عمران وقت سے پہلے نئے آرمی چیف کا اعلان کرسکتے ہیں؟

اندر کی خبر رکھنے والے تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری ویسے تو نومبر میں ہونا ہے لیکن اگر حالات کو پلٹنے کی کوشش کی گئی تو ممکن ہے وزیر اعظم عمران خان یہ اعلان بہت پہلے ہی کر دیں۔ انکے مطابق موجودہ سپہ سالار اکتوبر 2021 کے پہلے ہفتے میں خارجہ ودفاع کمیٹیوں کے ارکان کو بتا چکے کہ وہ اپنے عہدے میں مذید توسیع کے خواہش مند نہیں۔ لیکن اگر اب صورتحال تبدیل کرنے کی کوئی کوشش ہوئی تو عمران خان نئے سپہ سالار کی تقرری کا اعلان پہلے بھی کر سکتے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اعزاز سید کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں دسمبر 2021 کے پہلے ہفتے میں حکومت کے گھر جانیکی افواہ گردش میں تھی جس کی بنیاد یہ بتائی گئی کہ نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرکے وطن واپس لوٹ رہے ہیں، لہٰذا اب حکومت کاجانا چند دن کی بات ہے۔ افواہ ساز فیکٹری میں ٹی وی اینکرز کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے سورما بھی سرگرم تھے۔ اس افوا کا تاثراتنا مضبوط تھا کہ کم ازکم دو کمزور دل حکومتی وزیروں نے بھی دفاتر سے اپنا ذاتی سامان گھروں کو منتقل کردیا مگر افواہ تو بہرحال افواہ ہی ہوتی ہے۔ اسی دوران 23 دسمبر 2021ء کو ایک اور واقعہ رونما ہوگیا۔ ہوا کچھ یوں کہ نیب نے اپنے لاہور ریجن کے ڈائریکٹرجنرل شہزاد سلیم کو تبدیل کرکے ہیڈ کوارٹربھیج دیا اوراس اہم ترین عہدے پرجمیل احمد نامی ایک افسر کو تعینات کردیا گیا۔ جمیل احمد کچھ ہی عرصہ قبل خیبرپختونخوا میں گریڈ 22میں ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ نومبر2021ء کے آخری ہفتے میں انکی تقرری وزیر اعظم کے دستخطوں سے عمل میں آئی تھی اور یہ افسر وزیراعظم کے سیکرٹری اعظم خان کی تجویز پر قابل بھروسہ ہونے کےباعث تعینات کیے گئے تھے۔ جمیل احمد سے قبل شہزادسلیم سال 2017 سے نیب لاہور میں تعینات تھے۔ وہ فوج کے ریٹائرڈ میجر ہونے کے باعث فوجی اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعاون کیساتھ کام کرتے رہے۔حقیقت یہ ہے کہ سال 2018ءکے عام انتخابات میں وسطی پنجاب سے اگرنیب کی مدد سے کچھ سیاستدانوں کو آگے پیچھے کیا تھا تو اس میں شہزاد سلیم کا کلیدی کردارتھا کیونکہ سیاستدانوں اور اہم بیوروکریٹس کے خلاف کیسز انہی کے حکم پر تیارکیے گئے تھے۔
اعزاز سید بتاتے ہیں کہ شہزاد سلیم موجودہ حکومت کے ساتھ بھی کام کررہےتھےلیکن وہ سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے کسی ایک ہی موضوع پر دو مختلف احکامات کی صورت میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کو ترجیح دیتےتھے۔ شہزاد سلیم کےہوتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اورانکےمشیرِاحتساب بعض اوقات بےبس ہو جاتے تھے لہٰذاحکومت نےنیب لاہورکو فتح کرنیکا فیصلہ کیا اوریوں جمیل احمد کووہاں تعینات کردیا گیا۔ ظاہر ہےیہ سب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے حکومت کیساتھ تعاون کےسبب ہی ممکن ہوا۔ دوسری طرف جمیل احمد بھی کوئی بری شہرت کےحامل نہیں لیکن ظاہرہے کہ حکومت نےانکا تقررکیاہےتوانکی وفاداری حکومت کیساتھ ہی ہوگی۔حکومت کاجمیل احمد کی لاہور تعیناتی کامقصد یہی دکھائی دیتاہے کہ وہ شہباز شریف کواگلے انتخابات سےقبل ترجیحی بنیادوں پراحتساب عدالت، لاہور ہائیکورٹ اورپھرسپریم کورٹ سے بدعنوانی کیس میں نااہل کروائیں۔ حکومت سمجھتی ہےکہ شہباز شریف کیخلاف ٹی ٹی کیس میں ٹھوس شواہد موجود ہیں یہ کیس تو سابق ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے دور کا ہی تیار کردہ ہے لیکن اب اس پرعملی جامہ جمیل احمد پہنائیں گے۔
مجھ پرعائد پابندی کی وجہ کوئی فرد نہیں بلکہ ادارہ ہے
