عمران کی انتشاری سیاست، قریبی ساتھی بھی پیچھے ہٹنے لگے

عمران خان اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے مسلسل حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔عمران خان کا سارا بیانیہ ریاستی اداروں کے ذمہ داران کو ہدف تنقید بنانے کے گرد گھومتا ہے۔ کبھی وہ عسکری قیادت کو سازشی قرار دیتے ہیں تو کبھی ججز کو سخت کارروائی کی دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی وہ پولیس کے اہلکاروں پر عمرانڈوز کے ذریعے حملے کرواتے ہیں اور کبھی پاکستان کے دوست ممالک پر الزام تراشیاں شروع کر دیتے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے مسلسل جھوٹ کی دکان چمکانے کی وجہ سے جہاں تحریک انصاف کے نظریاتی ووٹرز پریشانی کا شکار ہیں وہیں عمران خان کے قریبی ساتھی بھی پیچھے ہٹنے لگے ہیں اور انھوں نے اپنے نئے ٹھکانوں کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دئیے ہیں تاکہ آئندہ الیکشن میں اپنی ٹکٹ اور سیٹ پکی کی جا سکے۔

عمران خان نے وزیراعظم ہوتے ہوئے جس احتجاجی سیاست کا آغاز کیا، گیارہ ماہ گزرنے کےبعد اس تحریک میں شدت پسندی غالب آ چکی ہے۔جس کی وجہ سے عمران خان بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔ان گیارہ ماہ میں جہاں تحریک انصاف کے ورکرز نے بدتمیزی اور بد تہذیبی میں ریکارڈ قائم کئے ہیں وہیں تحریک انصاف کے کئی رہنما منظرعام سے اوجھل ہو چکےہیں۔

14مارچ کے روز بھی جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے پولیس زمان پارک پہنچی تو سینکڑوں عمرانڈوز نے پولیس کا راستہ روکا۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں زخمی، درجنوں گرفتار اور سینکڑوں نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا مقابلہ کیا۔ پولیس کی اس ساری کارروائی کے دوران جب کارکن پولیس تشدد کا سامنا کر رہے تھے تو گزشتہ چار سال وفاق اور پنجاب جبکہ گزشتہ نو سال سے کے پی میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے اکثر قائدین منظر عام سے غائب تھے۔کوئی بھی ایسا نہیں تھا کہ جو پرجوش کارکنان کو منظم کرنے اور انھیں پولیس کے تشدد سے بچانے کے لیے سامنے آتا۔  فرخ حبیب، حماد اظہر، زرتاج گل، مسرت چیمہ، عالیہ حمزہ کے علاوہ کسی کو بھی براہ راست پولیس کا سامنا کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

اس صورت حال میں بہت سے پارٹی رہنما، سابق وفاقی و صوبائی وزراء منظرعام سے غائب ہیں لیکن سب سے زیادہ جن تین افراد کی کمی محسوس کی جا رہی ہے ان میں پارٹی کے نئے صدر چوہدری پرویز الٰہی، صوبہ پنجاب سے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ محمود خان شامل ہیں۔

اگر عمران خان کی اپنی کابینہ کا جائزہ لیا جائے تو ان کی کابینہ کے سینیئر ترین وزیر شاہ محمود قریشی جیل بھرو تحریک میں بھی موجود تھے اور کل بھی زمان پارک میں دکھائی دیے، لیکن پولیس کارروائی کے سامنا کرنے کارکنان کے ساتھ باہر نہیں آئے۔ اسد عمر بھی کل لاہور میں ہونے کے باوجود زمان پارک سے دور رہ کر صرف ٹوئٹر اور فون کالز پر مصروف رہے۔ پرویز خٹک اسلام آباد میں بیٹھ کر کارکنان کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کرتے رہے۔ اسد قیصر، فواد چودھری اور شبلی فراز اسلام آباد میں ہی صرف بیان داغتے نظر آئے۔

