عمران فارن فنڈنگ کے کس کیس میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے؟

تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ بارے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جماعت کو دبئی میں رجسٹرڈ ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی نامی ایک کمپنی نے 21 لاکھ ڈالرز سے زائد کی رقم بطور پارٹی فنڈ دی تھی جس کی پاکستانی روپوں میں مالیت 40 کروڑ سے زائد بنتی یے۔ قانونی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کے بینک اکاونٹس میں ہونے والی یہ ٹرانزیکشن واضح طور پر غیر قانونی فارن فنڈنگ کے زمرے میں آتی ہے اور تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے لیے یہ ایک کیس ہی کافی ہوگا۔
یاد رہے کہ آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی پاکستانی سیاسی جماعت کو سوائے پاکستانی فرد کے کوئی پاکستانی کمپنی یا این جی او بھی فنڈنگ نہیں کر سکتی، جبکہ اس معاملے میں تو ایک غیر ملکی کمپنی تحریک انصاف کو فنڈنگ کرتی دکھائی دیتی ہے جو کہ غیر قانونی فارن فنڈنگ کا کیس بنتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی دراصل ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی ملکیت ہے جو 2019 سے لندن میں گرفتار ہیں اور امریکا حوالگی سے بچنے کی خاطر عدالتی جنگ میں مصروف ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ عارف نقوی کی ملکیتی اس کمپنی کا نام ووٹن کرکٹ لمیٹڈ اس لیے رکھا گیا کہ عارف لندن سے 100 کلومیٹر دور واقع آکسفورڈ شائر کے علاقے ووٹن میں بھی ایک رہائش گاہ رکھتے تھے جہاں انہوں نے کئی ایکڑ اراضی پر مشتمل ایک محل نما گھر بنا رکھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس گھر میں عمران خان بھی ماضی میں کئی مرتبہ بطور نقوی کے مہمان قیام پذیر رہ چکے ہیں۔ اس محل میں ایک کرکٹ گراؤنڈ بھی موجود ہے جہاں ماضی میں پاکستانی کرکٹرز بھی جا کر کھیلتے رہے ہیں۔ برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات میں یہ رہائش گاہ بلڈ لیس ایسٹس لمیٹڈ Bloodless Assets Ltd کی ملکیت کے طور پر رجسٹرڈ تھی لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کا اصل مالک عارف نقوی تھا۔ تاہم 2019 میں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے گرفتاری کے ایک برس بعد ستمبر 2020 میں نقوی نے اس پراپرٹی کو 12 ملین پاؤنڈز میں فروخت کروا دیا۔
اومیکرون تیزی سے پھیلنے لگا، ایک روز میں 900 کرونا کیسز رجسٹرڈ
لیکن ووٹن پیلیس کے سابقہ رہائشی ابراج گروپ کے مالک نقوی اس واقعے سے بہت پہلے 2013 میں عمران خان کی تحریک انصاف کو ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی کے اکاؤنٹ سے 21 لاکھ ڈالرز یعنی 40 کروڑ پاکستانی روپے بطور پارٹی فنڈ عنایت کر چکے تھے جو اب خان صاحب کے گلے پڑنے والے ہیں کیونکہ یہ واضح طور پر غیر قانونی فارن فنڈنگ کا کیس ہے جسکے ثابت ہونے پر ان کی جماعت پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے اکاؤنٹس میں اس رقم کے وصول ہونے کے شواہد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تیار کردہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے صفحہ نمبر 88 پر درج ہیں۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ یونائیٹڈ بینک آف پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جو دستاویزات فراہم کی ہیں ان کے مطابق تحریک انصاف کو برطانوی کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ نے کئی اقساط میں 28 فروری 2013 سے 10 اپریل 2013 تک 21 لاکھ ڈالرز سے زائد بطور پارٹی فنڈز دیے تھے جن کی مالیت 40 کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانزیکشن عمران کی تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کا ایک بہت مضبوظ ثبوت ہے جس پر حکومتی جماعت بندی کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے پاکستانی قوانین بڑے واضح ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو صرف ایک فرد ہی ذاتی حیثیت میں فنڈنگ کر سکتا ہے جبکہ کسی پاکستانی کمپنی یا این جی او سے بھی پارٹی کے لیے فنڈز لینے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسے میں جب دبئی میں رجسٹرڈ ایک غیر ملکی کمپنی کی جانب سے تحریک انصاف کو چالیس کروڑ روپوں کی فنڈنگ کا ثبوت سامنے آجائے تو پھر حکومتی جماعت اور وزیراعظم کا بچنا محال ہے۔
یاد رہے کہ لندن میں زیر حراست ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کو عمران خان کا سپانسر بھی کہا جاتا ہے۔ عارف نقوی کے عمران خان سے قریبی تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب 2019 میں انہیں لندن ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تو انہوں نے رابطے کے لیے جن شخصیات کے نمبر دیے، ان میں ایک فون نمبر عمران خان کا بھی تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کپتان سے کس قدر گہرا اور قریبی تعلق ہے۔ عمران کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی اپنی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ عارف نقوی نے 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی مالی معاونت کی تھی۔ خیال رہے کہ عارف نقوی کی جانب سے تحریک انصاف کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی مالی معاونت پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے نیب کو تحقیقات کے لیے کہا تھا۔ نیب نے یہ انکوائری 2016 میں ختم کر دی تھی اور باقاعدہ پریس ریلیز میں اس کا اعلان بھی کیا تھا۔
واضح رہے کہ ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی پر متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ میں کیسز چل رہے ہیں۔ نیویارک کی عدالت ابراج گروپ اور ان کے دیگر شراکت داروں پر فردجرم عائد کر چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نقوی نے ابراج گروپ کے ذریعے مختلف کاموں کے لئے حاصل سرمائے کو اپنے اکاؤنٹس اور اپنے اہل خانہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا۔ نیویارک کی عدالت کی جانب سے فرد جرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عارف نقوی نے ایک اور پاکستانی سیاستدان کو ابراج کے فنڈ سے 2013 سے 2016 کے درمیان کئی بار رشوت دی تاہم اس پاکستانی سیاستدان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ تاہم اب خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شخص عمران خان ہو سکتے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں جو حقائق بتائے گئے ہیں وہ اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
