سیاست میں برداشت نہیں کرسکتے تو کوئی اور کام کرلو، صدر آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید

صدر آصف علی زرداری نے عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سیاست میں برداشت نہیں کرسکتے تو کوئی اور کام کرلو۔

صدر آصف علی زرداری نے وہاڑی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو  تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال میں عمران خان کی آوازیں دوبارہ سنائی دینے لگی ہیں، اور سیاست میں برداشت کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا: "اگر نہیں سنبھال سکتے تو کوئی آسان کام کر لو۔”

صدر مملکت نے کہا کہ کسانوں کی مضبوطی اور زرعی شعبے کی ترقی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے لازمی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تمام قسم کی وسائل موجود ہیں، صرف منصوبہ بندی اور عملی سوچ کی کمی ہے۔ زرداری نے کہا کہ قومی ترقی کا انحصار جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور کسانوں کے مفاد میں ہے، اور زراعت ہی پاکستان کے معاشی چیلنجز کا پائیدار حل ہے۔

عمران خان کے اندھے پن کے ڈرامے کا ڈراپ سین کیسے ہوا؟

صدر نے ججز کی تنخواہوں میں تین گنا اضافہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر کام سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اس کی شہ رگ سمجھتا ہے اور کسی بھی صورت میں سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، جبکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔

آصف علی زرداری نے حکمرانی میں لچک، سیاسی بلوغت اور تعاون کو اہم قرار دیا، اور کہا کہ سیاسی تعاون تنہا پسندانہ رجحانات کو روکتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان اور سندھ کے حالات کے حوالے سے کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہیں لیکن مکمل بہتری میں وقت لگے گا، اور پنجاب میں حکومت نہیں ہونے کے باوجود کے پی کی اپنی الگ سوچ ہے۔

عمران نے بینائی کے معاملے پر لوگوں کو ماموں کیسے بنایا؟

صدر نے غیر مستقیم طور پر عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک ایک سال رک جائے تو دس سال پیچھے چلا جاتا ہے، اور اس شخص کی روزانہ تقریروں کی عادت نے ملک میں خلل پیدا کیا۔ انہوں نے اپنے 14 سال قید کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تکالیف برداشت کرنا زندگی کا حصہ ہے، اور سیاست میں آنے والے ہر شخص کو یہ برداشت کرنا ہوگی۔

انہوں نے آخر میں نوجوانوں کو نصیحت کی: "اگر سیاست برداشت سے باہر ہے تو کوئی اور آسان کام اختیار کرو، سیاست ایک شعبے کی محدود نہیں، ہر شعبہ اس میں آتا ہے۔”

Back to top button