صارفین کی نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی کے فیصلے پرعمل درآمد روک دیا گیا

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی اراکین کی جانب سے پیش کیے گئے توجہ دلائو نوٹس پرنیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر صارفین کی منتقلی کے فیصلے پرعمل درآمد روک دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر ہی رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپیکر کے نامناسب رویے پر ایسا کر رہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے اراکین کی گنتی کی ہدایت کی اور کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی معطل کر دی۔ بعد ازاں کورم پورا ہونے پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔

وقفہ سوالات کے دوران معین پیرزادہ نے کے الیکٹرک کے فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کے دورانیے سے متعلق سوال اٹھایا۔ پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال نے کہا کہ اس حوالے سے الگ سوال پوچھا جائے تو تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ اس جواب پر ایم کیو ایم اراکین نے احتجاج کیا، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔

حکومت نے سولر استعمال نہ کرنے والوں کو بھی بڑا جھٹکا لگا دیا

 

اجلاس میں حکومت کے سولر نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ سے تبدیل کرنے کے فیصلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔

وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ اس معاملے پر میڈیا اور پارلیمنٹ میں بھرپور بحث ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سمری منظور کی تھی تاہم وفاقی کابینہ نے اس کی توثیق نہیں کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اس فیصلے پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں متعارف کرائی گئی اس پالیسی میں نیپرا چار سے پانچ مرتبہ ریگولیٹری تبدیلیاں لا چکا ہے، جنہیں بعض حلقوں نے اینٹی سولر قرار دیا۔ وزیر کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 20 سے 22 ہزار میگاواٹ سولر صلاحیت موجود ہے، جن میں سے 7000 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ نظام سے منسلک ہے۔ تقریباً 6 سے 7 لاکھ صارفین نیٹ میٹرنگ پر ہیں جبکہ 12 سے 14 ہزار میگاواٹ کے صارفین کا اس فیصلے سے براہ راست تعلق نہیں۔

300یونٹ ماہانہ بجلی کے استعمال پرفکسڈچارجزعائد

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے معاملے میں پاکستان غافل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت نو ممالک نے مغربی کنارے کی صورتحال پر مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں پر کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔

Back to top button