عمران امریکہ کا اپنا بندہ ہے، PTI کا نیویارک ٹائمز میں اعلان

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار روف کلاسرا نے کہا ہے کہ عمران خان کے انقلابی پن کا اندازہ نیو یارک ٹائمز میں دو لاکھ ڈالرز سے لگوائے اس پورے صفحے کے اشتہار سے لگایا جا سکتا ہے جس میں امریکیوں کو بتایا گیا ہے کہ خان تو امریکہ کا اپنا بندہ ہے جو بطور وزیر اعظم امریکی مفادات کا خیال کر رہا تھا لہذا اس کی بطور وزیراعظم واپسی ضروری ہے، انقلابات ہیں زمانے کے۔

روف کلاسرا اپنی تحریر میں بتاتے ہیں کہ امریکی اخبار میں چھپے اشتہار میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ دوبارہ سے بطور وزیر اعظم امریکی مفادات کو پروان چڑھا سکیں۔ یاد رہے کہ امریکہ میں پاکستانیوں نے بڑے عرصے سے مہم چلائی ہوئی ہے کہ خان کو رہا کرا لیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں امریکی صدر ہی کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ جو بائیڈن سے لے کر اب ٹرمپ تک ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں لیکن ہمت انہوں نے نہیں ہاری اور ہر مرتبہ وہ کوئی نہ کوئی نئی کوشش کرتے ہیں۔

سینئرصحافی بتاتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھیوں نے امریکی کانگریس سے قرارداد تک منظور کرا ئی تھی اور کانگریس کمیٹیوں کی سماعت بھی ہوئی۔ امریکی سفارتکار ڈونلڈ لُو کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا لیکن ان اقدامات کے باوجود خان صاحب کو جیل میں دو سال ہو گئے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ گئے تو ان افراد نے مظاہرے بھی کیے اور گالی گلوچ بھی کی لیکن بات بنی نہیں۔ اب نیو یارک ٹائمز میں اشتہار دینے کی دلچسپ کہانی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس اشتہار پر تقریباً دو لاکھ ڈالرز کا خرچہ آیا‘ جو پاکستانی تقریباً پانچ‘ چھ کروڑ روپے بنتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کو ایک دن کی ایکٹویٹی کیلئے دو لاکھ ڈالرز بہت بڑی رقم لگتی ہو لیکن امریکہ سے ہمارے صحافی دوست انور اقبال بتا رہے تھے کہ امریکہ میں جو پاکستانی عمران خان کی رہائی کی مہم چلا رہے ہیں ان کیلئے یہ معمولی رقم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں دس ہزار کے قریب پاکستانی ڈاکٹرز ہیں جن میں سے کئی تو ایک دن کے پندرہ ہزار ڈالرز تک کما لیتے ہیں۔ ان سب کیلئے ہزار‘ دو ہزار ڈالرز کا چندہ اکٹھا کر کے اخبار میں اشتہار لگوانا یا کانگریس مین اور سینیٹرز کو عطیات دینا کون سا بڑا مسئلہ ہے۔ انور اقبال کا کہنا تھا کہ یہاں تو کوئی بھی امریکن پاکستانی کسی سینیٹر کو اپنے گھر بلا کر اس کے ساتھ چند تصویریں کھنچوا کر دو لاکھ ڈالرز کا عطیہ دے دیتا ہے۔

اشتہار میں حکومت پاکستان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک طویل چارج شیٹ دی گئی گئی ہے۔ اس اشتہار میں ذیادہ وہی باتیں تھیں جو عمران خان جیل میں میڈیا یا اپنے پارٹی لیڈروں سے کرتے رہتے ہیں۔ البتہ اس اشتہار میں نئی بات یہ تھی کہ پہلی بار کسی پاکستانی وزیراعظم کی تصویر اشتہار کی شکل میں نیویارک ٹائمز میں چھپی ہے‘ خصوصاً جب وہ جیل میں ہے۔ امریکی عوام کو بتایا گیا ہے کہ عمران کے ساتھ کیا ظلم و زیادتی ہو رہی ہے۔ تاہم اس پورے اشتہار میں ایک چیز ایسی ہے جو آپ کو حیران کر دیتی ہے اور میں خود اس پر دم بخود رہ گیا۔ رووف کلاسرا بتاتے ہیں کہ نیویارک ٹائمز میں چھہے اشتہار میں صدر ٹرمپ‘ امریکی انتظامیہ‘ کانگریس مین‘ سینیٹرز‘ میڈیا اور امریکی عوام کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ عمران جب وزیراعظم تھے تو وہ امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے تھے اور امریکی مفادات کو لے کر چل رہے تھے۔ وہ امریکی مفاد کیلئے علاقائی سکیورٹی میں بھی فائدہ دے رہے تھے۔

