پاکستان ورلڈ کپ نہ کھیلا تو ICC  کا جنازہ کیوں اٹھ جائے گا؟

 

 

 

 

وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والے اشاروں سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو انڈیا کی میزبانی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت نہ مل سکے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو ایونٹ میں شرکت کی اجازت دی بھی جاتی ہے تو امکان یہی ہے کہ اسے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دونوں صورتوں میں کرکٹ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ معاشی نقصان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو اٹھانا پڑے گا، جس کی قیادت اس وقت بھارتی کرکٹ بورڈ کے طاقتور سربراہ جے شاہ کے ہاتھ میں ہے۔

 

یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی درخواست اور پاکستان کے اصرار کے باوجود آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی اپنے میچز انڈیا کی بجائے کسی اور ملک میں کروانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ورلڈ کپ کا حصہ بنا لیا ہے۔ آئی سی سی کے اس فیصلے کو ناقدین عالمی کرکٹ کے تجارتی توازن کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی ورلڈ کپ میں عدم شمولیت یا بھارت کے خلاف میچ نہ ہونے کی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو جو نقصان ہوگا، وہ معمولی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط اس کے کاروباری ماڈل کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔

 

یاد رہے کہ آئی سی سی کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ٹی وی نشریاتی حقوق ہیں اور یہی وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کی غیر موجودگی سب سے بڑا خلا پیدا کرے گی۔ عالمی سطح پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کرکٹ مقابلوں میں پاک بھارت میچ سرفہرست ہے، اور یہی میچ براڈکاسٹرز، اسپانسرز اور آئی سی سی کے لیے سونے کی چڑیا سمجھا جاتا ہے۔

کرکٹ مبصرین کے مطابق اگر پاکستان ایونٹ میں شامل نہیں ہوتا یا بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتا تو آئی سی سی کو تین سو ملین ڈالرز سے لے کر پانچ سو ملین ڈالرز تک کا مالی خسارہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

 

محتاط اندازوں کے مطابق صرف ایک پاک بھارت میچ کے ختم ہونے سے اشتہارات کی مد میں آئی سی سی کو ایک سو سے ڈیڑھ سو ملین ڈالرز تک کے براہ راست نقصان کا خدشہ ہے۔ یہ نقصان صرف براڈکاسٹنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سپانسرشپس، مارکیٹنگ معاہدوں اور مستقبل کے میڈیا رائٹس کی قدر بھی بری طرح متاثر ہو گی۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے بڑے عالمی سپانسرز، جن میں پیپسی، کوکا کولا، ایمریٹس اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیاں شامل ہیں، اپنی سرمایہ کاری بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کی مارکیٹ کو سامنے رکھ کر کرتی ہیں۔ پاکستانی ٹیم کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں عدم موجودگی میں ان سپانسرز کی رسائی محدود ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں نہ صرف موجودہ معاہدوں کی مالیت کم ہو سکتی ہے بلکہ مستقبل کے معاہدے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

 

اسی طرح ورلڈ کپ میچز کے ٹکٹوں کی فروخت، میزبان ملک میں سیاحت، ہوٹلنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو بھی شدید دھچکا لگنے کا امکان ہے، کیونکہ پاکستان کے میچز، خصوصاً بھارت کے خلاف، ہمیشہ سٹیڈیم کو مکمل طور پر بھر دیتے ہیں۔

کرکٹ ماہرین اس جانب بھی توجہ دلا رہے ہیں کہ اگر پاکستان جیسا بڑا ریونیو جنریٹرنگ ملک عالمی ایونٹس سے باہر رہا تو آئی سی سی کی مجموعی کمرشل ویلیو میں تیس فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو دنیا کی دوسری یا تیسری بڑی کرکٹ مارکیٹ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی غیر موجودگی عالمی کرکٹ کی کشش کو نمایاں طور پر کم کر دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ براڈکاسٹرز اور سپانسرز اس ممکنہ بائیکاٹ پر شدید تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

بنگلہ دیش کوورلڈکپ سےباہرنکالنےپرشاہدآفریدی کی آئی سی سی پرتنقید

اس صورتحال میں آئی سی سی کے موجودہ سربراہ جے شاہ کی ساکھ بھی شدید دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ناقدین ان پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو عملی طور پر بھارتی مفادات کے تابع کر دیا ہے اور عالمی ادارے کو ایک غیر جانبدار تنظیم کے بجائے انڈین کرکٹ کونسل کی شکل دے دی گئی ہے۔ پاکستان جیسے بڑے اور اہم رکن کو نظرانداز کرنا، کمزور ٹیموں کو ترجیح دینا اور ایونٹس کو بھارتی نشریاتی و تجارتی مفادات کے مطابق ڈھالنا ان الزامات کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق اگر بھارت کی میزبانی میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کی جگہ یوگنڈا یا کسی اور کمزور ٹیم کو بھارت کے مدمقابل میدان میں اتارا گیا تو نہ صرف سٹیڈیم خالی رہیں گے بلکہ ٹی وی سکرینوں پر بھی ناظرین کی تعداد انتہائی کم ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں عالمی ایونٹ اپنی وقعت کھو بیٹھے گا اور براڈکاسٹرز کو شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی خدشات ہیں جن کے باعث پاکستان کی ممکنہ عدم شمولیت پر بھارتی میڈیا میں بے چینی اور سخت ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ورلڈ کپ سے باہر رہنا یا بھارت کے خلاف میچز نہ کھیلنا عالمی کرکٹ کی معیشت، ساکھ اور مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے تباہ کن اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

Back to top button