پاکستان کو بچانا ہے تو امیروں سے نفرت کی پالیسی کیوں بدلنا ہو گی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف 12 لوگ ایسے ہیں جن کی دولت 10 ارب روپے سے زائد ہے لیکن ہم ان کو بھی چور اور ڈاکو قرار دے کر ملک سے بھگانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان ارب پتیوں سے نفرت کرنے کی بجائے انہیں عزت دینی چاہیے تاکہ ان جیسے اور بھی پاکستان چھوڑنے کی بجائے واپس آنے کا سوچیں تاکہ پاکستانی معیشت مضبوط ہو سکے۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم اگر کسی دن ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو ہمیں ماننا ہو گا کہ ہم بحیثیت قوم اینٹی بزنس اور اینٹی پراگریس ہیں‘ ہم کام یاب لوگوں سے نفرت کرتے ہیں‘ پوری دنیا میں کام یاب لوگوں کی تعریف ہوتی ہے‘ انھیں ایوارڈز دیے جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں انھیں ذلیل کیا جاتا ہے‘ ہم اینٹی پراگریس بھی ہیں‘ آپ کسی جگہ سڑک‘ ڈیم یا سکول بنانا شروع کر دیں تو مقامی لوگ ڈنڈے لے کر آ جائیں گے‘ اس کے بعد عدالت سے بھی سٹے آرڈر آ جائے گا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آج بھی پوری ریاست بزنس مینوں کو چور سمجھتی ہے‘ یہ انھیں پیسے کا پجاری اور لٹیرا کہتی ہے چناں چہ پھر کام کیسے ہو گا؟ ملک آگے کیسے بڑھے گا؟ آپ اس کے مقابلے میں انڈیا چلے جائیں‘ آپ کو اپروچ میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ بھارت میں آج بھی 334 ارب پتی ہیں، اگر ان کی دولت ایک بلین ڈالر بھی ہو تو یہ بھارتی روپوں میں 80 ارب اور پاکستانی میں 280 ارب روپے ہو گی، جب کہ پاکستان میں صرف 12 لوگ ہیں جن کی دولت 10 ارب روپے سے زیادہ ہے لہٰذا آپ خود اندازہ کر لیجیے گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا‘ آپ ان سے کیا وصول کر لیں گے؟ آپ اگر ان 12 لوگوں کی ساری دولت بھی ضبط کرلیں تو بھی ریاست کے سر درد کی ایک گولی نہیں آئے گی۔
اب سوال یہ ہے اس کا حل کیا ہے؟ جاوید چوہدری کہتے ہیں حل بہت سادہ ہے‘ ہمیں چاہیئے کہ ہم سرکار کا بوجھ کم کریں ‘ جتنے محکمے ہیں اتنی ہی رکاوٹیں ہیں ‘ بزنس کے راستے کی رکاوٹیں ختم کر دیں‘ کسی بھی شخص کو کام کرنے کے لیے ایک سرٹیفکیٹ سے زیادہ کی ضرورت نہ ہو اور وہ بھی آسانی سے مل جائے‘ کاروبار کے شروع میں ٹیکس میں رعایت دیں اور پھر آہستہ آہستہ ٹیکس بڑھاتے چلے جائیں۔
جاوید مذید کہتےہیں کہ لوگ اپنے اثاثے اور دولت جتنی ڈکلیئر کرتے جائیں انھیں اتنی ہی سہولت ملتی جائے، اگر دولت ڈکلیئر ہو گی تو پھر یہ استعمال بھی ہو گی اور اگر یہ استعمال ہو گی تو پھر سرکار کو ٹیکس ملے گا‘ لوگوں نے اگر اسے ڈالر یا سونے یا کرنسی کی شکل میں دفن کر رکھا ہے تو ریاست کو کیا فائدہ؟۔ اسکے علاوہ سرکار۔کو چاہئے کہ بزنس مینوں کے تمام مقدمے فوری طور پر نبٹا دیں، اگر انھوں نے فراڈ کیا ہے تو انھیں سزا دیں اور فائل بند کر دیں اور اگر ان کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اس کا ازالہ کر دیں تاکہ یہ لوگ کام کر سکیں‘ ہم جب لوگوں کا بہترین وقت سرکاری برآمدوں‘ عدالتوں اور جیلوں میں ضائع کر دیں گے تو پھر ملک آگے کیسے بڑھے گا‘ یہ کیسے چلے گا؟ آخری مشورہ یہ ہےکہ جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں آپ انھیں کچھ نہ دیں لیکن کم از کم عزت تو دے دیں۔ انھیں گاڑیوں کی آسان سیریز دے دیں‘ ان کا پراپرٹی ٹیکس معاف کر دیں یا پھر پراپرٹی کی خریدوفروخت میں سہولت دے دیں یا انھیں فیکٹری یا کمرشل پلاٹ قسطوں میں دے دیں‘ آپ انھیں کسی قسم کی عزت تو دیں‘ آخر ہم کب تک ان کی خدمات کا اعتراف جوتوں کی شکل میں کرتے رہیں گے۔ پلیز بزنس مینوں کو عزت دیں ورنہ 25 کروڑ لوگوں میں سے صرف 12 ہی سامنے آئیں گے، باقی دوسرے ملکوں میں بس جائیں گے۔