سینئر صحافی کہتے ہیں کہ یہ لائن پڑھ کر میں حیران رہ گیا کہ یہ کیا لکھا ہے۔ بھلا عمران خان کب امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے تھے؟ عمران نے تو اپنے بارے میں برسوں سے یہ تاثر بنا رکھا ہے کہ وہ امریکہ کے مخالف ہیں اور انہوں نے کبھی اپنے نظریات کو نہیں چھپایا۔ انہوں نے پختونوں میں اسی بنیاد پر اپنا ووٹ بینک بنایا اور عوام کو یہی تاثر دیا کہ وہی امریکہ مخالف ہیں اور باقی سب امریکی پٹھو ہیں۔ خان کا موقف تھا کہ وہ ایک آزاد منش انسان ہیں جو کسی سپر پاور سے نہیں صرف اللہ سے ڈرتے اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ اب امریکہ میں چھپنے والے اشتہار میں امریکیوں کو بتایا جا رہا ہے کہ عمران تو امریکی مفادات کا تحفظ کر رہا تھا اور یہ سب کچھ امریکی صدر اور امریکی عوام کو مخاطب کر کے لکھا گیا ہے۔ یہ سب کچھ پڑھ کر آپ کا دماغ چکرا جاتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ خان صاحب تو مسلسل امریکہ کی مخالفت کا دعویٰ کرتے رہے لیکن اب پتا چل رہا ہے کہ نہیں‘ خان صاحب تو امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے تھے۔

کلاسرا کے مطابق تحریک انصاف نے ابھی تک اس اشتہار کو ڈس اون نہیں کیا۔ لگتا ہے اس اشتہار کے ذریعے ایک تیر سے کئی شکار کیے گئے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر اور عوام کو یقین دلایا گیا ہے کہ عمران خان ان کا اپنا بندہ ہے‘ اس نے ہمیشہ امریکی مفادات کا خیال رکھا اور اسے ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے۔ اگر اس بات پر تنقید ہو تو پی ٹی آئی کہہ دے گی کہ اس نے اشتہار نہیں دیا۔ تو کیا امریکی اور پاکستانی عوام اب یہ سمجھیں کہ عمران خان کا اسامہ بن لادن کو بطور وزیراعظم پاکستان قومی اسمبلی میں ‘ شہید‘ کہنا امریکی مفادات کا حصہ تھا؟ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد عمران کا طالبان کو امریکی فوجوں کو شکست دینے پر مبارکباد دینا اور یہ کہنا کہ انہوں نے غیر ملکی غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالی ہیں‘ کیا یہ بھی امریکی مفادات میں تھا؟کیا طالبان کی فتح کے بعد امریکی اخبار میں عمران خان کے نام سے ایک مضمون چھپنا بھی امریکی مفادات کے ساتھ جڑا ہوا تھا جس میں انہوں نے امریکی انتظامیہ اور دیگر اداروں کی افغان پالیسی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے لکھا تھا کہ امریکیوں کو افغانستان کا کچھ بھی علم نہیں‘ عمران کو سب پتا ہے۔ تو کیا یہ سب کچھ امریکہ کے کہنے پر لکھا گیا تھا یا پھر وزیراعظم بننے سے پہلے ڈرون حملوں کے خلاف عمران کی جارحانہ مہم بھی ٹوپی ڈرامہ تھا اور امریکی چاہتے تھے کہ عمران ان کے خلاف جلسے جلوس نکالیں اور اپنا نام بنائیں کیونکہ یہی امریکی مفادات تھے؟

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اقتدار سے نکلنے کے بعد امریکہ مخالف سائفر مہم چلائی اور ایبسولوٹلی ناٹ کا نعرہ دیا۔ اب ان کے حامی امریکی اخبار میں دو لاکھ ڈالرز سے پورے صفحے کا ا شتہار چھپوا رہے ہیں کہ خان تو امریکہ کا اپنا بندہ ہے۔ انقلابات ہیں زمانے کے۔

Back to top button