بسنت پر جانی نقصان ہوا تو ذمہ دار مریم حکومت ہو گی؟

لاہور میں کئی سالوں کی طویل پابندی کے بعد بسنت کی تیاریاں دوبارہ سے عروج پر ہیں تاہم اس رنگا رنگ تہوار کے دوران اگر تیز دھار ڈور سے ایک بھی انسانی جان ضائع ہوئی تو یہ طے ہے کہ اس کی ذمہ داری براہِ راست مریم نواز کی پنجاب حکومت پر عائد ہو گی۔
یاد رہے کہ نواز شریف کی خواہش پر وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اس روایتی تہوار کو دوبارہ سے منانے کی اجازت دی ہے جس کے بعد شہر بھر میں بسنت کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ چھتوں کی صفائی، پتنگوں کی تیاری، ڈور کی خرید و فروخت اور ثقافتی سرگرمیوں نے لاہور کو ایک بار پھر بسنت کے رنگوں میں ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بسنت کے دوران دھاتی اور کیمیکل لگی ڈور کے باعث گردنیں کٹنے اور قیمتی جانیں ضائع ہونے کے افسوسناک واقعات کے بعد اس تہوار پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اب مریم نواز کی حکومت نے یہ پابندی اٹھاتے ہوئے بسنت منانے کی اجازت دی ہے اور ساتھ ہی اسے محفوظ بنانے کے لیے نئے قوانین بھی نافذ کیے ہیں۔
بسنت پر پابندی کے خاتمے کے بعد حکومت پنجاب نے سرکاری سطح پر بھی یہ تہوار منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت پنجاب کی سرپرستی میں پانچ سرکاری تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں جو لاہور کے مختلف مقامات پر منعقد ہوں گی۔
لاہور کے علاقے چاہ میراں کی گنجان آبادی میں واقع ایک گھر کو ہنگامی بنیادوں پر رہائش اور کام کے قابل بنایا گیا ہے۔ دیواروں پر کیا گیا چُونا ابھی مکمل طور پر خشک بھی نہیں ہوا، مگر گراؤنڈ فلور کے دونوں کمروں میں پتنگ سازی کا سامان، کاغذ اور سینکڑوں گُڈے بکھرے پڑے ہیں۔ عجلت میں کیے گئے بندوبست کے تحت کئی افراد تیزی سے مزید گُڈے بنانے میں مصروف ہیں۔
اس چھوٹی سی ’’پتنگ فیکٹری‘‘ کے ہیڈ کاریگر غفور حسین ہیں جو چند روز قبل اپنی فیملی کے ہمراہ اس گھر میں منتقل ہوئے ہیں۔
فنِ پتنگ سازی کے ماہر غفور حسین بتاتے ہیں کہ وہ 21 سال بعد دوبارہ پتنگ بنا رہے ہیں اور یہ ان کے لیے کسی خوشی سے کم نہیں۔ ان کے مطابق یہ وہی کام ہے جو ان کے باپ دادا کرتے آئے ہیں اور اسی فن میں وہ مہارت رکھتے ہیں۔ غفور حسین کا کہنا ہے کہ پابندی کے دوران انہوں نے مختلف کاروبار آزمائے، حتیٰ کہ ٹھیلہ لگا کر بھی گزارا کیا، مگر کوئی کام مستقل نہ چل سکا۔ پابندی ختم ہونے کے بعد وہ ملتان سے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ لاہور آ گئے۔ ان کے مطابق ان کے بیٹے، بیٹیاں اور اہلیہ سب ہی کاریگر ہیں۔ انہوں نے چار لائسنس حاصل کیے ہیں اور اس وقت روزانہ تقریباً 500 گُڈے تیار کیے جا رہے ہیں۔
پتنگ بازی کی صنعت سے وابستہ افراد حکومت کی جانب سے لائسنس ملنے کے بعد چھ فروری کو ہونے والی بسنت کے لیے پتنگ اور ڈور مہیا کرنے میں دن رات مصروف ہیں۔ تاہم برسوں سے بند اس صنعت کو ازسرِ نو فعال کرنے کے لیے ان کے پاس وقت انتہائی کم ہے۔
غفور حسین کے مطابق گُڈی کا کاغذ تو لاہور سے مل گیا ہے، مگر بانس جو برما سے درآمد ہوتا ہے، اسے کراچی سے منگوانے میں خاصا وقت لگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بسنت کی اجازت کم از کم تین ماہ پہلے مل جاتی تو بہتر تیاری ممکن ہوتی، مگر اب وقت کی کمی کے باعث صورتحال غیر یقینی ہے۔
