ایران پر امریکی حملہ: عوام مہنگائی کے طوفان میں گھر گئے

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ توڑ اضافے کے بعد ملک مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی زد میں ہے، جس نے پہلے سے معاشی دباؤ کا شکار عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تو پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ جس سے ملک میں مزید لاکھوں افراد خط غربت سے نیچے جا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصے میں 147 روپے لیٹر تک کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محض 35 دنوں کے دوران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں 31 جنوری 2026 سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں 68 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 78 روپے 78 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 147 روپے 93 پیسے فی لیٹر تک اضافہ ہو چکا ہے۔ جبکہ حالیہ فیصلے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے تک کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کے باعث شہری مہنگائی کی ایک نئی لہر کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ خوراک، زراعت، صنعت اور روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کر دیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں اس کے بعد صنعتوں اور فیکٹریوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جو بالآخر اس کا بوجھ عام صارفین کو مہنگی اشیا کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقات ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی آمدنی محدود ہوتی ہے جبکہ روزمرہ کے اخراجات مسلسل بڑھتے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے بلکہ لوگوں کی قوتِ خرید میں بھی نمایاں کمی کا سبب بنتا ہے۔

دوسری جانب عوام کی جانب سے شدید ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو "پیٹرول بم” قرار دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے عوام پر معاشی حملہ کر دیا گیا ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے حکومت کو پہلے اپنے اخراجات کم کرنے، سرکاری مراعات ختم کرنے اور ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے جیسے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق جب تک معاشی پالیسیوں میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پیٹرول کی قیمتوں میں ہر نیا اضافہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دیتا رہے گا۔موجودہ صورتحال میں ایک طرف عالمی حالات کے باعث توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی معیشت ایک سخت امتحان سے گزر رہی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر عام شہری پر پڑے گا۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی سپلائی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ چونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل سپلائی روٹس میں شمار ہوتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مقامی مارکیٹ اور معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق تنازع اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔

امریکہ اور ایران کی جنگ کی پاکستان پہنچنے کا خطرہ؟

معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے زیادہ اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں پر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے شہریوں کے روزانہ سفر کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ زراعت کے شعبے میں کھاد، آبپاشی اور فصلوں کی ترسیل کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی طرح صنعتی شعبے میں پیداوار کی لاگت بڑھنے کے باعث مارکیٹ میں اشیا کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جس سےمزید لاکھوں نہیں کروڑوں پاکستانی خط غربت سے نیچے جا سکتے ہیں۔

Back to top button