ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو پاکستان کس کا ساتھ دے گا؟

 

 

 

اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی وقتی طور پر کم ضرور ہوئی ہے، لیکن اگر یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے اور امریکہ پھر سے ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کس کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اسلام آباد مذاکرات میں تعطل کے بعد پاکستان کی جانب سے اپنے فوجی دستے اور جنگی جہاز سعودی عرب بھجوا دیے گئے ہیں جس کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے۔

 

پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے ایک ائیر فورس سکوارڈن کی شاہ عبدالعزیز ائیر پورٹ پر تعیناتی کے بعد اب پاکستان محض ایک ثالث نہیں رہا بلکہ خطے کی سیکیورٹی کا ایک فعال حصہ بھی بن گیا ہے۔ یہ تعیناتی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے تسلسل کا حصہ ہے، مگر اس کے مضمرات ایک ممکنہ جنگ کی صورت میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یہ تنازع تیزی سے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں پاکستان کو بیک وقت امریکہ اور اس کے اتحادیوں، خصوصاً سعودی عرب، ایران، اور داخلی سیاسی و عوامی دباؤ جیسے کئی محاذوں کا بہ یک وقت سامنا ہو گا۔

 

مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی میں خطے میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جن میں سعودی عرب سرِ فہرست ہو گا، ایسی صورت میں پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو جائے گا خصوصا جب اس نے سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاع کا معاہدہ کر رکھا ہے اور یہ طے ہوا تھا کہ دونوں ملکوں میں سے کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور پاکستانی فوجی دستوں اور جنگی جہازوں کی حالیہ تعیناتی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم ایران اگر دوبارہ سعودی عرب کو نشانہ بناتا ہے تو پاکستان پر عملی طور پر اپنے اتحادی کے دفاع میں کھڑا ہونا پڑے گا خصوصا جب اس کے فوجی دستے اور جنگی جہاز سعودی ملٹری کمانڈ کے احکامات کے پابند ہوں گے۔

 

اس تناظر میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یمن میں موجود حوثی باغی اس تنازع میں سرگرم ہو سکتے ہیں اور سعودی عرب پر حملے تیز کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کا کردار براہِ راست ایران کے خلاف فریق کا بن جائے گا۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط اور سیکیورٹی تعاون موجود ہے۔۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے اور وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہے گا جو پاکستان کو کھل کر مخالف کیمپ میں دھکیل دے، اسی لیے اب تک دونوں ممالک نے تعلقات میں ایک محتاط توازن برقرار رکھا ہے۔ اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ایرانی وفد سے ملاقاتوں میں پاکستانی حکام نے ایرانی حکام سے ریکویسٹ کی ہے کہ وہ مستقبل میں سعودی عرب پر حملوں سے گریز کریں۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان کو کوئی گارنٹی نہیں مل سکی۔

 

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کو ایسی مشکل صورتحال کا سامنا ہو۔ 2015 میں یمن جنگ کے آغاز پر سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد طلب کی تھی، مگر پاکستانی پارلیمان نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے نے وقتی طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کیا، لیکن پاکستان کو ایک بڑی علاقائی جنگ میں الجھنے سے بچا لیا۔ موجودہ صورتحال میں فرق یہ ہے کہ حالیہ دفاعی معاہدوں اور فوجی تعیناتیوں نے پاکستان کے لیے مکمل غیر جانبداری کا راستہ نسبتاً مشکل بنا دیا ہے۔

 

ادھر نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہنا اس کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یہی کردار پاکستان کے لیے ایک کڑا امتحان بھی بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے ممکنہ حکمتِ عملی یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ ایک طرف سفارتی کوششوں کو جاری رکھے اور مذاکرات کی بحالی میں کردار ادا کرے، دوسری طرف براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرے، خاص طور پر ایران کے خلاف، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعاون کو ایک محدود اور محتاط دائرے میں رکھے۔

 ایران اور امریکہ کے مذاکرات کن مطالبات کی وجہ سے ناکام ہوئے؟

تاہم یہ طے ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو پاکستان ایک نہایت نازک توازن کی پوزیشن میں ہو گا، جہاں ایک طرف اس کے سٹریٹیجک اتحادی ہوں گے اور دوسری طرف ایک حساس ہمسایہ۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہو گا کہ وہ جنگ کا باقاعدہ فریق بنے بغیر اثرانداز بھی رہے، اور یہی وہ باریک لکیر ہے جس پر آئندہ عرصے میں اس کی خارجہ پالیسی کو چلنا ہو گا۔

Back to top button