پیر کو بھی قومی اسمبلی میں ایسا ہی ہوا تو دما دم مست قلندر ہوگا

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ہمارے خلاف سازش کر کے آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوئے ہیں، پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں یہی کچھ ہوا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے بطور پی ٹی آئی ورکر پارلیمان کے قانون اور روایات کو اپنے پاؤں تلے روند دیا، تحریک عدم اعتماد کی ریکویزیشن 8 مارچ کو دی گئی تھی اور 14دن میں سپیکر اجلاس بلانے کا پابند تھا، او آئی سی کا اجلاس 22 اور 23مارچ کو تھا۔ پریس کانفرنس کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی ف کے عہدیداران بھی شریک تھے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ 14دن کے اندر اجلاس بلانا قانونی اور آئینی ضرورت تھی،سپیکر کے اس کردار کو تاریخ میں سیاہ الفاظ میں یاد رکھا جائے گا، تعزیت اور فاتحہ خوانی ایوان کی روایت ہے لیکن قانون اور آئین روایت سے بالاتر ہیں۔شہباز شریف نے خبردار کیا کہ اگر پیر کو ہونے والے اجلاس میں اسپیکر نے پھر غیرآئینی، غیرقانونی یا غیرپارلیمانی عمل شروع کیا تو پھر ہم ہر آئینی، قانونی اور سیاسی حربہ استعمال کریں گے تاکہ تحریک عدم اعتماد قانون کے ذریعے آگے چلے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر عمران خان کے ’اسٹوج‘ بن گئے ہیں، میں انہیں خبردار کرتا ہوں کہ اگر پیر کے روز انہوں نے یہ حکرت کی تو پھر ہم سے کوئی نہ پوچھے اور اپنے حق کی حفاظت کریں گے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم مقابلے سے بھاگ رہے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی عمران خان کے سہولت کار بن کر آج کی تاریخ سے بھاگے ہیں، اس سے پہلے انہیں 14دن کے اندر تحریک پر اجلاس بلانا چاہیے تھا، اس سیشن سے بھی وہ بھاگے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر وہ حرکت اور حربہ استعمال کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے یہ بھاگ سکیں، آپ کے سامنے پاکستان کی ساری اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور ہم عمران کو بھاگنے نہیں دیں گے، آپ کا بزدل وزیراعظم کب تک بھاگ سکتا ہے، مقابلہ ہو گا اور عدم اعتماد ہمارا جمہوری ہتھیار بننے والی ہے جس کا استعمال کر کے ہم سلیکٹڈ اور غیرجمہوری شخص سے جمہوریت کا انتقام لیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسعد الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آج بھی اسپیکر بن کر جو بات کی وہ ایک اسپیکر کے بجائے عمران خان کے ذاتی نوکر کی حیثیت سے تھی ، جب سے عدم اعتماد پیش ہوئی ہے تو پارلیمنٹ لاجز، اراکین پارلیمنٹ اور ان کے مہمانوں پر ریاستی دہشت گردی کی جا رہی ہے، اس کے باوجود ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے انہوں نے کسی رکن قومی اسمبلی یا ان کے سربراہان سے معذرت نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں سے اسپیکر قومی اسمبلی سلیکٹڈ وزیراعظم کے لیے پارٹی کے وفد میں شامل ہو کر حکومتی اتحادیوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں، وہ جانبدار ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں اسپیکر کا یہ عمل سیاہ لکھا جائے گا۔
پاکستان کیلئے 30 کروڑ ڈالر قرضے کی منظوری
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ آج اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے، اگر حکومت کے پاس اکثریت ہوتی تو وہ آج ان اوچھے ہتھکنڈوں پر عمل نہ کرتے، وہ اپنی اکثریت ثابت کرتے لیکن اکثریت کھونے کی وجہ سے انہوں نے ایک مرتبہ راہ فرار اختیار کی۔ایک سوال کے جواب میں شہبازشریف نے کہا کہ اگر یہ پیر کو پھر دھاندلی کے مرتب ہوتے ہیں تو پھر دمادم مست قلندر ہو گا۔
