آئینی عدالت میں بھاری تنخواہوں پر خلاف قانون بھرتیاں شروع

27ویں آئینی ترمیم کے بعد آئین کی تشریح کے لیے حال ہی میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت میں قواعد کی عدم موجودگی کے باوجود 8 افسران کی بھاری تنخواہوں کے ساتھ اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کی منظوری تنقید کی زد میں ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی منظوری سے تخلیق کیے گئے آٹھ نئے عہدوں پر تعینات بعض افسران کو 15 سے 20 لاکھ روپے ماہانہ کا پیکج دیا گیا ہے، جو تقریباً ایک ہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ کے برابر ہے۔ قانونی حلقوں نے وفاقی آئینی عدالت میں قواعد وضوابط کی عدم موجودگی کے باوجود نئے عہدوں پر کی گئی تقرریوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے دئیے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق قواعد کی تشکیل سے قبل آئینی عدالت میں بھاری تنخواہوں پر کی گئی تقرریاں بلا جواز ہیں۔ چیف جسٹس کو فوری ان تقرریوں کو منسوخ کردینا چاہیے۔

خیال رہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 208 کے تحت کی گئی تقرریوں میں بعض ملازمین کو وفاقی حکومت کا سپیشل پروفیشنل پے سکیل دیا گیا گیا۔ چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی منظوری سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق آئینی عدالت میں 8 سینئر عہدے تخلیق کیے گئے ہیں، جن میں ایک عہدہ 22 گریڈ کا ہے جبکہ 21ویں گریڈ کے 7 عہدے شامل ہیں جبکہ تخلیق کئے گئے تمام عہدوں پر تعیناتی ایس پی پی ایس یعنی سپیشل پروفیشنل پے سکیل کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور ایس پی پی ایس۔I کے تحت نو تعینات افسران کی تنخواہ کا پیکیج 15 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی عدالت میں قواعد کی عدم موجودگی کے باوجود تخلیف کئے گئے نئے عہدوں میں رجسٹرار وفاقی عدالت کو 22واں گریڈ اور ایس پی پی ایس ون پیکج دیا گیا ہے جبکہ ان کے علاوہ سیکریٹری ٹو دی چیف جسٹس اور ایڈیشنل رجسٹرار کو گریڈ 21 جبکہ ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے کیلئے گریڈ 20،اسسٹنٹ رجسٹرار کیلئے گریڈ 19، سینئر پرائیویٹ سیکریٹریز کیلئے گریڈ 20، ریسرچ اینڈ ریفرنس آفیسرز کیلئے گریڈ 19 مختص کیا گیا ہے اس کے علاوہ گریڈ 2 سے گریڈ 16 تک کے سینئر اسسٹنٹس، کلرکس، ڈرائیورز، دفتر ی، قاصد اور صفائی ستھرائی کے عملے سمیت  مختلف عہدے بھی تخلیق کئے گئے ہیں جبکہ کئی عہدوں کی متعدد اسامیوں پر تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

تاہم سروس قوانین سے واقف سینئر وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت نے تاحال آرٹیکل 208 کے تحت کوئی قواعد وضع نہیں کیے، لہٰذا آئینی عدالت قانوناً صرف سپریم کورٹ کے اُن قواعد پر عمل کر سکتی ہے، جو سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کی تقرری سے متعلق ہیں۔ آئینی عدالت نے بعض افسران کو سپیشل پروفیشنل پے سکیل دینے کی منظوری دے دی ہے حالانکہ سپریم کورٹ کے قواعد میں اس حوالے سے کوئی مماثل شق موجود نہیں، جس کی وجہ سے آئینی عدالت کے افسران و ملازمین کی ملازمت کی شرائط و ضوابط کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والوں کے لیے 4 قسم کے پے پیکیج موجود ہیں۔ ان میں سب سے پہلے بنیادی پے سکیل شامل ہے، جو تمام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتا ہے، اس کے بعد پروجیکٹ پے سکیل ہے جو حکومتی منصوبوں پر کام کرنے والے افراد کی تنخواہوں پر لاگو ہوتا ہے، اسی طرح تیسرے نمبر پرمینجمنٹ پے سکیل یعنی ایم پی سکیل ہے جو انتہائی تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کے لیے ہے، اس کے بعد ایس پی پی ایس یعنی سپیشل پروفیشنل پے سکیل ہے جسے نجی شعبے کے ماہرین کو راغب کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ جس کے تحت آئینی عدالت میں نئی تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ جس پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ تاہم عدالت کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق نئی تعیناتیوں کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں سپیشل پروفیشنل پے سکیل کو قانونی تقاضوں کی مکمل سمجھ بوجھ کے بغیر شامل کیا گیا تھا جس پر اب نظرثانی زیر غور ہے۔

واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 208 میں تبدیلی کرکے واضح کیا گیا تھا کہ جب تک آئینی عدالت اپنے قواعد وضع نہیں کرتی، سپریم کورٹ کے افسران و ملازمین سے متعلق قواعد اسی طرح آئینی عدالت پر بھی لاگو ہوں گے۔ اس تبدیل شدہ آئینی شق میں درج ہے کہ ’جب تک اس حوالے سے قواعد وضع نہیں کیے جاتے، سپریم کورٹ کے افسران و ملازمین کی تقرری اور ان کی ملازمت کی شرائط و ضوابط سے متعلق قواعد وفاقی آئینی عدالت کے افسران و ملازمین پر بھی اسی طرح لاگو ہوں گے۔ تاہم سپریم کورٹ کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ عدالت کے قواعد میں سپیشل پروفیشنل پے سکیل کے تحت تقرریوں کے لیے کوئی شق موجود نہیں اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ میں ایسے ہائی سلیری ماہرین کی بھرتی  کی اجازت ہے۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن حکام کے مطابق سپیشل پروفیشنل پے سکیل کے تحت تقرریوں کے لیے سخت شرائط عائد ہیں۔ ایس پی پی ایس کی آسامیوں کا تعلق عام سرکاری بیوروکریسی کے بجائے تکنیکی ماہرین سے ہوتا ہے، یعنی سپیشل پروفیشنل پے سکیل صرف ان بہت زیادہ مہارت رکھنے والے تکنیکی ماہرین‘ کو دیا جا سکتا ہےجو مخصوص تکنیکی شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس پی سکیل کو رجسٹرار، سیکریٹریز، ایڈیشنل رجسٹرارز یا معمول کے عدالتی انتظامی افسران کی تقرری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ یہ باقاعدہ سروس رولز کے تحت آتے ہیں۔

عمران کی چوائس اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننا ناممکن کیوں؟

سپیشل پروفیشنل پے سکیل پالیسی کے مطابق، پروفیشنل پی سکیل کے تحت کسی بھی عہدے کی تخلیق سے قبل متعلقہ ڈویژن کو یہ ثابت کرنا ضروری ہوتاہے کہ موجودہ منظور شدہ اسٹاف میں مطلوبہ مہارت موجود نہیں, اس کیلئے تفصیلی ٹی او آرز، جاب ڈسکرپشن اور ٹائم لائنز تیار کی جائیں, اور یہ بھی ثابت کیا جاتا ہے کہ تکنیکی ماہرین کی بھرتی مینجمنٹ یا عمومی سروس اسکیل کے بجائے ایس پی پی ایس میں کیوں ضروری ہے۔ اس پالیسی کے مطابق پروفیشنل پے سکیل کے تحت تعیناتی سے قبل قومی سطح پر آسامیوں کا اشتہار، اندرونی کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال، خصوصی سلیکشن بورڈ کے ذریعے انتخاب اور متعلقہ وزیر یا سیکریٹری کی منظوری لازمی ہوتی ہے جبکہ اس پے سکیل کے تحت تقرریاں کنٹریکٹ پر مبنی ہوتی ہیں، مستقل نہیں، ایس پی پی ایس صرف 2 سالہ کنٹریکٹ کے لیے ہوتا ہے، جس میں توسیع صرف کارکردگی کی بنیاد پر ممکن ہے۔ تاہم آئینی عدالت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ان آسامیوں کو مستقل انتظامی عہدے کے طور پر تخلیق کیا گیا ہے، جو پروفیشنل پے سکیل کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت کے رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت میں نئی آسامیوں کی تخلیق میں کوئی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ آئینی عدالت میں نوتعینات افسران کو پروفیشنل پے سکیل پیکجز ’قانون کے مطابق‘ دئیے گئے ہیں آئین کا آرٹیکل 208 آئینی عدالت کو اپنے انتظامی ڈھانچے کا تعین کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

Back to top button