میں 5۔2 ارب کی منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں: اداکار حمزہ عباسی

 

 

 

ماضی میں عمران خان کے قریب ترین ساتھی سمجھے جانے والے معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف ڈھائی ارب روپے کے منی لانڈرنگ کیس سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اُن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، لہٰذا ان کا نام اس کیس کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

 

دوسری جانب ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد ان کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے بھاری رقوم امریکہ اور دبئی منتقل کیں، جبکہ ان کے 22 بینک اکاؤنٹس میں تقریباً ڈھائی ارب روپے کے ٹرانزیکشنز سامنے آئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایف بی آر میں فضیلہ کی ظاہر کردہ آمدن چند لاکھ روپے سالانہ بتائی گئی، جس کے باعث شکوک میں اضافہ ہوا۔ تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ شدہ رقم تین ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اس بات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ آیا اس معاملے میں دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

 

اداکار حمزہ علی عباسی کا نام اس کیس میں اس لیے زیر بحث آیا کیونکہ وہ ملزمہ ڈاکٹر فضیہ عباسی کے بھائی ہیں اور ماضی میں سیاسی طور پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کافی متحرک بھی رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں حمزہ عباسی نے کہا کہ اس کیس کی کوریج کے دوران یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید وہ بھی اس میں ملوث ہیں، حالانکہ وہ کسی تفتیشی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکی بہن ایک تجربہ کار پروفیشنل ڈرماٹالوجسٹ ہیں جن کا کیریئر کامیابیوں سے بھرپور ہے، انکا کہنا تھا کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنی بہن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فضیلہ کا مؤقف بھی سنا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کا موقع ملنا چاہیے۔

 

یاد رہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی معروف سوشل میڈیا شخصیت بھی ہیں جو طویل عرصے سے شعبہ طب سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کنگز کالج لندن سے کلینیکل ڈرماٹولوجی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 2003 سے پریکٹس کر رہی ہیں۔ وہ اسلام آباد، دبئی اور لندن میں اپنے بیوٹی کلینکس چلاتی ہیں اور ٹی وی شوز میں بطور ماہرِ جلد شرکت کرتی رہی ہیں۔ادھر حمزہ علی عباسی نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ پاکستانی تفتیشی ادارے اس معاملے میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنائیں گے اور سچ جلد سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی طور پر اس کیس میں فریق نہیں، اس لیے ان سے اس حوالے سے کسی تبصرے کی توقع نہ رکھی جائے۔

 

یاد رہے کہ حمزہ علی عباسی ماضی میں تحریک انصاف سے وابستہ رہے ہیں اور پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ وہ پارٹی کے سیکرٹری کلچر بھی رہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دوسری جانب عدالتی پیش رفت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور ڈھائی ارب روپے کے لین دین کے مقدمے کو خارج کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے جس کے بعد ان کی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

عدالت کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ایف آئی اے نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں۔

جسٹس خادم حسین نے ایف آئی اے کو شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت ڈاکٹر فضیلہ کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی، تاہم اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کو غلط طریقہ کار اپنانے پر غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

پاک فوج کا افغانستان کے 12 کلومیٹر سرحدی علاقے پر قبضہ

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں، جبکہ ایف بی آر حکام کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ اختیار بھی دیا کہ اگر الزامات ثابت نہ ہوں تو اکاؤنٹس فوری طور پر ڈی فریز کیے جائیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ کے خلاف یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 22 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی مشکوک مالی سرگرمیاں انجام دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے نہ صرف مالی بلکہ سیاسی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Back to top button