عمران خان نے 14اگست کوملک گیراحتجاج کی کال دیدی

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے 5 اگست کے بعد اب 14 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کی نئی کال دے دی ہے، جو حقیقی آزادی کی جدوجہد کا حصہ ہے۔

اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی بہنوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ علیمہ خان نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی بہن عظمیٰ خان کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کا موقع ملا۔ تینوں بہنیں جیل کے باہر موجود تھیں۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پارٹی کے جن ارکان کو نااہل قرار دیا گیا ہے، ان کی نشستوں پر کسی نئے امیدوار کو نامزد نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ فیصلے غیر قانونی اور غیر منصفانہ طریقے سے کیے گئے ہیں۔

عمران خان نے حالیہ احتجاج میں عوام کی شرکت کو سراہا اور کہا کہ ظلم، جبر اور دباؤ کے باوجود عوام کا سڑکوں پر نکلنا لائقِ تحسین ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی پاکستان واپسی سے متعلق بھی دریافت کیا۔

علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کو آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بھی عوام نے احتجاج میں بھرپور حصہ لیا، جس پر انہوں نے پوری قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ظلم آج ہو رہا ہے، وہ ماضی کے آمروں کے اقدامات سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یحییٰ خان نے اپنے اقتدار کی خاطر ملک کو تقسیم کیا، اور آج پھر قوم کو اسی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ میڈیا کی آزادی سلب ہو چکی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ قوم حقیقی آزادی کیلئے اٹھ کھڑی ہو۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے اپنی ذات پر ہونے والے سلوک پر کوئی شکایت نہیں کی، لیکن 14 اگست کو نئے احتجاج کا اعلان ضرور کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے، اس لیے قوم کو اب سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو پیغام دیا کہ گرفتاریوں اور جیلوں سے نہ گھبرائیں۔

علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جن رہنماؤں کو نااہل قرار دیا گیا ہے، ان کی جگہ کسی دوسرے کو نامزد نہ کیا جائے کیونکہ یہ نااہلیاں ناجائز بنیادوں پر کی گئی ہیں۔

ان کے مطابق عمران خان نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی واضح پیغام دیا ہے کہ موجودہ آپریشن کو فوراً روکا جائے۔ "اپنے ہی لوگوں کے خلاف کارروائیاں پارٹی سے نفرت بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اس مسئلے کا حل طاقت سے نہیں بلکہ روایتی جرگوں کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ اگر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور آپریشن نہیں روک سکتے تو انہیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔”

Back to top button