بشیر میمن نے عمران کی مریم مخالف سازش کیسے ناکام بنائی؟

اداروں کی جانب سے مبینہ کارروائیوں پر واویلا مچانے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنے دور اقتدار میں ریاستی اداروں کو سیاسی مخالفین کیخلاف انتقامی کارروائیوں کیلئے استعمال کرنے کے حوالے سے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب وفاقی تحقیقاتی ادارےایف آئی اےکے سابق سربراہ بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ ارشد ملک ویڈیو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے بار بار اُن پر دباؤ ڈالا۔وہ مجھ پر دباؤ ڈالتے تھے کہ ناصر جنجوعہ پر تشدد کر کے انہیں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دینے پر مجبور کریں ۔انہوں نے کہا عمران خان کا اصرار تھا کہ بیان دلوانے کیلئے ہر قانونی اور غیر قانونی طریقہ استعمال کیا جائے۔بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے جھوٹا اعترافی بیان دینے پر مجبور کرنے کیلئے بار بار انہیں تمام قانونی اور غیر قانونی طریقے بشمول تشدد اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال کرنے پر مجبور کیا۔ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے مطابق انہوں نے سابق وزیراعظم اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
بشیر میمن کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ ناصر جنجوعہ کا ویڈیو اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں، ناصر جنجوعہ کے بے گناہ ہونے کا سن کر عمران خان بہت ناراض ہوئے۔
واضح رہے کہ ناصر جنجوعہ نواز شریف فیملی کے قابل اعتماد دوست تصور کیے جاتے ہیں۔
ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کا مزید کہنا تھا کہ جولائی 2019 میں مریم کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے دیگر اہم رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے سابق احتساب جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں جج ارشد ملک نے اعتراف کیا تھا کہ انہیں 2018 کے عام انتخابات سے قبل العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی شخصیات کی جانب سے بلیک میل کیا گیا اور دباؤ ڈالا گیا تاکہ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار کی جا سکے، اس پریس کانفرنس اور جج ارشد ملک کے اعترافی بیان کے بعد عمران خان بہت برہم تھے۔ میمن کا مزید کہنا تھا کہ اس پریس کانفرنس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس میں منصوبہ بندی کی گئی کہ کیسے ناصرجنجوعہ، جو کہ نواز شریف کے 30 سال پرانے قابل اعتماد دوست کو اصل مجرم بنایا جانا چاہیے کیونکہ وہ ایک بزنس مین ہیں اور ان کا مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننا آسان ہدف ہوگا۔ میمن نے کہا کہ پی ایم ہاؤس سے طاقتور بیوروکریٹ اعظم خان باقاعدگی سے اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ ناصر جنجوعہ کو مریم نواز اور ن لیگ کے دیگر رہنماؤں کے خلاف ہونے پر مجبور کیا جائے ناصر جنجوعہ سے یہ اعترافی بیان ڈلوایا جائے کہ اس نے جج ارشد ملک کو بلیک میل کرکے ان کی اعترافی ویڈیو ریکارڈ کی تھی جسے مریم نے پریس کانفرنس میں استعمال کیا تھا۔ میمن نے کہا کہ انہیں میاں ناصر جنجوعہ کے خلاف یہ احکامات وزیراعظم ہاؤس میں عمران خان سے ملاقاتوں کے دوران دئیے گئے تھے اور اعظم خان واٹس ایپ پیغامات میں ناصر جنجوعہ کے خلاف کارروائی کے لیے فالو اپ کرتے تھے۔ میمن نے انکشاف کیا کہ ایف آئی اے نے میاں ناصر جنجوعہ سے پہلے اور دوبارہ ایف آئی اے کی تفتیشی جے آئی ٹی کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کے دوران تمام پہلوؤں سے تفتیش کی تھی لیکن ان کے خلاف کسی بھی مبینہ الزام میں ایک بھی قابل اعتراض ثبوت نہیں ملا۔ وہ بے گناہ ثابت ہوئے ، اسی لیے ایف آئی اے نے 7 ستمبر 2019 کو انہیں کیس سے بری کر دیا اور عدالت نے بھی اتفاق کیا اور ایف آئی اے کی ڈسچارج رپورٹ کی منظوری دے دی۔ میمن نے کہا کہ انہوں نے عمران خان اور سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ناصر جنجوعہ اور مریم دونوں کا ویڈیو اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کو انھیں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایف آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی لیکن ججز نے اسکینڈل کی فیکٹ فائنڈنگ میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ دلچسپی لیتی اور فائنڈنگز کے بارے میں ہم سے سن لیتی تو مجھے یقین ہے کہ اس وقت نواز شریف کی نااہلی فوراً غلط ثابت ہو جاتی؛ اس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا کہ نواز شریف کی سزا غلط تھی؛ جج ارشد ملک برطرف ہو جاتے اور میاں نواز شریف بری ہو جاتے۔ تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔
