باغی اراکین مان بھی جائیں تو عمران کا اقتدار کیوں نہیں بچتا؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے اور پھر تحریک انصاف میں بغاوت کے بعد سے فلور کراسنگ ملک بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

عمران خان اپنی پارٹی کے منحرف اراکین پر اپوزیشن سے پیسے لینے کا الزام بھی عائد کر رہے ہیں

اور ساتھ میں انہیں بطور باپ معافی دینے اور پارٹی میں واپس آنے کی آفر بھی کر رہے ہیں۔

حکومتی وزراء بھی مسلسل منحرف اراکین کی واپسی کے دعوے کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کی یہ کوشش کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ وزیر اعظم کے لئے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنے باغی اراکین کو منا بھی لیں تو انکی اتحادی جماعتیں ان کا ساتھ چھوڑنے جا رہی ہیں لہذا ان کا اقتدار ہر صورت جاتا دکھائی دیتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری میں جانے کی روایت نئی نہیں ہے بلکہ ہماری سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اراکینِ اسمبلی اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف میں بغاوت کے بعد حکمراں جماعت نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کے اراکینِ اسمبلی کو خریدنے کے لیے اپوزیشن جماعتیں ہر رُکن کو کروڑوں روپیے دے رہی ہیں۔ تاہم منحرف اراکین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ زیادہ تر بااغی اراکین ایک لمبے عرصے سے سے پارٹی کے اندر رہتے ہوئے بھی حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کر رہے تھے۔

حکمراں جماعت نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رُجوع کر لیا ہے تاکہ غیر کین کو وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے سے پہلے ہی نا اہل کروایا جا سکے۔

پاکستانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا آئین تشکیل دیتے وقت ارکانِ اسمبلی کی نااہلی اور برطرفی کو خاصا مشکل بنایا تھا۔ آئین میں ارکانِ اسمبلی کو پارٹی کے خلاف ووٹ دینے سے روکنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ اس کا نقصان خود پیپلز پارٹی کی حکومت کو تب اٹھانا پڑا جب سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف یکم نومبر 1989 کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی۔

ووٹنگ سے قبل ایک جنگ کی سی صورتِ حال تھی اور دونوں جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد ہوئے تھے۔ بعد ازاں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو دوبارہ سے فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ کے معاملات سامنے آئے۔ اس طرح پاکستان میں ’ہارس ٹریڈنگ‘ سیاست کی ایک عام فہم اصطلاح بن گئی جس کا مطلب لالچ اور دھمکی سے اراکین اسمبلی کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانا ہے۔

خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنا کر اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہی تھیں۔ تب پنجاب میں برسراقتدار انکے سیاسی۔مخالف وزیرِاعلیٰ نوازشریف تھے جن پر یہ الزام لگا کہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اُنہوں نے اپنے ارکان اور آزاد ارکان کو لاہور کے قریب واقع چھانگا مانگا جنگل کے ریسٹ ہاؤسز میں چھپا کر رکھا تھا تاکہ حکومتی جماعت ان کی وفاداریاں نہ خرید سکے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے اپنے ارکان اسمبلی کو سوات میں چھپا کر رکھا تھا تاکہ اپوزیشن انہیں توڑ نہ سکے۔

لیکن تب سے فلورکراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ کے لیے چھانگا مانگا کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جو آج بھی زبان زدِ عام ہے۔ فلور کراسنگ کا راستہ روکنے کے لیے 1997 میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے اتفاق رائے سے 14 ویں آئینی ترمیم منظور کی۔ لیکن اس کے باوجود قانونی پیچیدگیوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مشرف دور میں سال 2002 میں پیپلزپارٹی کے اندر شگاف ڈال کر پیپلزپارٹی پیٹریاٹ بنائی گئی اور بے نظیر بھٹو کے اقتدار میں آنے کا راستہ بند کر دیا گیا۔ مشرف کے ایما پر پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین اسمبلی کو توڑ کر حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) میں شامل کروایا دیا گیا تاکہ حکومت سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

سال 2018 میں انتخابات سے قبل اور انتخابات کے بعد آزاد ارکان کے حوالے سے بھی ایسی ہی باتیں سامنے آئیں جن میں آزاد ارکان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کروایا گیا اور اس عمل کو وکٹیں گرانا کہا گیا۔

