شوہر بیوی کو حق مہر میں لکھی تمام چیزیں دینے کا پابند ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاہے کہ شوہر حق مہر میں لکھی گئی تمام چیزیں بیوی کو دینے کا پابند ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں جہیز اور حق مہر کیسز کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
دوران سماعت وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا حق مہر میں 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے، میرا موکل 20 تولہ ادا کرنے کو تیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 20 تولہ سے اور بڑھائیں تو شاید خاتون تصفیہ پر آمادہ ہو جائے، عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
سپریم کورٹ کا ایک جج عوام کو کتنے لاکھ روپے میں پڑتا ہے؟
چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس میں کہا کہ عورت کے ساتھ جب شادی کرتے ہیں تو نکاح نامے کے تحت ادائیگی لازم ہے، شوہر حق مہر میں لکھی تمام چیزیں اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہے۔
بعدازاں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق مختلف درخواستیں خارج کر دیں۔
