آئی ایم ایف قرض پروگرام: دوسری قسط وصولی سے قبل شرائط تاحال پوری نہ ہوسکیں

آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کی دوسری قسط کی وصولی سے قبل حکومت کومختلف شرائط پوری کرنا تھیں جن میں سے کئی شرائط تاحال پوری نہیں کی جاسکیں۔

دستاویزات کےمطابق نئے قرض پروگرام کی دوسری قسط وصول کرنےسےقبل  آئی ایم ایف کی کئی شرائط تاحال پوری نہ ہوسکیں جن پرفروری 2025 سے قبل عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔

دستاویز کےمطابق نیٹ ٹیکس ریونیو ، تعلیم اور صحت کے اخراجات کےلیے طےشدہ اہداف کا حصول باقی ہے، پبلک فنانس، رائٹ سائزنگ اورمحصولات ہدف کے مطابق پورے کرنا ہوں گےجب کہ ایف بی آرکو رواں مالی سال 12 ہزار 913 ارب روپے ٹیکس ہدف حاصل کرنا ہوگا۔

 حکومت نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط پرعملدرآمدشروع کردیا

 

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ  39 میں سے 22 اسٹرکچرل بینچ مارک پرجولائی 2025 تک عملدرآمد کی شرط رکھی گئی ہے جن میں سے 18 وفاق اور 4 مرکزی بینک سے متعلق ہیں۔

دستاویزات کےمطابق مارچ 2025 تک زرمبادلہ ذخائر 3 ماہ کے درآمدی بل کےبرابر لانے اور کرنسی سوئپ کا حجم 2.75 ارب ڈالر سےزائد نہ ہونا بھی شرائط میں شامل ہے، اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں ایکسچینج ریٹ میں 1.25 فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہوگا جب کہ شرائط کے تحت حکومت مرکزی بینک سے کوئی بوروئنگ نہیں کرے گی جس پرحکومت عملدرآمد کررہی ہے۔

دستاویزات میں مزید بتایاگیا ہےکہ وفاقی حکومت شرائط کے تحت گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ جاری کرنےکی پابند ہے۔

Back to top button