عمران کرسی کی محبت میں ٹرمپ کے راستے پر چل پڑے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے وہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیے تھے لیکن بالآخر ناکامی ان کا مقدر بنی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عدم اعتماد کے پھندے میں پھڑ پھڑاتے عمران خان کرسی کو بچانے کے لیے مرنے مارنے پر تلے نظر آرہے ہیں حالانکہ ان کا دعوی تھا کہ انہیں کرسی کی کوئی طلب نہیں۔ اہسے میں ان کا اندازِ سیاست اور طرزِ تکلم تو وہی لگ رہا ہے جو سابق امریکی صدر ٹرمپ کا خاصہ تھا۔

ٹرمپ نے ارلیمنٹ پر حملہ تو انتخابات ہارنے پر کروایا تھا، مگر ہمارے کپتان نے عدم اعتماد کا ووٹ پارلیمنٹ میں پڑنے سے پہلے ہی اسلام آباد۔پر ہلہ بول دیا ہے اور وہ بھی امر بالمعروف یعنی نیکی پھیلاؤ کے نام پر۔ دودرخ جانب ان کے وزیر اطلاعات نے دھمکی دی ہے کہ اراکین قومی اسمبلی ووٹ ڈالنے جائیں گے بھی اس ہجوم سے گزر کر اور ان کی واپسی بھی اسی سے گزر کر ہوگی۔

کچھ ایسا ہی متشدد محاصرہ امریکی کانگریس مین کو چھ جنوری 2021ءکو درپیش آیا تھا جب وہ صدر بائیڈن کی جیت کی تصدیق کرنے والے تھے۔ امریکی سینیٹ کے چیئرمین و نائب صدر اور ہاؤس کی اسپیکر کو بلوائیوں سے مشکل سے بچایا جا سکا تھا اور پارلیمنٹ کو تاراج کر دیا گیا تھا۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نظامِ مصطفی ؐکے نام پر تحریک چلائی گئی تھی تو وہ مذہبی حلقوں کو خوش کرنے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کرنے پہ مجبور ہوئے تھے۔ لیکن عمران خان کے خلاف تو کوئی فسادی میدان میں نہیں۔ پھر مدینہ کی ریاست کے نعرے کے باوجود امر بالمعروف کا نعرہ لگا کر بھلا وہ کس بنیاد پر مذہب کارڈ استعمال کرنے کی کوشش میں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کہیں وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور لبیک یارسول اللہؐ والوں کے دام میں تو نہیں پھنسنے جارہے۔ قرائن سے ظاہر ہے کہ عمران خان کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک اور اپنی جماعت کے مخرفین اور مبینہ ضمیر فروشی کو انہوں نے اپنے کرپشن کے خلاف احتساب کے پٹے ہوئے بیانیے میں پھر سے ہوا بھرنے کے لیے شدت سے استعمال کیا ہے۔

وہ حکومت میں ہونے کے باوجود اور اس کی مدد سے سڑکوں کو گرم کرنے کی راہ پہ چل نکلے اور یہ پروا کیے بغیر کہ پارلیمانی جمہوریت کی گاڑی پٹری سے اترتی ہے تو اتر جائے، ان کی بلا سے۔ وہ عدم اعتماد کا ووٹ بھی پارلیمنٹ کی بجائے سڑکوں پر لینا چاہتے ہیں۔
سڑکیں زیادہ ہی گرم ہوگئیں تو کیا کیا خاکستر ہوسکتا ہے اس کی انہیں کوئی پروانہیں۔ ہائبرڈ سیاسی نظام جس کی کہ وہ خود پیداوار ہیں گرے گا تو اس کی جگہ کیا آئے گا اس کا انہیں کوئی گمان نہیں۔ وہ بس سیاسی شہید بن کرپھر سے میدان میں اترنے کی فکر میں ہیں۔

لیکن بقول امتیاز عالم ہائبرڈ نظام اور ”سلیکٹڈ حکومت“ سے لڑتے لڑتے پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور اب مشترکہ حزب اختلاف اپنے اساسی مقاصد سے پیچھے ہٹ گئی ہیں جس کا بنیادی ہدف سول ملٹری تعلقات میں صفتی تبدیلی لانا اور جمہور کی بالا دستی کو یقینی بنانا تھا۔ اپوزیشن کے لیے ہائبرڈ نظام کے بنیادی ستون یعنی مقتدرہ کا ”غیر جانبدار“ ہوجانا ہی صلح حدیبیہ کے لیے کافی تھا۔

امتیاز کے مطابق ”سلیکٹڈ حکومت“ نے تو دھڑام سے گرنا ہی تھا، لیکن اپوزیشن کا ووٹ کی حرمت کا نعرہ بھی عدم اعتماد کے ووٹ کی بے حرمتی کے ساتھ شرمندہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ ہر دو اطراف ایک دوسرے کے اراکین کو توڑنے کے دعوے کررہے ہیں اور حکومت کے اتحادی ہیں کہ خوب دام لگوارہے ہیں۔ شواہد سے لگتا ہے کہ 155ارکان پر مشتمل تحریک انصاف کے لیڈر ایوان زیریں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ تحریک انصاف اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ اتحادی بلیک میل کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے ڈی جے بٹ کی خدمات حاصل کرلیں

ساڑھے تین سال کی پاکستان کی سب سے ناکام حکومت کے پلے سوائے ایک ہیلتھ کارڈ اور احساس پروگرام کے عوام کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ عمران حکومت اپنے کرپشن کے خاتمے اور پاکستان کی طبقاتی تقسیم ختم کرنے کے ماسٹر بیانیے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، جو معاشی حالت اسے ورثے میں ملی تھی آج حالات اس سے کم از کم دگنے برے ہیں اور یہ آئندہ حکومت سے بھی جلد ٹھیک ہونے کو نہیں۔

بقول امتیاز عالم اب جب کہ تحریک عدم اعتماد کا ڈراپ سین ہونے میں چند روز باقی ہیں، گئے ہیں۔ تحریک کامیاب ہونے پر بھی بحران رہے گا، اور ناکام رہنے پر بحران اور بڑھ سکتا ہے۔ لہذا بہتر ہوگا کہ پارلیمنٹ کا معاملہ پارلیمنٹ ہی میں طے کیا جائے۔ نہ عدالتیں اس میں ملوث ہوں اور نہ ہی ادارے۔

Imran fell in love with chair & followed Trump’s footsteps ] video in Urdu

 

Back to top button