سابق انگلینڈ کپتان نے ICC کا دہرا معیار کیسے بے نقاب کیا؟

پاکستان اور بنگلہ دیش کے بعد اب دیگر ممالک کے کھلاڑی بھی آئی سی سی کی بھارت نواز پالیسیوں پر کھل کر سوالات اٹھانے لگے ہیں۔ سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کو آؤٹ کرنے کے آئی سی سی کے فیصلے کو نہ صرف شدید تنقید کا نشانہ بنایا، بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اقدامات کو دوہرے معیار کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کے موقف کی تعریف بھی کی۔ ناصر حسین نے سوال اٹھایا کہ اگر انڈیا نے بنگلہ دیش کی جگہ ایونٹ میں مقام یا شرائط تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہوتا، تو کیا آئی سی سی برابری کے اصول کے تحت اسی طرح فیصلہ کرتی؟ ناصر حسین کے انٹرویو نے سوشل میڈیا پر آگ لگا دی ہے جس کے بعد جہاں بھارت میں صف ماتم بچھ چکی ہے وہیں دوسری جانب عالمی کرکٹ شائقین اورسابق کھلاڑی سوشل میڈیا پر کرکٹ، سیاست اور آئی سی سی کے کردار پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ آئی سی سی کی بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی تنازعات سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔ بنگلہ دیش نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار کیا، جس پر آئی سی سی نے وینیو تبدیل کرنے کی بجائے بنگلہ دیش کو ہی ٹورنامنٹ سے آؤٹ کر کے اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد پاکستان نےآئی سی سی کے تمام تر دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے انڈیا کے خلاف اپنا میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ سابق انگلش کپتان ناصر حسین کا آئی سی سی کے فیصلوں کی وجہ سے سامنے آنے والے اس بحران پر بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش نے ایک "مضبوط اور درست” موقف اپنایا ہے۔ ان کے مطابق، اگر انڈیا نے بنگلہ دیش کی جگہ مقام یا شرائط تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہوتا، تو آئی سی سی کیا فیصلہ کرتی؟ ناصر حسین نے واضح کیا کہ آئی سی سی کو تمام ٹیموں کے ساتھ برابری کے اصول کے تحت پیش آنا چاہیے۔ ناصر حسین کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے اچانک سے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض کو سیاسی دباؤ کی وجہ سے آئی پی ایل سے باہر کرنے پر یقین ہو گیا تھا کہ کرکٹ میں سیاست آ گئی ہے۔‘ناصر حسین کا بھارت کی جانب سے کرکٹ میں بڑھتی سیاسی مداخلت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہنا تھا کہ "کبھی آپ ہاتھ نہیں ملاتے، کبھی ٹرافی نہیں لیتے۔ اگر بھارت کا ردعمل پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ایسا ہی رہا تو کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔”
ناصر حسین کے بیانات کے ساتھ، دیگر سابق انگلش کرکٹرز نے بھی آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے اقدامات پر سوال اٹھانا شروع کر دئیے ہیں، انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جے شاہ کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل، انڈیا اور بی سی سی آئی کے حق میں جانبداری کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ میچ کے وینیو کی تبدیلی کا بنگلہ دیش کا مطالبہ بالکل جائز تھا، کیونکہ چیمپئنز ٹرافی 2025 کے دوران انڈیا کو غیر جانبدار مقام پر کھیلنے کی رعایت دی گئی تھی۔ ایتھرٹن کا مزید کہنا تھاکہ اصل صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں چیمپئنز ٹرافی 2025کے وقت پر واپس جانا ہوگا، جب میزبان ملک ہونے کے باوجود بھارت پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکاری ہو گیا تھا جس پر اسے اجازت دی گئی کہ وہ اپنے تمام میچ دبئی میں کھیلے۔ ان کے مطابق، یہ خصوصی رعایت ماضی میں کسی بھی ٹیم کو نہیں دی گئی تھی، جنہوں نے بین الاقوامی میچوں سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب مستفیض الرحمان کے معاملے نے جنم لیا اور بنگلہ دیش نے کہا کہ حکومت کی ہدایت ہے کہ وہ انڈیا نہیں جا سکتے، تو وہ بھی اسی طرح کے برابری کے اصول کے تحت میچ کے وینیو کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم بنگلہ دیش کے معاملے میں آئی سی سی نے وینیو تبدیل کرنے کی بجائے بنگلہ دیش کو ہی ایونٹ سے آؤٹ کر دیا۔ ایتھرٹن کے مطابق یہ سب معاملات الگ الگ نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہیں: چیمپئنز ٹرافی کے فیصلے سے شروع ہو کر مستفیض الرحمان کے معاملے تک، اور پھر بنگلہ دیش اور پاکستان کے اقدامات تک، سب کے پیچھے ایک مکمل پس منظر موجود ہے جو عالمی کرکٹ میں برابری اور انصاف کے اصول کو اجاگر کرتا ہے۔
اسی طرح اپنے ایک انٹرویو میں انگلینڈ کے سابق کھلاڑی مارک بُچر کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی جانبدارانہ پالیسیوں سے صرف بنگلہ دیش اور پاکستان ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ان کا خمیازہ بھارت اور آئی سی سی کو بھی مالی بحران کی صورت میں بھگتنا پڑے گا کیونکہ شیڈول کے مطابق پاک بھارت میچ نہ ہونے کی وجہ سے آئی سی سی اور شریک میزبان انڈیا کیلئے ایک سنگین مالی اور انتظامی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ناصر حسین کا انٹرویو سوشل میڈیا پر خوب وائر ہو رہا ہے اور کرکٹ شائقین نے آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کو نشانے پر لے رکھا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں انڈیاانٹرنشنل کرکٹ ایونٹس میں ہمیشہ اپنی مرضی چلاتا رہا ہے اور باقی ٹیموں کو اپنی پالیسی کے مطابق ایڈجسٹ کرواتا رہا ہے، لیکن اس مرتبہ پاکستان نے سخت موقف اختیار کر کے نہ صرف بھارتی جارحیت اور بے تکی اور غیر شفاف پالیسیوں کے آگے بندھ باندھ دیا ہے بلکہ عالمی کرکٹ میں شفافیت اور مساوات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پیدا ہونے والے حالیہ تنازعات ظاہر کرتے ہیں کہ آئی سی سی کے فیصلوں میں شفافیت اور برابری کا فقدان ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش نے مضبوط موقف اختیار کر کے یہ کر دکھایا ہے کہ کرکٹ کو سیاست کے دباؤ سے الگ رکھا جا سکتا ہے،ناقدین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا آئی سی سی اپنی پالیسی میں اصلاحات کرے گی یا ہمیشہ مخصوص طاقتوں کے حق میں فیصلے کرتی رہے گی۔
