آئی ایم ایف وفد کاپاکستان سےمذاکرات آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے درمیان جاری معاشی جائزہ مذاکرات سیکیورٹی صورتحال کے باعث آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا، جبکہ آئی ایم ایف وفد ابتدائی ملاقاتوں کے بعد پاکستان سے روانہ ہو گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تیسرے معاشی جائزے کے دوسرے مرحلے کے تحت آج سے اہم اجلاس شیڈول تھے، تاہم موجودہ سیکیورٹی ماحول کے پیش نظر مذاکرات کو ورچوئل فارمیٹ میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام اجلاس اب طے شدہ شیڈول کے مطابق آن لائن منعقد ہوں گے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ماہر بینیسی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات ورچوئل انداز میں جاری رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور مذاکرات پاکستان کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تیسرے جائزے پر مرکوز ہیں، جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے دوسرے جائزے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
پیر کی صبح اسلام آباد میں تیسرے معاشی جائزے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا، جہاں آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کی اقتصادی ٹیم سے ابتدائی ملاقات کی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفد کو حالیہ معاشی بہتری سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح 5.2 فیصد تک کم ہوئی، شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گئی، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر تک محدود رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور بڑے صنعتی شعبے کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ نجکاری پروگرام میں پیش رفت جاری ہے جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں، جبکہ ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات پر کام جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی سے دسمبر 2025 کی رپورٹ پیش کی جس میں ٹیکس وصولیاں ہدف سے 329 ارب روپے کم رہیں، تاہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں بہتری نوٹ کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ آمدن میں کمی کی وجہ معاشی سرگرمیوں کی سست روی اور مہنگائی میں کمی رہی۔
