عمران خان اور فیض حمید کی پارٹنر شپ 9 مئی کے بعد تک چلتی رہی : خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کا مرکزی کردار جنرل فیض تھے،ان کی پارٹنرشپ 9 مئی میں بھی چلی 9 مئی کےبعد بھی یہ پارٹنرشپ چلتی رہی کوئی اس سے انکاری ہےتو ثبوت موجود ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف ںے کہا کہ 5 سے 6 سال عمران خان اور جنرل فیض حمید اکھٹے حصہ دار تھے، عمران خان کو اقتدار میں لانےکا مرکزی کردار جنرل فیض تھے،جنرل فیض حمید اور عمران خان کی پارٹنر شپ 2018 سے پہلےکی ہے یہ پارٹنرشپ 9 مئی میں بھی چلی 9 مئی کے بعد بھی یہ پارٹنرشپ چلتی رہی کوئی اس سے انکاری ہے تو جو ثبوت اور شواہد موجود ہیں اور اس سے پچھلے 6 سال کی پارٹنرشپ ثابت بھی ہو جائے گی۔
خواجہ آصف ںے کہاکہ عمران خان کو کس طرح اقتدار میں لایا گا، کس طرح آر ٹی ایس بٹھایا گیا، کس طرح پی ٹی آئی کو 2018ء کے انتخابات میں ہر طرح امداد دی گئی، کس طرح مخالفین کو قید کیاگیا، جعلی مقدمے بنائی گئے، ان کے خاندانوں کےخلاف مقدمات بنائےگئے، کس طرح لوٹ مار کی گئی، کس طرح بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے بڑےبڑے بزنس ٹائیکون کے ساتھ مل کر کرپشن کی، پی ٹی آئی کی حکومت کےدوران سینیٹ انتخابات ہوئے ان تمام چیزوں کے پیچھے آپ کو یہی 2 سے 3 کردار نظر آئیں گے۔
وزیر دفاع کاکہنا تھاکہ عمران خان کے ملٹری ٹرائل سے متعلق قانون فیصلہ کرے گا، عمران خان کےدور کے دوران کئی لوگوں کا ملٹری ٹرائل ہوا،شہادتیں سامنے آئیں گی تو لازمی طور پر کچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نےکہا کہ پی ٹی آئی نے 12 لوگوں کی شہادتوں کا کوئی ثبوت کل اسمبلی میں پیش نہیں کیا،علی امین گنڈاپور کے گارڈز نے خود اپنے بندےمارے اس کا ملبہ پولیس اور رینجرز پر ڈالا جارہا ہے،یہ لوگ 12 بندوں کی بات کرتےہیں جو پانچ لوگ رینجرز اور پولیس کے شہید ہوئےہیں ان کی بات کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ پاکستانی نہیں ؟سوشل میڈیا پر جو کچھ دکھایا جاتاہے وہ سب سچ نہیں۔
