پولیس عمران خان کی گرفتاری کیلئے رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئی

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے لیے پولیس زمان خان کے باہر پہنچ گئی، سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں زندگی میں کسی انسان کے سامنے جھکا نہ آپ کو جھکنے دوں گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے تمام پارٹی کارکنوں سے لاہور کے زمان پارک پہنچنے کی اپیل کی جب کہ ٹیلی ویژن رپورٹس میں کہا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں عدالتی سماعت سے مسلسل غیر حاضری پر سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جس طرح سے کارکنوں اور رہنماؤں نے جیل بھرو تحریک کے دوران شرکت کی، جو جوش و جذبہ دیکھا، وہ میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ آج میں ہجوم کو قوم بنتے دیکھ رہا ہوں، میں زندگی میں کسی انسان کے سامنے جھکا نہ آپ کو جھکنے دوں گا، غلام قوم کوئی بڑا کام نہیں کرسکتی، صرف آزاد قوم ترقی کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت ڈوب گئی ہے، غریب مہنگائی میں پس گیا ہے، جن لوگوں نے اس پر مسلط ہو کر اس کو تباہ کیا، ان کے پیسے باہر پڑے ہیں، ملک کیوں دنیا کے سامنے ذلیل ہو رہا ہے، کرائم منسٹر پیسے مانگ رہا ہے اور لوگ اس کو ٹھکرا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کو ذلیل کیوں کیا جا رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شہباز شریف کو کرپشن کیسز میں سزا ہونے لگی تھی کہ قمر باجوہ نے اس کو وزیراعظم بنا دیا۔
عمران خان نے کہا کہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے بارے میں فیصل آباد میں کسی سے بھی پوچھ لیں اس سے بڑا کوئی بدمعاش نہیں ہے، ان کا اپنا وزیر کہتا ہے کہ اس نے 18 قتل کیے ہیں لیکن لوگ کہتے ہیں اس سے بہت زیادہ قتل کیے ہیں اس نے، زمینوں پر قبضہ کرنے والے اور قاتل کو وزیر داخلہ بنادیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آصف زرداری جو کہ پیچھے سے بیٹھ کہ یہ کھیل کھیل رہا ہے وہ دنیا میں مانا ہوا چور ہے، سندھ میں مخالفین کو قتل کروا دیتا ہے اور مرتضیٰ بھٹو کا خاندان کہتا ہے ان کو بھی آصف زرداری نے قتل کروایا۔عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری اربوں روپے کی چوری میں پکڑا جارہا تھا جس کو بھی جنرل (ر) باجوہ نے بچایا۔
قبل ازیں اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کےلیے اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور پہنچی ہے، لاہور پولیس کے تعاون سے تمام کارروائی مکمل کی جارہی ہے۔ٹوئٹر پر جاری کیپیٹل پولیس اسلام آباد نے کہا کہ عدالتی احکامات کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اسلام آباد پولیس نے کہا کہ عمران خان گرفتاری سے گریزاں ہیں، ایس پی اسلام آباد پولیس کمرے میں گئے ہیں مگر وہاں عمران خان موجود نہیں، ٹیم عمران خان کی گرفتاری کےلیے پہنچی ہے، ادھر آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات عمران خان کو پہنچا دیے گئے ہیں، اب دوسرا مرحلہ ان کی گرفتاری ہے، پولیس کی ٹیم وہاں موجود ہے اور ان سے کہہ رہے کہ عدالتی اخکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہمارے ہمرا چلیں، ہم حتیٰ الامکان کوشش کریں گے کہ احکامات پر عمل درآمد ہو۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ عدالتی احکامات میں انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پولیس اپنا مکمل کرکے واپس آئے گی، صرف نوٹس پہنچانا نہیں تھا، وہ تو بذریعہ ڈاک بھی ارسال کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں تاکہ عدالتی احکامات کی تعمیل ہو سکے اور انہیں عدالت میں پیش کیا جا سکے، اسلام آباد اور لاہور دونوں پولیس کی ٹیمیں سابق وزیراعظم کے گھر کے باہر موجود ہیں اور انہیں گرفتار کیے بغیر نہیں جائیں گی، پولیس کا کام عدالتی احکامات پر عملدر آمد اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے، ہم پوری کوشش کریں گے کہ وہ ہمارے ساتھ آئیں۔
