IMFقرض میں تاخیر، ڈالر کی قدر مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض کی دوسری قسط کی فراہمی تاخیر کا شکار ہو گئی۔ جس کے بعد معاشی ماہرین روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان عملے کی سطح پر معاہدے کی منظوری اور 70 کروڑ ڈالر کے اجرا کے لیے پاکستان دسمبر کے وسط تک عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے شیڈول میں شامل نہیں۔آئی ایم ایف ابھی تک ایگز یکٹوبورڈ کے اس اجلاس کے شیڈول کو حتمی شکل نہیں دے سکاجس میں پاکستان کی درخواست پر پہلے جائزے کی تکمیل اور3ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ پروگرام کی 70 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کا اجرا ہونا تھا ۔
اس طرح اب آئی ایم ایف کی جانب سے فنڈز کی ففراہمی جنوری میں ہونے کا امکان ہے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں پالیسی سازوں کی یہ بحث بھی سامنے آرہی ہے کہ آئی ایم ایف آئندہ عام انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی حکومت سے دوسرے جائزے کے حوالے سے مذاکرات شروع کر سکتا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے دسمبر کے پہلے ہفتے میں کوئی تاریخ حاصل کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے تاکہ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے جائزے کے لیے پاکستان کے ساتھ عملے کی سطح پر معاہدے کی منظوری کو یقینی بنایا جا سکے۔حکام ہر سطح پر زور دے رہے ہیں کہ 7 دسمبر یا کرسمس کی تعطیلات سے پہلے کی کوئی بھی تاریخ مل جائے تاکہ سال کے اختتام سے قبل ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پاکستان کا معاملہ رکھا جا سکے۔تاہم کم از کم 14 دسمبر تک ایسا ممکن نظر نہیں آرہا، کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات کی وجہ سے ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین دسمبر کے آخری ہفتے اور جنوری کے پہلے ہفتے میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
گزشتہ روز آئی ایم ایف نے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاسوں کے شیڈول کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے جس کے مطابق کرغزستان کے سوا تقریباً 12 ممالک ایسے ہیں جن کے کیسز 14 دسمبر تک ایگزیکٹو بورڈ کے ایجنڈے پر ہیں۔ان اجلاسوں میں مختلف پہلو زیرِغور ہوں گے جن میں اقتصادی پیش رفت اور رکن ممالک کی پالیسیوں پر مشاورت شامل ہے، آئی ایم ایف کے امدادی پیکجز کا بھی ایگزیکٹو بورڈ جائزہ لے گا، بقایا پیشگی اقدامات نہ ہونے کی صورت میں عام طور پر آئی ایم ایف کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو عملے کی سطح کے معاہدے کے بعد منظوری کے لیے تقریباً 15 روز کا وقت لگتا ہے۔
پاکستان کے کیس میں پہلی سہ ماہی کے جائزے کے لیے کوئی پیشگی کارروائی باقی نہیں ہے، آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان 15 نومبر کو اسلام آباد میں پہلے جائزے پر عملے کی سطح پر معاہدہ ہوا تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو تقریباً 70 کروڑ ڈالر مل سکیں گے اور اس کی منظوری سے رواں برس جولائی میں 9 ماہ کے لیے دستخط کیے گئے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت کل ادائیگی تقریباً ایک ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ایسا طویل عرصے کے بعد ہوا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سہ ماہی جائزہ ہموار رہا اور اس کا نتیجہ عملے کی سطح پر معاہدے کے فوری اعلان کی صورت میں نکلا کیونکہ زیادہ تر اہداف حاصل کرلیے گئے تھے۔آئی ایم ایف مشن نے حکام سے مارکیٹ کے مطابق شرح تبادلہ پر واپس آنے کا مطالبہ کیا تھا اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اجناس کی قیمتوں میں اضافے اور مشکل عالمی مالیاتی حالات کے سبب پیدا ہونے والے خطرات پر روشنی ڈالی تھی اور حکام کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حکام کی پالیسی اور اصلاحات کی کوششوں کی معاونت کے لیے طے شدہ بیرونی امداد کا بروقت اجرا ضروری ہے کیونکہ حکومت کثیرالجہتی اور سرکاری دو طرفہ شراکت داروں کے ساتھ مصروفیت کو بڑھا رہی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب نے پاکستان کے قومی خزانے میں ڈپازٹ کیے گئے 3 ارب ڈالر کی مدت میں توسیع کردی تھی۔