لیکن بقول اعزاز، حکومت کی طرف سے اس اہم ترین تعیناتی کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتےمیں ڈال دیا گیااورکہا گیا کہ ’’نوازشریف ڈیل کر کےواپس آرہے ہیں، وہ عدالتوں سے ریلیف لیں گے اور اسی مقصد کے لئےجمیل احمد کو نیب لاہور کا نیا ڈی جی مقررکیا گیا ہے‘‘۔ حقیقت مگر اسکے بالکل برعکس تھی۔ وزیراعظم نے جمیل احمد جیسےافسرکو نیب لاہورمیں تعینات کروا کے عملی طورپر نیب لاہور سے شہزاد سلیم کی تبدیلی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی چھٹی کرائی تھی۔ نیب لاہور میں جمیل احمد کی تقرری نے پہلے سے گرم افواہوں کو مزید گرم کر دیا۔اس کے بعدحکومت کی طرف سےمنی بجٹ پیش کرنیکافیصلہ ہوا تو کرم فرمائوں نے یہ کہہ کرخود کو تسلی دی کہ اب حکومت منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش نہیں کرسکے گی۔30 دسمبر 2021 کو جب منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو حکومت سے ناراض کچھ حکومتی ارکان نے استفسار پر بتایا کہ جناب ہم تو ایوان میں نہ آتے مگرہمیں’’فون‘‘ آ گیا اب فون کرنے والوں کی ماننا تو پڑتی ہے۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ اورحکومت فی الحال ساتھ ساتھ ہیں اور جو لوگ ان کی’’کُٹی‘‘ کی خبریں دے رہے ہیں وہ محض خواہشات کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اعزاز سید کہتے ہیں کہ ہوش ربا مہنگائی کی صورت جو کچھ عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے وہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سےکیا جارہاہے اور اسے معیشت کی بہتری کیلئے کیے گئےاقدامات سےتعبیر کیا جارہاہے، نہ کہ بری کارکردگی سے۔ توقع کی جارہی ہے کہ پنجاب سے پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوجائیں گے۔ بلوچستان میں جس طرح عام انتخابات کرائے جاتے ہیں بالکل اسی طرح بلدیاتی انتخابات کرائے جائیںگے۔ عمران خان کے پاس اب وزیراعظم کی حیثیت سے صرف آخری 18 ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہےاسلئے وہ رواں سال کے وسط یا آخر میں بلدیاتی اداروں کوفنڈزکے اجرا کےبعد ڈالرکے مقابلےمیں روپے کی فلوٹنگ مصنوعی طریقوں سے بند کرنے اور روپےکی قدر کو مضبوط کرکے مہنگائی پرقابو پانےکی کوشش کرینگے تاکہ وہ خود کو اگلے انتخابات میں عوام کے سامنے جانے کے قابل بنا سکیں۔
اعزاز کے بقول، تلخ حقیقت یہ ہےکہ پاکستان میں منتخب حکومتیں کارکردگی کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی کے باعث گھروں کو بھیجی جاتی رہی ہیں، اس بار مگر صورت حال مختلف ہےاور وہ یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر ابھی تک عمران خان اور تحریک انصاف سے نفرت پیدا نہیں ہوئی۔ ہاں اسٹیبلشمنٹ میں ایک انجانا خوف ضرور ہےکیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے مہرے فی الحال وزیراعظم کی مٹھی میں ہیں، ویسے بھی رواں سال ہی وزیراعظم نے نئے سپہ سالارکی تقرری کا غیر معمولی فیصلہ بھی کرنا ہے۔ موجودہ سپہ سالار پچھلے سال اکتوبرکے پہلے ہفتے میں خارجہ ودفاع کمیٹیوں کے ارکان کو بتا چکے کہ وہ توسیع کے خواہشمند نہیں۔ نئے سپہ سالار کی تقرری نومبر میں ہونا ہے لیکن اگر حالات کو پلٹنے کی کوشش کی گئی تو ممکن ہے وزیر اعظم یہ اعلان پہلے ہی کر دیں۔ اعزاز کہتے ہیں کہ میں ذاتی طور پر اپوزیشن کے ذہن کا آدمی ہوں مگر اس وقت ملک میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن کہلاتی ہیں ان کے رہنما اکثر شامیں اسٹیبلشمنٹ کے افسران کیساتھ اورایک خفیہ ادارے کے دفتر میں گزارتے ہیں۔ انہیں جو کہا جاتا ہے وہ وہی کرتے ہیں۔ اگر کسی ایک جماعت کا کوئی ایک آدھ جلاوطن رہنما اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے بھی تو باقی پوری جماعت اسٹیبلشمنٹ کے قابو میں ہے۔ یعنی اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کے اور اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم کے قابو میں ہے۔اس پس منظر میں مجھے لگ رہا ہے کہ اس وقت عمران خان پانچ سال پورے کرنے والے پہلے وزیر اعظم بننے جارہے ہیں۔ انکا اقتدار آخری 18 ماہ میں داخل ہوچکا۔ اس وقت وزیر اعظم کوصرف ایک شخص گھر بھیج سکتا ہےاور وہ خود عمران خان ہیں کوئی دوسرا نہیں۔ ہمیں اچھا لگے یا برا، عوام خوش ہوں یا ناخوش، فی الحال کمپنی یہی چلے گی۔