دوسری جانب فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے سابق وزیراعظم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان انتہائی بے شرم اور بد بخت انسان ہیں، جس وقت وہ پوری قوم کو چور چور کہہ رہا تھا، اس وقت بھی وہ خود توشہ خانہ میں چوری کر رہا تھا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان کی کوئی اخلاقی ساکھ نہیں ہے، ان کا کوئی قول و فعل نہیں ہے، صرف جھوٹ بولنا اور مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ان کا ہتھیار ہے، اس کے علاوہ انہیں کوئی اور چیز نہیں آتی۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جس دن حکومت نے عمران خان کی گرفتاری کا فیصلہ کیا، اس دن ان کی گرفتاری کوئی مشکل کام نہیں ہے، 3 دن قبل جب عمران خان ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تو ان کو گرفتار کیا جاسکتا تھا، اسی طرح 25 مئی کو ان کو گرفتار کیا جاسکتا تھا، لیکن ان کے خلاف عدالتوں میں کیسز زیر التوا ہیں اور ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ انہیں عدالتی احکامات کے تحت سزا اور ان کی گرفتاری ہونی چاہیے اور یہ نا اہل ہونا چاہیے، اس میں حکومت اپنے طور پر اقدامات میں پہل نہ کرے۔
مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے تھوڑی سی بہادری عمران خان کو ادھار دے دیں، قوم لیڈر اور گیڈر کا فرق جان گئی ہے، ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ شیر بے گناہ بھی ہو تو بیٹی کا ہاتھ تھام کر لندن سے پاکستان آکر گرفتاری دیتا ہے اور گیڈر چور ہو تو گرفتاری سے ڈر کے دوسروں کی بیٹیوں کو ڈھال بنا کر چھپ جاتا ہے، مریم نواز نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ باہر نکلو بزدل آدمی! لیڈر اور گیڈر کا فرق جان گئی قوم۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ نے نے سابق وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی دین ایمان نہیں ہے، گرفتاری اور اپنے خلاف کیسز کی نوعیت دیکھتے ہوئے گھبرا گیا ہے۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اب تو ٹانگ کا بہانہ بھی نہیں رہا، اس کا کوئی اعتبار بھی نہیں، پاکستان کو یہ آگے نہیں بڑھنے دے گا۔
اس ملک کا مستقبل کیا ہوسکتا ہےجس پر مجرم، حکمران بنا کر مسلط کر دیے جائیں، عمران خان
دوسری جانب سابق عمران خان نے کہا کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوسکتا ہےجس پر حکمران بنا کر مجرم مسلط کر دیے جائیں، شہبازشریف 8 ارب کی منی لانڈرنگ میں نیب اور 16 ارب کی کرپشن میں ایف آئی اے کی جانب سےمجرم قرار پانے والا تھا جب نیب مقدمات پر کارروائی کو التوا کا شکارکرنے والےجنرل (ریٹائرڈ) باجوہ نے اسےبچایا۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس شخص پر مقدمہ چل رہا تھا جب اسے وزارتِ عظمیٰ پر بٹھایا گیا، تب سے یہ شخص ان اداروں کےسربراہ مقررکرنے پر لگا ہوا ہے جو اس کے خلاف مقدمات کی تحقیقات کررہےہیں-
عمران خان نے کہا کہ پہلے ایف آئی اے اور اب نیب تاکہ 16ارب کی کرپشن اور 8ارب کی منی لانڈرنگ کےمقدمات سےخود کومستقل طور پر بری کروا سکے، ایک ملک اسی طرح تو ’بنانا ریپبلک‘بنتا ہے۔
ثاقب نثار، فیض حمید اس وقت بھی عمران خان کیلئے لابنگ کر رہے ہیں
