عمران خان کے پاس استعفے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کپتان مخالف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 200 سے زائد ممبران قومی اسمبلی کی حمایت حاصل کر لینے کے دعوے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ
کیا وزیراعظم عمران خان تحریک کا سامنا کریں گے یا ووٹنگ سے پہلے ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے؟
اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید کپتان کو عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کی بجائے اعتماد کا ووٹ لینا پڑ جائے جس میں وہ بری طرح ناکام ہوں گے اور بات استعفے پر ہی آکر ختم ہو گی۔ 17 مارچ کا دن وزیراعظم عمران خان پر یوں بھاری ثابت ہوا کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے والے دو درجن اراکین اسمبلی کی سندھ ہاؤس اسلام آباد میں اپوزیشن اراکین کے ساتھ موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔ کپتان کے لیے مزید بری خبر حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایم این اے رامیش کمار نے دی جنہوں نے انکشاف کیا کہ تین وفاقی وزراء بھی پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔
ایک اور بری خبر یہ سامنے آئی ہے کہ عمران کا ساتھ چھوڑنے والے دو درجن سے زائد حکومتی اراکین قومی اسمبلی میں سے سات کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ چنانچہ کپتان کی کہانی تیزی کے ساتھ اپنے کلائمیکس کی طرف بڑھ رہی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرتے ہیں یا اس سے پہلے ہی مستعفی ہو جاتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وزیراعظم قومی اسمبلی توڑنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے اور ان کے پاس واحد راستہ استعفے کا بچتا ہے۔
تاہم کچھ حکومتی کی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک فائٹر ہیں، وہ آخری لمحے تک جنگ جاری رکھیں گے لہذا ان کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کا دماغ پھر گیا اور انہیں اپنی فراغت کا یقین ہو گیا تو وہ جاتے جاتے ساتھ میں اس کا سر بھی لے کر جائیں گے جس کے ایما پر یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب عمران خان کوئی بھی بڑا انتظامی فیصلہ لینے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اور ان کے پاس اس استعفے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں ہے۔ اسلام آباد کے حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی ارکان کے بدلتے تیوروں کا وزیرِاعظم کو اندازہ بہت پہلے ہو گیا تھا اور وہ 8 مارچ کو ہی اسمبلی توڑنے جارہے تھے، لیکن اپوزیشن نے اسی دن تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی جس کے نتیجے میں یہ آپشن بھی جاتا رہا۔
اسلام آباد کے حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ اگر حکومتی اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتیں مشترکہ پریس کانفرنس کرکے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیں تو وزیرِاعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا، جس میں ان کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں لہٰذا یہ عین ممکن ہے کہ وزیرِاعظم مستعفی ہوجائیں۔ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے اور کچھ وزرا بھی اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ عدم اعتماد کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ ان کا اشارہ وزیرِاعظم کے مستعفی ہونے کی طرف ہے۔ حکومتی اتحاد کے ایک رکن نے کہا کہ ’ہم پریشان تھے کہ ابھی تک کوئی فون کیوں نہیں آیا، آخرکار جب انتظار ختم ہوا تو اس کے بعد ہم نے اپنی حکمتِ عملی بنانی شروع کی۔ اب تو صورتحال آپ کے سامنے ہے، مجھے لگتا ہے کہ ادارے کے اندر کی لڑائی باہر آگئی ہے اور ہمیں اپنا فیصلے خود کرنے کا موقع مل گیا ہے‘۔
بتایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے والے ممبران قومی اسمبلی کو تینوں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اگلے الیکشن میں اپنے ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 14، پیپلز پارٹی نے 6 اور جے یو آئی (ف) نے 4 حکومتی ارکان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ انہیں عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیے جائیں گے‘۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو کیا موجودہ قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی یا وقت سے پہلے اسمبلی کو توڑ کر 3 ماہ میں نئے انتخابات کروادیے جائیں گے؟ اس بارے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی الفاظ کے فرق کے ساتھ ایک ہی رائے سننے کو ملتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نومبر، دسمبر تک تو اسمبلی قائم رہے گی تاکہ انتخابی قوانین کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ نئے آرمی چیف کی تقرری یا موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کا معاملہ دیکھا جائے۔
