عمران خان نے سیاسی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر جاری اختلافات کے بعد عمران خان نے کئی ہفتوں کی خاموشی توڑتے ہوئے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پارٹی میں بڑھتی بےچینی اور اندرونی اختلافات کے تناظر میں عمران خان نے یہ اہم اقدام اٹھایا ہے اور کئی ہفتوں بعد پہلی بڑی تنظیمی تبدیلی کی ہے۔

عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موجودہ بڑی سیاسی کمیٹی کی جگہ ایک محدود رکنیت پر مشتمل چھوٹی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس کا مکمل اختیار پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس ہوگا۔

عمران خان نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ سیاسی کمیٹی کو آج تحلیل کیا جا رہا ہے، جبکہ سلمان اکرم راجہ کو یہ مکمل حق دیا گیا ہے کہ وہ نئے ارکان کے ساتھ ایک مختصر کمیٹی بنائیں، پارٹی کی سیاسی حکمت عملی تیار کریں اور اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنائیں۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ تقریباً 40 ارکان پر مشتمل پرانی کمیٹی کی جگہ جلد ہی کم تعداد پر مشتمل ایک نئی کمیٹی لائی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق نئی کمیٹی میں ممکن ہے کہ صوبائی صدور، اپوزیشن لیڈرز اور کچھ منتخب اراکین شامل کیے جائیں۔

چونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو متعدد بار مسترد کرچکا ہے، اس لیے پارٹی کے پاس کور کمیٹی کی صورت میں باضابطہ منتخب قیادت موجود نہیں، اور تمام روزمرہ معاملات تاحال سیاسی کمیٹی کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔

سینئر رہنما اسد قیصر نے بتایا کہ سیاسی کمیٹی کو ختم کرنے کی تجویز متعدد بار کمیٹی کے اندر سے ہی سامنے آ چکی تھی۔
ان کے بقول، اس کی ایک بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ کمیٹی کے اندر ہونے والے فیصلے مسلسل لیک ہو رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ کافی عرصے سے زیر غور تھا، اس لیے اس فیصلے کے وقت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔

اسد قیصر نے اعلان کیا کہ اب مرکزی و صوبائی قیادت اور اتحادی جماعتوں پر مشتمل ایک نئی کوآرڈی نیشن کمیٹی قائم کی جائے گی۔

یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ کچھ عرصہ قبل پارٹی کی جانب سے ایک اندرونی ہدایت جاری ہوئی تھی جس کا مقصد پارٹی کے زیادہ تر اختیارات سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے دفتر میں مرکوز کرنا تھا، جس پر پارٹی کے اندر بعض حلقوں نے اعتراضات بھی اٹھائے تھے اور اسے اندرونی جمہوریت کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

عمران خان نے ساتھ ہی شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں نیا پارلیمانی لیڈر مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں زرتاج گل یہ ذمہ داری نبھا رہی تھیں تاہم وہ سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے یہ عہدہ چھوڑ چکی ہیں۔
مزید برآں عمران خان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہدایت دی ہے کہ وہ انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کو دوبارہ فعال کریں۔

عمران خان نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ وہ افراد جو مخالفین سے رابطہ رکھتے ہیں، ان کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے این ڈی یو ورکشاپ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی شرکت کو ’شرمناک‘ قرار دیا اور کہا کہ جب ایک جانب پارٹی شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، تو دوسری جانب اپنے ہی لوگ ان حلقوں سے میل جول رکھ رہے ہیں جو پارٹی قیادت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ تنقید ان رہنماؤں پر کی گئی تھی جو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کی ورکشاپ میں شریک ہوئے تھے، اور سوشل میڈیا پر ان کے مخالفین کے ساتھ دوستانہ انداز میں نظر آنے کی وجہ سے انہیں شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

خیبر پختونخوا کے ترجمان شفیع اللہ جان نے ڈان نیوز سے گفتگو میں وضاحت کی کہ ان رہنماؤں نے ورکشاپ میں اس لیے شرکت کی کیونکہ ان کے نام پارلیمانی کمیٹی اور کے پی اسمبلی کے اسپیکر نے بھجوائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ اس نوعیت کا کوئی فیصلہ قیادت کی باقاعدہ منظوری سے ہی کیا جائے گا۔

Back to top button