عمران پاکستانی سیاست میں گالی گلوچ کلچر کے بانی

پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار وزیراعظم عمران خان نے یوتھیا بریگیڈ کے ساتھ مل کر سیاست میں گالم گلوچ اور عدم برداشت کے جس کلچر کو متعارف کروایا ہے اب وہ خود بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں، تاہم عمران خان اور انکی تربیت یافتہ قوم یوتھ کی گالیوں کا مقابلہ کرنے میں انکے سیاسی مخالفین ابھی کافی پیچھے نظر آتےہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد سیاسی طور پر اسکا مقابلہ کرنے کی بجائے فرسٹریشن کا شکار ہو کر گالم گلوچ پر اتر آئے ہیں حالانکہ گالی دینا تو کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔ سرکاری خرچ پر ہونے والے عوامی جلسوں میں عمران خان ایک طرف سابق صدر آصف زرداری کو ڈاکو قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کو کبھی فضلو اور کبھی ڈیزل کہہ کر پکارتے ہیں۔ عمران نے تو یہاں تک کہا کہ وہ فضل الرحمان جیسے شخص کو مولانا کہنا گناہ سمجھتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ انہوں نے مفاہمت کی سیاست کرنے والے شہباز شریف کو فوجی قیادت کے بوٹ چاٹنے والا بوٹ پالشیا قرار دیا۔ عمران خان کا اصرار ہے کہ ان کے تمام سیاسی مخالفین کرپٹ، چور، ڈاکو اور راندہ درگاہ ہیں۔ نہ صرف عمران اپنے جلسوں، تقریروں اور انٹرویوز میں سیاسی مخالفین کو بدترین القابات اور بڑے ناموں سے پکارتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ان کے فالوورز بھی سیاسی مخالفین کے خلاف فتوے بازی اور بہتان طرازی سے باز نہیں آتے جس سے پاکستان کی سیاست پہلے سے کہیں زیادہ آلودہ ہو چکی ہے اور اس میں سے شائستگی، اخلاق اور تہذیب کا پہلو یکسر غائب ہوگیا ہے۔
زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اپ ے سیاسی مخالفین کو گالیاں دیتے ہوئے عمران خان اتنا آگے چلے گئے کہ انہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر بھی بالواسطہ حملہ کر دیا اور اسے جانور قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ ایک حالیہ جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ مجھے جنرل باجوہ نے مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل کہنے سے منع کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ فضلو کا نام میں نے ڈیزل نہیں رکھا بلکہ عوام نے رکھا ہے۔
اس کے فورا بعد موصوف نے خود کو نیکی اور اپوزیشن کو بدی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم تو نیوٹرل ہیں، حالانکہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق بھی جب نیکی اور بدی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو تو نیکی کے ساتھ کھڑا ہوا جاتا ہے۔ دراصل ایسا کہتے وقت ان کا اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب تھا جس نے موجودہ سیاسی بحران میں غیر جانبدار رہتے ہوئے نیوٹرل پوزیشن اختیار کر رکھی ہے جس پر وزیراعظم سخت نالاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کا ساتھ دے۔
پاکستانی سیاست میں گالی کا کلچر فروغ دینے کے حوالے سے سنیئر صحافی انصار عباسی اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ عمران نے ساری قوم کو گالیوں پر لگا دیا ہے۔ پہلے تو سیاسی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے کو کرپٹ کرپٹ، چور چور اور ڈاکو ڈاکو کے الزامات لگائے جاتے تھے۔ تحریک انصاف اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگاتی یے کہ شریف برادارن اور زرداری چور ہیں، اربوں کھا گئے، اور پاکستان کے خزانے کو خالی کر دیا ہے، تو اپوزیشن جماعتیں عمران خان کو آٹا چور، چینی چور اور یو ٹرن خان کے القابات سے نوازتی ہیں۔
کبھی اُن کی بہن علیمہ خان پر الزامات لگائے جاتے اور پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے سلائی مشینوں کی کمائی سے بیرون ملک مہنگی ترین جائیدادیں کیسے خرید لیں۔ اس کے علاوہ بلاول نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں خاتون اول بشری بی بی پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں کوئی پوسٹنگ یا ٹرانسفر تب تک نہیں ہوتی جب تک بشری بی بی کو پیسے نہ پہنچائے جائیں۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ سیاست کا حوالہ یہاں کبھی معتبر نہیں رہا اس لیے کہ سیاستدانوں نے ہی سیاست کو ہمیشہ کرپشن، جھوٹ، بے ایمانی اور ملک دشمنی سے جوڑا۔ ہمیشہ ایک دوسرے کو ہی بُرا بھلا کہا اور اب تو ساری حدیں پار کی جا رہی ہیں۔ ایک دوسرے پر ملک دشمنی اور فوج کہ مخالفت کے الزامات اس لیے لگائے جاتے ہیں تا کہ اسٹیبلشمنٹ ایسے الزامات لگانے والے کو اچھا جانے، اپنا ہمدرد مانے اور کسی نہ کسی طرح سے اُنہیں نیوٹرل کی سپورٹ حاصل ہو جائے۔ یہی کچھ ان دنوں بھی ہو رہا ہے۔
انصار عباسی یاد رلاتے ہیں کہ اگر عمران خان نے آصف زرداری کو بندوق کے نشانے پر لینے کی دھمکی دی تو بلاول نے بھی جواب دیتے ہوئے عمران کو کہا کہ میں تیرے ساتھ وہ کروں گا کہ تیری نسلیں یاد رکھیں گی۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن نے یہ کہہ دیا کہ عمران پاگل نہیں بلکہ بائولا ہو گیا ہے۔ شہباز شریف نے بھی غصہ میں عمران خان کو یاد دلایا کہ وہ فوج کے بارے میں ماضی میں کیا کچھ کہا کرتے تھے۔ دونوں اطراف کے دوسرے رہنما بھی اپنی پریس کانفرنسز اور ٹی وی ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر گند ہی اچھالتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی حال ان سیاسی جماعتوں کے ووٹروں اور فالوورز کا ہے۔
اراکین قومی اسمبلی کا وزیراعظم پرمکمل اعتماد کا اظہار
ایک دوسرے کے رہنمائوں پر الزامات لگانا، اُن کی بے عزتی کرنا، اُن کا مذاق اور تمسخر اُڑانا اور یہاں تک کہ گالم گلوچ کرنا، اب معمول بن چکا ہے اور سوشل میڈیا اس ٹرینڈ کی گواہی دیتا ہے۔ یعنی سیاست میں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ اگر کوئی سیاست پر بات کرے تو اُس کی بھی عزت محفوظ نہیں۔ سیاسی بنیادوں پر معاشرے میں ایک ایسی تفریق پیدا کر دی گئی ہے کہ مخالف کے لیے کوئی احترام نہیں۔
سیاسی رہنمائوں نے ایک دوسرے کے خلاف اس نفرت کو عوام میں ایک ایسے زہر کی طرح ٹرانسفر کر دیا کہ پڑھے لکھے ڈاکٹرز، انجینئرز، بزنس گریجویٹس، نامور وکلاء اور پروفیسرز وغیرہ تک مخالفین کے خلاف بدزبانی اور گالم گلوچ تک کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں گالی گلوچ کے کلچر کو پروان چڑھانے کا سہرا بلا شرکت غیرے عمران خان کے سر ہے۔