مراد سعید، علی امین گنڈا پور، حماد اظہر، علی زیدی، زلفی بخاری، قاسم سوری وقفے وقفے سے کارکنان کے ساتھ زمان پارک کے باہر آنسو گیس کا سامنا کرتے ہوئے نظر آئےجبکہ اعظم سواتی ہمہ وقت زمان پارک کے اندر عمران خان کے ساتھ موجود رہے۔

تاہم گزشتہ گیارہ ماہ سے عمران خان کابینہ کے حصہ رہنے والے جو وزراء منظر سے غائب ہیں ان میں خسرو بختیار، شفقت محمود، سید فخر امام، غلام سرور خان، نورالحق قادری، مونس الٰہی، محمد میاں سومرو، علی محمد خان، شہریار آفریدی، ایوب آفریدی ملک امین اسلم اور شہزاد اکبر شامل ہیں۔

دوسری جانب جہاں عمران خان کے ووٹوں سے پنجاب کے وزیراعلیٰ رہنے والے عثمان بزدار کا دور دور تک نام و نشان نہیں مل رہا تو پارٹی کے تازہ تازہ صدر بننے والے پرویز الٰہی زمان پارک سے چند کلومیٹر دور لاہور میں اپنے گھر میں موجود ہیں اور عمران خان اور اپنی جماعت کے ورکرز سے اظہار یکجہتی کے لیے زمان پارک نہیں آ سکے۔ پنجاب کابینہ کے اہم ارکان راجہ بشارت، یاسر ہمایوں، مراد راس، ہاشم صوگر، میاں محمود الرشید، محسن لغاری، ہاشم جواں بخت اور چوہدری ظہیرالدین بھی موجودہ صورت حال میں قائدانہ کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔

 عمران خان کے سب سے بڑے گڑھ خیبرپختونخوا کے مختلف حلقوں سے جہاں سینکڑوں کارکن باری باری زمان پارک کے باہر ڈیوٹی دے رہے ہیں اور پولیس کا مقابلہ کرنے والا ہراول دستہ بھی ہیں وہیں اس صوبے کے عمران خان کی جانب سے لگائے وزیراعلیٰ محمود خان، سابق گورنر شاہ فرمان، ڈپٹی سپیکر محمود جان سمیت کئی ایک اہم رہنما عمران خان کے منظر سے غائب ہیں۔

عاطف خان، شہرام ترکئی تو منگل کو بھی لاہور میں نظر آئے تاہم کامران بنگش، تیمور جھگڑا، شوکت یوسفزئی سمیت متعدد رہنما اپنے اپنے حلقوں میں ہی موجود ہیں۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ پی ٹی آئی میں کھل کر گروپنگ کب سامنے آتی ہے۔

لاہور سے صحافی محمد بلال کے مطابق ’اگرچہ بہت سے پارٹی رہنما پارٹی کو شدید ضرورت کے وقت موجود نہیں تھے۔ کچھ اسلام آباد اور کچھ اپنے اپنے شہروں اور اپنے علاقوں میں موجود تھے، لیکن جن کی کمی محسوس کی گئی اور پارٹی کے اندر بھی اس بات کو محسوس کیا جا رہا ہے وہ پرویز الٰہی، عثمان بزدار، محمود خان، پرویز خٹک اور اسد قیصر ہیں۔

اس حوالے سے لاہور سے صحافی اجمل جامی کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کارکنان نے برگر پارٹی کا ٹیگ اتار پھینکا ہے، لیکن پارٹی کی انتہائی مرکزی قیادت کارکنان میں موجود نہیں تھی۔ فرخ حبیب، زرتاج گل، عالیہ حمزہ جیسی جوان قیادت تو موجود رہی لیکن عثمان بزدار، پرویز الٰہی اور دیگر اہم مرکزی رہنما میدان عمل میں موجود نہیں تھے۔

توشہ خانہ کے پچاس روپے کے تحفے بھی نہ چھوڑنے والے کون ہیں؟

Back to top button