آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان معاہدے میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟

پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے انتہائی کم ذخائر کے سبب جہاں دنیا کی بڑی ریٹنگ کمپنیوں نے ملک کی ریٹنگ کم کردی ہے۔ وہیں دوسری طرف پاکستان کیلئے ایک ماہ کی درآمدات سمیت دیگر ادائیگیاں کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے جبکہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت نظر نہیں آتی۔ جس کے بعد ملکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
خیال رہے آئی ایم ایف کے وفد نے تین ہفتے قبل اسلام آباد کا دورہ کیا تھا تاہم حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول ایگریمنٹ حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس معاہدے سے پاکستان کو لگ بھگ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے قرض کی قسط مل سکتی ہے جب کہ دنیا کے دیگر مالیاتی اداروں اور ممالک سے بھی رقوم ملنے کے دروازے کھل سکتے ہیں۔اس کے بعد معیشت کو درپیش مشکل دوراہے سے نکالنے کے کسی امکان کی امید کی جا رہی ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں اس بار بھی تاخیر حکومت کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ اس میں ایک وجہ پالیسی ریٹ یعنی شرحِ سود میں نمایاں اضافہ نہ کرنا ہے۔جنوری کے اختتام پر ملک میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 27.6 فی صد کی بلند ترین سطح پر تھی جب کہ ملک میں مہنگائی کی موجودہ شرح 50 برس میں بلند ترین شرح بتائی جاتی ہے۔
ایسے میں اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو طلب کیا ہے، جس میں ممکنہ طور پر شرح سود میں اضافہ کر دیا جائے گا۔مبصرین کے خیال میں حکومت آئی ایم ایف کی جانب سے عائد شرط کو پورا کرنے کے لیے شرح سود میں کم سے کم دو فی صد کے اضافے کا فیصلہ کر سکتی ہے، جس سے شرح سود موجودہ شرح یعنی 17 فی صد سے بڑھ کر 19 فی صد ہونے کی توقع ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں اس سے قبل جون 1997 میں شرح سود سب سے زیادہ 19 فی صد مقرر کی گئی تھی۔ اس وقت ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی جب کہ نواز شریف وزیرِ اعظم تھے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کو بیل آؤٹ پیکج کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں بھی مزید اضافہ کرنا ہوگا۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک میں بجلی کی قیمتوں کا تعین کرنے والی اتھارٹی نیپرا آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے مارچ کے پہلے ہفتے میں تمام صارفین کے لیے نیا ٹیرف شیڈول جاری کر دے گی۔اس میں وہ اضافہ بھی شامل ہو گا جو گزشتہ برس جون اور جولائی کے مہینوں میں کیا جانا تھا البتہ سیلاب اور دیگر وجوہات کی وجہ سے یہ اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔وفاقی وزیرِ توانائی خرم دستگیر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو پیر کو آگاہ کیا تھا کہ یہ اضافہ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی رقم کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔
ادھر حکومت اپنی محصولات بڑھانے کے لیے مختلف درآمدی اشیا بشمول 800 سی سی کی چھوٹی گاڑیوں، درآمد شدہ منرل واٹر، جوسز، بعض بیکری آئٹمز، چمڑے کے سامان، کاسمیٹکس، فرنیچر اور گھریلو آلات پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح کو 18 فی صد سے بڑھا کر 25 فی صد تک کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو دوست ممالک سے لگ بھگ آٹھ ارب ڈالر کے بیرونی فنانسنگ کے فرق کو پر کرنے کی یقین دہانی بھی ابھی تک نہیں مل پائی ہے جس کی وجہ سے معاہدے میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔
سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں تاخیر کی بنیادی وجہ سیاسی نہیں بلکہ معاشی ہی ہے اور حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے دیے گئے اصلاحاتی پالیسی پر عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر حفیظ پاشا نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف گردشی قرضے میں کمی کے لیے بجلی پر مستقل سر چارج لگانا چاہتا ہے لیکن حکومت اس کی یقین دہانی کرانے سے گریزاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے 2600 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں جو ملک کے دفاعی اخراجات سے بھی ایک ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ ہیں۔ یوں اس موضوع پر فنڈ اور حکومت میں اختلافات ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف ایکسچینج ریٹ پالیسی کو بھی مکمل طور پر آزاد کرنا چاہتا ہے، جنوری کے اواخر میں جب حکومت نے بالآخر روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنے کی پالیسی ترک کی تو تین فروری کو انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت ریکارڈ 276 روپے 58 پیسے ہوگئی اور اب سوائے چین سے 70 کروڑ ڈالر کے بڑے ان فلو کے بعد روپے کی قدر میں چند روز کے علاوہ مسلسل بہتری دیکھی گئی ہے جو کہ نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
ان کے بقول اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر فرق بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایک بار پھر ایکسچینج ریٹ کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملکی سطح پر افراطِ زر کی شرح کو کنٹرول میں رکھا جا سکے جو انتہائی بلند ہے۔
ماہر معاشیات یوسف نذر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں فیصلوں میں تاخیر حائل ہے۔ان کے بقول حکومت اگرچہ اقدامات تو کر رہی ہے لیکن فیصلوں میں اس قدر تاخیر کرنے کی بھاری معاشی قیمت چکانا پڑ رہی ہے اور فوری طور پر چند ہفتوں میں بھی فی الحال آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض ملنے کی امید کم ہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کوشش یہی کرنی چاہیے کہ جس قدر جلد ہو آئی ایم ایف سے معاہدے طے پاجائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو قرض دہندگان کے ساتھ قرضوں کی تنظیم نو کی بات چیت کی فوری ضرورت ہے تاکہ ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
