پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے امکانات روش

پاکستان نے شرح سود بڑھا کر 20فیصد کرنے، بجلی بلوں پر 3روپے 23پیسے فی یونٹ عائد کرنے، ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ پر چھوڑنے سمیت چار پیشگی شرائط پر عملدرآمد کر کے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے جس کے بعد آئندہ ہفتے تک آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف سطح کے معاہدے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

وزارتِ خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تقریباً تمام شرائط پوری کردی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے متعلق دوست ممالک کی جانب سے فنانسنگ کی یقین دہانیوں اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ پیشگی اقدامات پر عملدرآمد بارے بھی عالمی مالیاتی ادارے کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ان شرائط میں سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دےچکا ہے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی کم کردی گئی ہے اس کے علاوہ پاکستان نے کسان پیکج  اور برآمدی شعبے کیلئے بجلی کے بلوں پر سبسڈی ختم کردی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان نے آئی ایم ایف کو گھریلو صارفین کیلئے بجلی بلوں پر سرچارج جولائی 2022 سے لگاکر وصولیوں کے شیڈول بارے معلومات بھی فراہم کر دی ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے اسٹاف لیول معاہدے سے قبل ہی پاکستان پر متعدد شرائط پوری کرنے کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔  دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہآئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے مذاکرات مکمل ہونے والے ہیں اور ہم اگلے ہفتے تک آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کے معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ٹوئر پر جاری کردہ اپنے ٹوئٹ میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ تمام اقتصادی اشاریے آہستہ آہستہ درست سمت میں بڑھ رہے ہیں پاکستان مخالف عناصر پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے بارے بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو سکتا ہے جو کہ نہ صرف سراسر جھوٹ ہے بلکہ حقائق کے بھی خلاف ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تمام بیرونی واجبات وقت پر ادا کرنے کے باوجود چار ہفتے پہلے کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر زیادہ ہے غیر ملکی کمرشل بینکوں نے پاکستان کو سہولیات دینا شروع کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ شرح مبادلہ میں بڑے پیمانے پر گراوٹ، پاور سرچارج کے نفاذ اور پالیسی ریٹ میں ایک دن میں 300بیسس پوائنٹس کے اضافے کے بعد اب سب کی نظریں ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے پر ہیں۔ اب پاکستان اور آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام 9 ویں جائزہ کو مکمل کرنے اور 6.5 ارب ڈالرز کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 1 ارب ڈالرز کی قسط کے اجراء کیلئے اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کے مسودے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ جون 2023 کے آخر تک آئی ایم ایف کے میکرو اکنامک اور مالیاتی فریم ورک کے لیے اس کے متعین کردہ اہداف پر اتفاق رائے اسٹاف لیول معاہدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرے گا۔

اعلیٰ سرکاری ذرائعکے مطابق حکومت کی جانب سے عملی اقدامات کے بعد سٹاف آئی ایم ایف سے سٹاف لیول کا معاہدہ چند روز میں یقینی ہے کیونکہ فنڈ کا عملہ بھی اس بات پر غور کرتا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سخت اقدامات سے معیشت کو مستحکم کرنے اور 30 جون 2023 تک ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد ملے گی۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ مارکیٹ پر مبنی شرح مبادلہ کی پالیسی پر قائم رہے، سرچارج کے نفاذ کے ذریعے گردشی قرضے کے عفریت کو ختم کرے اور مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرے۔

Back to top button