عمران نے دوبارہ قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا ذہن بنا لیا

 

 

 

2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمی سے فارغ ہونے کے بعد قومی اسمبلی سے استعفوں کا بلنڈر مارنے والے عمران خان ایک بار پھر اسی پرانی ڈگر پر چلتے دکھائی دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔

 

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذاکرات سے انکار اور سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز کی نااہلیوں کے بعد عمران خان نے ایک بار پھر اپنے اراکین قومی اسمبلی سے استعفے لینے کا ذہن بنا لیا ہے تاکہ پارلیمنٹ کی ساکھ ختم ہو جائے اور حکومت دوبارہ الیکشن کروانے پر مجبور ہو جائے۔ تاہم پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے عمران خان کو ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے چونکہ ان کے خیال میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کے باوجود حکومت الیکشن بھی کروا لے گی اور اپنی مرضی کے نتائج بھی حاصل کر لے گی۔

 

تحریک انصاف کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے استعفے دینا قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کی طرف پہلا قدم ہے۔ انکا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کو پارلیمانی نظام کی اساس سمجھا جاتا ہے لہذا اگر وہ ان کمیٹیوں سے مستعفی ہو جائے گی تو پوری پارلیمنٹ اپنی ساکھ کھو دے گی۔ یاد رہے کہ اس وقت تحریک انصاف قومی اسمبلی کی پانچ اور سینیٹ کی آٹھ قائمہ کمیٹیوں کے علاوہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سمیت ستر کمیٹیوں کی رکن ہے۔

 

تاہم دوسری جانب سینیئر پارٹی رہنماؤں نے عمران کو مشورہ دیا ہے کہ 70 پارلیمانی کمیٹیوں کی ممبرشپ کھونا کسی صورت ایک صائب فیصلہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرنی چاہیے کیونکہ 2022 میں بھی استعفے دینے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے تھے بلکہ حکومت نے عدری اکثریت کی بنیاد پر مرضی کے فیصلے کر لیے تھے کیونکہ اسے قومی اسمبلی میں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ تاہم عمران خان مصر ہیں کہ اگر حکومت اور فوج نے  قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کا دباؤ نہ لیا تو پھر اراکین قومی اسمبلی کو مستفی ہونے کے لیے کہا جائے گا۔

 

یاد رہے کہ اس سے پہلے بانی تحریک انصاف نے اپنی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کو ویٹو کرتے ہوئے محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لئے نامزد کر دیا ہے۔ انہوں نے سینیٹ میں مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین سینیٹر راجہ ناصر عباس کو قائد حزب اختلاف نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے قائدین ان دونوں فیصلوں پر ناخوش ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ عمران خان نے دونوں ایوانوں میں اپنی جماعت کی بجائے دو دوسری جماعتوں کے سربراہوں کو قائد حزب اختلاف بنا کر ایک سنگین غلطی کی ہے۔

 

ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جس محمود خان اچکزئی کو کرپٹ قرار دے کر اپنے 8 رشتہ داروں کو دھاندلی سے اسمبلی تک پہنچانے کے الزام عائد کیے تھے، اب اسے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرتے ہوئے ایک اور بڑا یوٹرن لیا ہے۔ یاد رہے کہ خان صاحب ماضی میں بطور وزیراعظم اچکزئی کو چادر اوڑھنے پر جوکر قرار دے کر ان کی نقلیں اتارتے رہے ہیں۔

 

عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی نامزدگیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کو 9 مئی کے حملوں میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا ملنے کے بعد نہ صرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا بلکہ انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت تمام قائمہ کمیٹیوں سے بھی فارغ کر دیا گیا تھا۔ لیکن عمران کی جانب سے محمود اچکزئی کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی پرانی ویڈیوز ایک بار پھر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں وہ اچکزئی کے سٹائل میں چادر اوڑھ کر انکا مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔

 

ایسی ہی ایک وائرل ویڈیو میں عمران خان نے اپنی تقریر میں محمود خان اچکزئی کے چادر اوڑھنے کے انداز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ’جوکر‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے تو میں بھی اس جوکر کے ہاتھوں پاگل بن گیا تھا اور اس کی عزت کرنے لگا تھا۔ عمران نے الزام عائد کیا کہ اچکزئی ایک کرپٹ شخص ہے جس نے اپنے 8 رشتہ دار کو دھاندلی کے زور پر اسمبلی میں پہنچا دیا اور اپنے بھائی کو گورنر بنوا دیا ہے۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد ناقدین عمران خان کو ڈبل سٹینڈرڈز والا سیاستدان قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button