لاہور انتظامیہ نے آن لائن پورٹل کے ذریعے پتنگ سازوں سے درخواستیں لے کر لائسنس جاری کیے ہیں، تاہم کاریگروں کا کہنا ہے کہ ایک ماہ سے بھی کم وقت میں لاکھوں کی تعداد میں گُڈے اور پتنگ تیار کرنا ناممکن ہے۔ مارکیٹ میں خام مال بھی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس صنعت سے وابستہ ہر شے پر طویل عرصے سے پابندی عائد رہی ہے۔ سیف کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشن پنجاب کے سرپرستِ اعلیٰ استاد جاوید بھٹی، جو خود بھی پتنگ سازی کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ کم وقت کے باعث بسنت پر گُڈا اور ڈور نایاب ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق حکومت کی تاخیر سے اجازت دینے کے باعث سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن بگڑ گیا ہے۔ سب سے کم قیمت گُڈا تقریباً 200 روپے میں ملے گا جبکہ ڈور کی قیمت سات ہزار روپے سے شروع ہو رہی ہے۔ بانس کی قیمت بھی ساڑھے چھ ہزار روپے سے بڑھ کر 24 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جس کے باعث غریب طبقے کے لیے بسنت منانا مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری جانب حکومت پنجاب نے گُڈے اور ڈور کی قیمتوں اور طلب و رسد کے معاملات میں فی الحال مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلعی حکومت کے ایک افسر کے مطابق کم وقت کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کو سمجھتے ہوئے حکومت نے اس مرحلے پر مارکیٹ کو آزاد چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ بسنت کی تیاریوں میں تیزی سے مصروف ہے۔ شہر کو مختلف سکیورٹی زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ریڈ، بلیو اور گرین زون شامل ہیں۔ ریڈ زون میں پتنگ بازی اور متعلقہ سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہو گی، بلیو زون میں محدود اجازت دی جائے گی جبکہ گرین زون میں مخصوص شرائط کے تحت پتنگ بازی کی اجازت ہو گی۔
اندرون لاہور میں موٹرسائیکل سواروں کے لیے خطرات کم کرنے کی غرض سے تین دن تک رکشوں میں مفت سفر کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ آن لائن ٹیکسی سروسز سے بھی مذاکرات جاری ہیں۔ شہر کی اہم شاہراہوں کو مختلف تھیمز کے تحت سجایا جائے گا اور 6 سے 8 فروری تک مقامی تعطیل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
جنید کی دلہن نے انڈین ڈریس ڈیزائنرز کا تیار لباس کیوں پہنا ؟
پنجاب حکومت کی جانب سے غیر ملکی سفارتکاروں کے لیے شاہی قلعہ لاہور میں خصوصی بسنت تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جن میں وزیراعلیٰ مریم نواز مرکزی تقریب کی مہمانِ خصوصی ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی اندرون لاہور میں گھروں کی چھتیں کرائے پر دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور شہری مختلف علاقوں میں بسنت منانے کے لیے چھتیں بک کروا رہے ہیں۔
بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے پنجاب حکومت نے ایک جامع ضابطۂ اخلاق نافذ کیا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق کسی بھی قسم کی دھاتی، نائیلون یا کیمیکل لگی ڈور کے استعمال، تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی ہو گی اور صرف روایتی سوتی ڈور کی اجازت دی جائے گی۔ پتنگ سازی اور فروخت کے لیے لائسنس کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے اور بغیر لائسنس سرگرمیوں پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انتظامیہ کے مطابق بسنت صرف چند مقررہ دنوں اور مخصوص اوقات میں منائی جائے گی جبکہ رات کے وقت پتنگ بازی پر مکمل پابندی ہو گی۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور حساس علاقوں میں اضافی نفری کے ساتھ جدید نگرانی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے، سامان کی ضبطگی اور سخت سزائیں دی جائیں گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے بسنت کو ایک محفوظ تہوار بنایا جائے گا، تاہم شہری حلقوں میں یہ تشویش اب بھی برقرار ہے کہ عملی طور پر ان قوانین پر کس حد تک مؤثر عمل درآمد ہو پائے گا، کیونکہ ایک بھی ناخوشگوار واقعہ اس فیصلے کو ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں لا سکتا ہے۔
