آئی ایم ایف کا بجٹ تیار: بجلی، پٹرول، گیس اور پانی مزید مہنگے

دوبارہ اقتدار میں آ کر آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کے دعوے کرنے والے وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر آئی اہم ایف کے مطالبات کے سامنے سر جھکاتے ہوئے اگلے بجٹ میں مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کی مذید ٹھکائی کرنے کے لیے بجلی، گیس پٹرول اور پانی اور بھی مہنگے کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبات کے پیش نظر اگلے بجٹ میں پٹرول سستا ہونے کی بجائے مذید مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور گیس بھی بیس سے تیس فیصد مہنگی ہو سکتی ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق کیپیٹل گین ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ مذید برآں زمینوں کی خرید و فروخت اور زرعی آمدنی پر ٹیکس لاگو کرنے کے لیے قانون تبدیل کیا جا رہا ہے۔

وسعت اللہ خان اپنی تازہ تحریر میں بتاتے ہیں کہ اگلے مہینے بجٹ آنے والا ہے اور عوام پر خوف ابھی سے طاری ہے۔ میرے آس پاس کے لوگ یہی دعا کر رہے ہیں کہ جتنا بوجھ عام آدمی کی کمر پر لد چکا ہے اگر وہ کم نہیں ہو سکتا تو کم از کم اور نہ بڑھے۔ خوف کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ عین اس وقت آئی ایم ایف سے نئے مالیاتی پیکیج کے لیے بات چیت جاری ہے۔آئی ایم ایف کی ٹیم دو ہفتے اسلام آباد میں گزار کے واپس گئی ہے۔ حکومت تو عوام کو پچھلے دور کی طرح تسلیاں دے رہی ہے کہ بس نئے پیکیج کے لیے سٹاف لیول کا معاہدہ اب ہوا  کہ جب ہوا۔ لیکن آئی ایم ایف نے گزشتہ پیکیج کی آخری قسطیں دینے کے لیے پچھلی مرتبہ شہباز شریف حکومت کو جس طرح خون تھکوایا، اس کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے نئے پیکیج کی منظوری یا نامنظوری کے بارے میں خاموشی تشویشناک ہے۔ ویسے تو نئے مالیاتی انتظام کا تپتا سورج جب چڑھے گا تب ہر کوئی اس کی تپش محسوس کرے گا مگر شنید یہ ہے کہ مالیاتی خسارہ ایک مقررہ حد میں رکھنے کے لیے آئی ایم ایف جو اقدامات تجویز کر رہا ہے، ان کے لاگو ہونے سے پٹرولیم مصنوعات پر سرچارج و لیویز میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ یعنی پٹرول، بجلی، گیس اور پانی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بلڈپریشرکے مرض میں لہسن کا استعمال فائدہ مند قرار

وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستان میں سیاسی استحکام کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ میں جو بھی سرکردہ جماعتیں ہیں کیا انہیں آئی ایم ایف سے اگلے سمجھوتے کی بابت ایک پیج پر لایا جا سکتا ہے؟ کیا اس بارے آئی ایم ایف کو یقین دلانے کے لیے کوئی اجتماعی تحریری یقین دہانی دینا ممکن ہو گا؟ مسئلہ یہ یے کہ کل کلاں حکومتِ وقت  وہی رونا گانا شروع نہ کر دے کہ عالی جاہ! فی الحال اگر فلاں طے شدہ شرط عارضی طور پر نرم کر دیں یا معاشی و سیاسی حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے فلاں فلاں وعدے کو درگزر فرما دیں۔ آئی ایم ایف چونکہ ہم سے آج سے نہیں پچھلے 66 برس سے واقف ہے لہذا کہا جا رہا ہے کہ آئندہ کی ڈرمے بازی سے بچنے کے لیے اس کی خواہش ہے کہ حکومت فی الحال نیا پیکیج منظور کروانے کی خاطر چاند تارے توڑ لانے سمیت جو جو وعدے کر رہی ہے یا جن جن شرائط پر اتفاق کر رہی ہے، ان پر عمل درآمد کے لیے سٹاف لیول سمجھوتے سے قبل ضروری قانون سازی ہو جائے تو بہتر ہوگا ہے۔

وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ آئی ایم ایف ہو یا کوئی اور عالمی مالیاتی ادارہ، سب کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ اگر معاشی بحران سے نکلنا ہے تو اس کا راستہ ٹیکس زدہ جنتا پر مسلسل  براہِ راست یا بلاواسطہ ٹیکس لگانا نہیں بلکہ معیشت اور گورننس کے ڈھانچے میں اس طرح کی ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں کرنا ہے جن کے نتیجے میں مراعات نیچے سے اوپر کے بجائے اوپر سے نیچے محروم طبقات کو منتقل ہوں۔ انکے مطابق موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنا اب ریاست کے لیے بھی دوبھر ہوتا جا رہا ہے۔ اور اس کی گردن میں جو موٹے موٹے طوق پڑے ہوئے ہیں ان میں سب سے بڑا طوق غیر ملکی قرضوں کی قسط اور سود کی ادائیگی کا ہے۔ اس برس غیر سرکاری ماہرین کا تخمینہ ہے کہ پاکستان کو ساڑھے سات ٹریلین روپے یعنی 66 ارب ڈالرز سود کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ اگلے برس یہ مد بڑھ کے 9 ٹریلین روپے یعنی 32 بلین ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ تیسرا بڑا طوق بجلی پیدا کرنے والوں کو دئیے جانے والے کیپسٹی چارجز ہیں جو کہ دو اعشاریہ ایک  ٹریلین روپے یعنی ساڑھے سات بلین ڈالرز بنتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ادا ہوں گے۔ ظاہر ہے میری اور آپ کی جیب سے۔ اور یہ وہ برقی استرا ہے جو مسلسل ہمارے ریاستی سر کو زخمی کرتا رہے گا جب تک کہ کوئی مناسب گلو خلاصی کی راہ نہیں نکلتی۔

Back to top button