اگر انڈیا ٹرافی ٹور لداخ لیجا سکتا ہے تو آزاد کشمیر لیجانا بھی جائز ہے؟

انڈین میڈیا کے پراپیگنڈے کے جواب میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چیمپئینز ٹرافی کا شیڈول اور ٹور کا روٹ آئی سی سی کا منظور کردہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرافی ٹور کا روٹ اور شیڈول آئی سی سی کے مشورے اور مرضی سے فائنل ہوا،آئی سی سی خود روٹ اور شیڈول فائنل کرنے کے بعد کیسے اعتراض کر سکتا ہے؟
باخبر ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ماضی میں شیڈول اور ٹرافی ٹور کا روٹ فائنل ہونے کے بعد کبھی تبدیل نہیں کیا گیا، ویسے بھی انڈیا پاکستان آنے سے انکار کے بعد ٹرافی ٹور پر کیسے اعتراض کر سکتا ہے؟ ذرائع کے بقول جو ملک پاکستان آنے سے انکاری ہو اس کا اعتراض کیسے جائز ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی ٹور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان لے کر جا رہا ہے تو وہ بالکل جائز ہے کیونکہ اس پر اعتراض اس لئے نہیں ہو سکتا کہ گزشتہ سال 2023 کاورلڈ کپ جو انڈیا میں ہوا تھا اس کے ٹرافی ٹور کو بھارت متنازع علاقے لداخ لے کر گیا تھا اس لئے بھارت کا ٹرافی ٹور آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان لے جانے پر اعتراض ناجائز ہے۔
چیمپئنز ٹرافی: آئی سی سی نے بھارت سے پاکستان نہ آنے کی تحریری وجوہات طلب کرلیں
خیال رہے کہ پاکستان میں آئی سی سی چیمینز ٹرافی ٹور کا شیڈول 16 سے 24 نومبر تک کا ہے،روٹ میں اسلام آباد، ہنزہ، گلگت، مری اور مظفر آباد شامل ہیں۔
