ایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی شامل

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ تازہ ایپسٹین فائلز میں دنیا بھر کی بااثر شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نام بھی شامل ہیں۔
یہ فائلز سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے جڑے نیٹ ورک، ملاقاتوں اور ای میل خط و کتابت پر مبنی ہیں۔ اگرچہ ان میں سیکڑوں سیاستدانوں، کاروباری شخصیات اور عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے نام موجود ہیں، مگر پاکستان سے متعلق حوالہ جات محدود اور زیادہ تر سرسری نوعیت کے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض ای میلز میں پولیو کے خاتمے سے متعلق پروگرام اور اس میں ممکنہ رکاوٹوں کا ذکر آیا، اور کچھ خطوط میں عمران خان کے نام کا تذکرہ بھی آیا۔ اسی طرح 2010ء کی ایک ای میل میں شاہ محمود قریشی کا نام شامل تھا، جبکہ ستمبر 2018 کی ایک ای میل میں جیڈ زیٹلِن نے عمران خان کی قیادت سے متعلق ذاتی رائے دی۔
پاکستان سے متعلق دیگر حوالہ جات میں ایپسٹین کی شلوار قمیض میں دلچسپی اور ملبوسات کی شپمنٹ کا ذکر بھی شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی کئی بار آیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ نئی دستاویزات میں ان کے خلاف کوئی غیر قانونی ثبوت موجود نہیں اور یہ الزامات ان کے خلاف ثابت نہیں ہوتے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں شامل تمام ناموں کو یکساں زاویے سے دیکھنا درست نہیں، اور پاکستان سے متعلق حوالہ جات محدود اور غیر مرکزی نوعیت کے ہیں، تاہم فائلز کے اجرا نے ایک بار پھر عالمی سطح پر طاقتور حلقوں کے روابط پر بحث کو جنم دیا ہے۔
