عمران خان کا احتجاجی تحریک کوجیل سے لیڈکرنےکااعلان

بانی تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جیل سے ہی احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے، وہ جیل میں آزاد ہیں جبکہ باہر موجود لوگ قید میں ہیں۔ عوام کو اپنے حقوق، رول آف لا، جمہوریت اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف میدان میں آنا ہوگا۔
یہ بات عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کے ہمراہ ان کی بہنیں نورین خان اور عظمیٰ خان بھی موجود تھیں۔
علیمہ خان نے بتایا کہ ان کی اور بہنوں کی عمران خان سے ملاقات ہو گئی ہے، بانی تحریک انصاف عمران خان خیریت سے ہیں، تاہم ان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ کسی بھی قیدی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا ٹی وی اور اخبارات ایک ہفتے سے بند ہیں، ان کے پاس پڑھنے یا لکھنے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں، اگر انہیں کاغذ اور قلم میسر ہوں تو وہ جیل میں ایک شاندار کتاب لکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے احتجاجی تحریک کا واضح لائحہ عمل دے دیا ہے اور کہا ہے کہ 5 اگست کو یہ تحریک اپنے عروج پر پہنچنی چاہیے، کیونکہ اسی روز انہیں جیل میں دو سال مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو کارکن یا رہنما تحریک کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، وہ ابھی سے خود کو الگ کر لے۔
گورکھپور ناکے پر علیمہ خان نے کہا کہ 10 محرم گزر چکا ہے، اب پارٹی باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ عمران خان نے پہلے ہی منصوبہ بندی کر لی ہے، جب فیملی کی گزشتہ ملاقات ہوئی تو تب یہ پلان بھی شیئر کیا گیا تھا۔ میڈیا کے سوال پر علیمہ خان نے کہا کہ ابھی احتجاج کے روٹ یا تاریخ کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں، وقت آنے پر عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
انہوں نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے 26 اراکین کو صرف مریم نواز کو خوش کرنے کے لیے معطل کیا گیا ہے، اور ان کی ہر خواہش پوری کی جاتی ہے۔ علیمہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے بھائی سے ملاقات سے بھی روکا جا رہا ہے جبکہ عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی گزشتہ دس ماہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان قید تنہائی میں رکھے گئے ہیں، ان کی کتابیں بھی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی ہیں، اور یہ سب کچھ انہیں توڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے، لیکن یہ کوشش ناکام ہوگی۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم امریکہ جا رہے ہیں، اور واپسی پر تحریک میں شامل ہوں گے، جبکہ فیملی تحریک کا بھرپور حصہ بنے گی۔
اس موقع پر جیل کے قریب سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان پیدل جیل کی طرف روانہ ہوئیں، ان کے ساتھ کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ پولیس نے انہیں ایک مقامی ہوٹل کے قریب روک دیا، بعد ازاں عمران خان سے عظمیٰ، نورین اور سلمان صفدر کو ملاقات کی اجازت ملی، تاہم علیمہ خان کو روک دیا گیا۔
ادھر بشریٰ بی بی سے ان کی بھابھی مہرالنساء نے ملاقات کی، جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان صفدر اور ظہیر عباس چوہدری کو بھی ملاقات کی اجازت دے دی گئی۔
مزید برآں، بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ اور منورہ بلوچ کو داہگل ناکے پر پولیس نے روک لیا، جبکہ سینیٹر فیصل جاوید اور ایڈووکیٹ ظہیر عباس چوہدری کو بھی گورکھپور ناکے پر آگے جانے سے منع کر دیا گیا۔
