان سپر لیگ انتظامیہ کے مطابق آٹھ جنوری کو ہونے والی بولی میں دونوں نئی ٹیمیں مجموعی طور پر تین ارب 60 کروڑ روپے میں فروخت کی گئیں، جسے لیگ کی بڑھتی ہوئی کمرشل قدر کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
پی ایس ایل 11 کے لیے نئے آکشن ماڈل کے تحت فرنچائزز کے لیے کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کے اصول بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ اب ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ چار کھلاڑیوں کو برقرار رکھ سکے گی، جبکہ پرانے ماڈل میں آٹھ کھلاڑیوں کو رکھنے کی اجازت تھی۔ ان چار کھلاڑیوں کو پلاٹینیم، ڈائمنڈ، گولڈ اور سلور کیٹیگریز میں رکھا جائے گا۔ پی ایس ایل کے نئے ڈھانچے میں مینٹورز، برینڈ ایمبیسیڈرز اور رائٹ ٹو میچ جیسے متنازع قوانین کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں ان شقوں کے تحت بعض ٹیمیں کھلاڑیوں کو مختلف کیٹیگریز میں رکھ کر اضافی مالی فوائد دیتی تھیں، جس پر دیگر فرنچائزز کی جانب سے اعتراضات سامنے آتے رہے۔
پی ایس ایل میں نئی شامل ہونے والی دونوں ٹیموں کو نیلامی سے قبل دستیاب پلیئرز پول میں سے چار کھلاڑی منتخب کرنے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہر فرنچائز کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ کسی ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کر سکے جو پی ایس ایل سیزن 10 کا حصہ نہیں تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ان غیر ملکی کھلاڑیوں کی براہ راست سائننگ کے لیے رقم کا تعین پی سی بی خود کرے گا۔ لیگ کو مزید مسابقتی بنانے کے لیے فرنچائزز کے مجموعی پلیئر بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کی تنخواہوں کا مجموعی بجٹ 11 لاکھ ڈالرز سے بڑھا کر 16 لاکھ ڈالرز یعنی 45 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ پی ایس ایل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نئے اور بڑے غیر ملکی کھلاڑیوں کو لیگ کی جانب راغب کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں یہ تنقید سامنے آتی رہی ہے کہ بڑے عالمی ٹی ٹوئنٹی سٹارز پی ایس ایل کے بجائے آئی پی ایل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ آکشن سسٹم اور اضافی مالی گنجائش کے باعث اب بڑے نام پی ایس ایل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پی ایس ایل 11 میں فیصل آباد کو ایک نئے وینیو کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جہاں لیگ میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ پی سی بی کے مطابق نیلامی کے عمل، شیڈول اور دیگر آپریشنل معاملات سے متعلق تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
نئے آکشن ماڈل پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے اس فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ برینڈ ایمبیسیڈرز اور رائٹ ٹو میچ جیسے قوانین کا خاتمہ پی ایس ایل کے لیے ایک بڑا اور درست قدم ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ان شقوں کے باعث ٹیموں کے توازن پر منفی اثر پڑتا تھا اور یہ فیصلہ شاید گزشتہ پانچ سالوں میں پی سی بی کا بہترین اقدام ہے۔
ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے بھی آکشن سسٹم کو پی ایس ایل کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ سوشل میڈیا صارفین میں سے کچھ نے اسے لیگ کے لیے خوش آئند قرار دیا، تاہم بعض صارفین کے نزدیک 16 لاکھ ڈالرز کا مجموعی بجٹ اب بھی ناکافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل میں ایک کھلاڑی کی کمائی ہی پی ایس ایل کے پورے بجٹ سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اگر پی ایس ایل کو واقعی عالمی مقابلے میں لانا ہے تو بجٹ میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگا۔
مجموعی طور پر پی ایس ایل میں آکشن سسٹم کا نفاذ لیگ کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف کھلاڑیوں کی آمدن میں اضافے کی امید ہے بلکہ پاکستان سپر لیگ کو عالمی سطح پر زیادہ پرکشش بنانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ تاہم یہ نیا ماڈل عملی طور پر کس حد تک کامیاب ثابت ہوتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والا سیزن ہی کرے گا۔