فلور کراسنگ بارے 1997 میں نوازشریف دور میں جو قانون بنا تھا وہ خاصا سخت تھا اور اس کے مطابق پارٹی سربراہ کو کسی بھی رکن کو فارغ کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ لیکن 18 ویں ترمیم کے بعد اس صورتِ حال میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ 18 ویں ترمیم کے تحت اب پارٹی سربراہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلٰی کے انتخاب، تحریکِ عدم اعتماد، بجٹ اور دیگر اہم آئینی ترامیم کے دوران ووٹ نہ دینے پر پارٹی رُکن کو نااہل قرار دینے کے لیے اسپیکر کو مراسلہ بھیج سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ دینے سے قبل وزیرِ اعظم پارٹی رُکن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا، لہذٰا تحریکِ عدم اعتماد میں رُکن اسمبلی اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔

18 ویں ترمیم کے مطابق پارٹی پالہسی سے انحراف کی صورت میں پارٹی سربراہ رُکن اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کر سکتا ہے جس کا جواب دینے کے لیے وقت کا تعین نہیں ہے۔ تاہم 1997 میں ہونے والی ترمیم میں منحرف رُکن کو نوٹس کا جواب دینے کے لیے سات روز کا وقت دیا گیا تھا۔ شوکاز نوٹس کے جواب میں پارٹی سربراہ اس جواب سے مطمئن نہ ہو تو وہ تحریری طور پر اسپیکر کو آگاہ کرے گاجس کے بعد دو دن کے اندر اسپیکر چیف الیکشن کمشنر کو منحرف رُکن کو ڈی سیٹ کرنے کا کہے گا۔ اگر چیف الیکشن کمشنر اس کی توثیق کردے تو منتخب ممبر اسمبلی رکنیت فوری طور پر ختم ہو جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر کو اس بارے میں 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد منحرف رکن کو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے جہاں عدالت اس کیس کا 90 روز میں فیصلہ کرے گی
۔
کپتان حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے حکومتی اراکین اسمبلی کو پابند کیا جائے گا کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ کے لیے نہیں جائیں گے۔ لیکن اپوزیشن کا موقف یے کہ اراکینِ اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنا غیر آئینی ہو گا کیوں کہ قانون کے مطابق جب تک کوئی شخص عدمِ اعتماد تحریک کی مخالفت یا حمایت نہ کرے اس وقت تک اس آئینی شق کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے وہ کسی رکن کو ووٹ دینے سے روک سکے، اسپیکر کسی کا ووٹ خارج یا مسترد بھی نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی شخص پارٹی سربراہ کے کہنے پر عملی طور پر ووٹ نہیں ڈال دیتا اس وقت تک کسی کی نیت یا گمان پر اسے نااہل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے ووٹ ڈالنے سے روکا جاسکتا ہے۔

موجودہ سیاسی کشیدگی کی ذمے دار حکومت قرار

حکومت نے منحرف ارکان اسمبلی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اور ان ارکان کا مستقبل طے کرنے کے لیے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا یے۔ حکومت نے کورٹ سے رائے طلب کی ہے کہ جب ایک پارٹی کے ممبران واضح طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے بدلے وفاداریاں تبدیل کریں تو ایسی صورت میں ان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔

وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم عدالت سے رہنمائی چاہتے ہیں کہ کیا ایسے ممبران جو اپنی وفاداریاں معاشی مفادات کے لیے تبدیل کریں ان کی نااہلیت زندگی بھر کی ہو گی یا انہیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہو گی؟

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے حکومت اس پر ووٹنگ کروانے میں تاخیر کا مظاہرہ کر رہی ہے جس سے سے سیاسی صورتِ حال روزبروز کشیدہ ہورہی ہے۔ اپوزیشن کی جس تحریک کا فیصلہ قومی اسمبلی کے اندر ہونا چاہیے، حکومت اس پر اثر انداز ہونے کے لیے عدالتوں کا رخ کر چکی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ سے آگے نہیں لے جائیں جا سکتی اور وزیر اعظم کا جانا ٹھہر چکا ہے۔

if rebel members agree why Imran’s power does not survive?

Back to top button