عمران خان کو سیاسی محاذ پر ایک اور بڑی شکست کا سامنا

اتحادی حکومت کی جانب سے مجوزہ آئینی ترامیمی پیکج منظور کروانے کے لیے بظاہر مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کر لینے کے بعد اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو سیاسی محاذ پر ایک اور بڑی شکست ہونے جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف نے ان ائینی ترامیم کو مسترد کروانے کے لیے تمام امیدیں اپنے سابقہ حریف مولانا فضل الرحمن سے وابستہ کر رکھی تھیں جو اب حکومتی اتحاد کے ساتھ مل گئے ہیں اور یوں حکومت کو مطلوبہ نمبرز حاصل ہو گئے ہیں۔
حکومتی منصوبے کے مطابق ملک بھر میں آئینی عدالتوں کے قیام، ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے، اور چیف جسٹس کی تقرری کا نیا طریقہ کار اپنانے سے متعلق 26ویں آئینی ترامیم کا پیکج شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے فوری بعد پیش کر دیا جائے گا چونکہ حکومت کو مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ اسی لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 17 اکتوبر کو بلا لیے گئے ہیں جہاں ترمیمی پیکج کو منظوری کے لیے پیش کردیا جائے گا۔
رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ کی سربراہی میں قائم آئینی ترمیم کی اسپیشل کمیٹی میں پارلیمانی جماعتوں نے اپنے اپنے مجوزہ ترمیمی مسودے پیش کیے جبکہ پی ٹی آئی نے کوئی مسودہ پیش نہیں کیا اور دیگر جماعتوں کے پیش کیے گئے مسودوں پر تفصیلی مشاورت کی تجویز دی جسے مسترد کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آئینی ترمیم پیش کرنے میں بہت تاخیر ہو چکی ہے، یہ ترمیم ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کے مفاد میں ہے۔
چیئرمین کمیٹی پہلے ہی ذیلی کمیٹی کو آئینی مسودوں کا جائزہ لے کر حتمی مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کرچکے ہیں اور اب غالب امکان ہے کہ یہ حتمی مسودہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو قومی اسمبلی کے 336 کے ایوان میں 224 اور سینیٹ کے 96 کے ایوان میں 64 ارکان کی حمایت درکار ہے، جبکہ اس وقت قومی اسمبلی میں اسے 214 اور سینیٹ میں 54 ارکان کی حمایت حاصل ہے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے مزید 10، 10 ارکان کی حمایت درکار ہے جو مولانا فضل الرحمن کا ساتھ مل جانے کے بعد حاصل ہو جائے گی۔
دودری جانب اگر الیکشن کمیشن اگر مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں دیتا تو قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کو جمیعت علمائے اسلام کی حمایت کے بغیر بھی 2 تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی اور اس کی مجموعی نشستوں کی تعداد 230 ہو جائے گی۔ اگر مخصوص نشستیں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں میں تقسیم نہیں کی جاتیں تو اس صورت میں جمعیت علماء اسلام کی 8 نشستوں اور 2 پی ٹی آئی یا دیگر ارکان کی حمایت سے حکومت مطلوبہ نمبرز حاصل کرتے ہوئے آئینی ترمیم منظور کرانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو سینیٹ میں بھی 2 تہائی اکثریت یعنی 64 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے، اس وقت حکمران اتحاد کو پیپلز پارٹی کے 24، مسلم لیگ ن کے 19، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، ایم کیو ایم کے 3 اور 4 آزاد ارکان سمیت مجموعی طور پر 54 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ 2 تہائی اکثریت پوری کرنے کے لیے اسے مزید 10 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت سینیٹ میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 17، جمیعت علمائے اسلام کے 5، اے این پی کے 3، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، مسلم لیگ ق کا ایک ایک جبکہ ایک آزاد رکن بھی موجود ہے، جن کی مجموعی تعداد 31 بنتی ہے۔
اگر حکومت سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام کے 5 ارکان سینیٹ کی حمایت حاصل بھی کر لیتی ہے تو اسے آئینی ترمیم کے لیے مزید 5 ارکان کی ضرورت ہو گی اور 63 اے کے فیصلے کے بعد اپوزیشن کے ارکان میں سے محض 5 اراکین کے ووٹوں سے بھی حکومت سینیٹ میں 2 تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔
خیال ریے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد کسی بھی جماعت کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 93 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جن کی تعداد سب سے زیادہ تھی، مسلم لیگ ن 75 جبکہ پیپلز پارٹی 54 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ کو 17، جمعیت علمائے اسلام کو 5 اور مسلم لیگ ق کو 3 نشستیں حاصل ہوئی تھیں جبکہ مسلم لیگ ضیا، مجلس وحدت المسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ منتخب ہونے والے آزاد اراکین کی تعداد 9 تھی۔
قومی اسمبلی کی پارٹی پوزیشن لسٹ کے مطابق حکمراں اتحاد میں ن لیگ کے پاس اس وقت 87 جنرل نشستیں، خواتین کی 20 اور 4 اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سمیت مجموعی طور پر 111 نشستیں ہیں، دیگر اتحادیوں میں پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی میں 54 جنرل، 13 خواتین اور 2 اقلیتی نشستوں کے ساتھ کل تعداد 69 ہے۔ ایم کیو ایم 5 مخصوص نشستوں کے ساتھ 22، مسلم لیگ ق کی ایک مخصوص نشست کے ساتھ 5 نشستیں، استحکام پاکستان پارٹی کی ایک مخصوص نشست کے ساتھ 4 نشستیں جبکہ مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی قومی اسمبلی میں ایک ایک نشست ہے۔
الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 60 خواتین اور 10 اقلیتوں کی مخصوص نشستوں میں سے بالترتیب 40 اور 7 نشستیں پہلے سے سیاسی جماعتوں کو الاٹ کردی تھیں کیونکہ اس وقت تک سنی اتحاد کونسل کے کوٹے میں آنے والی 23 نشستوں کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔ الیکشن کمیشن اب اگر پی ٹی آئی کے کوٹے کی 23 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دے دیتا ہے تو 14 نشستیں ن لیگ، 6 پیپلز پارٹی جبکہ 3 جمیعت علمائے اسلام کو مل جائیں گی۔
