ٹائم” کے سرورق پر عمران کی تصویر سے عمرانڈو شرمندہ کیوں؟

انگریزی کہاوت ہے کہ کسی کتاب کو اس کے سرورق سے نہیں جانچنا چاہیے مگر سیاسی جماعتوں اور ان کے حامیوں کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان ملکی اورغیر ملکی میڈیا میں یکساں مقبول ہیں اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ان کے انٹرویوز سامنے آتے ہیں اور ان کے مداح بس لفافہ دیکھ کر خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں نفسِ مضمون پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ۔تازہ ترین مثال امریکی میگزین ٹائم کی ہے جس کے تازہ شمارے کے سرورق پرعمران خان براجمان ہیں اور اندر کے صفحات پر ان کے بارے میں ایک طویل مضمون چھپا ہے۔ان کے حامی اس بات پر خوش ہیں کہ عمران خان کی تصویر اتنے موقر جریدے کی زینت بنی ہے۔
امریکی جریدے ’ٹائم میگزین‘ نے اپنے تازہ ایڈیشن میں عمران خان کے بارے میں ایک کور اسٹوری شائع کی ہے جس کے عنوان ’عمران خان کی حیران کن کہانی‘ کے ساتھ اُن کی تصویر بھی سرورق پر لگائی۔ اس آرٹیکل نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی بھرپور توجہ حاصل کی اور سابق وزیر اطلاعات و رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے اسے فوری طور پر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا اور ساتھ ہی اس کے سرورق کی تصویر بھی لگائی۔ فواد چوہدری سمیت درجنوں پارٹی رہنماؤں نے مضمون پڑھے بغیر ٹوئٹر پر عمران خان کی مدح سرائی شروع کی اور بعد میں شرمندگی اٹھانا پڑی کیونکہ ٹائم میگزین کی رپورٹ میں عمران خان کے دورِ حکومت پر سنجیدہ نوعیت کے سوال اٹھائے گئے ہیں اور امریکی جریدے ٹائم نے پاکستان کی معاشی تباہی کا ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو قرار دیا ہے۔جریدے ٹائمز کے مطابق عمران خان کے دور میں کوئی وزیر خزانہ ٹک نہ پایا، بدانتظامی اور نااہلی کے سبب آئی ایم ایف سے معاہدہ ٹوٹا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کے دور میں مذہبی شدت پسندی بڑھی،اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا گیا۔امریکی جریدے کے مضمون میں عمران خان کو کٹھ پتلی، دہشتگردوں کا حامی، اسٹیبلشمنٹ کا سہولت کار اور خواتین کے لباس پر بے ہودہ باتیں کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔
یہ مغربی رسائل میں شائع ہونے والے عمومی آرٹیکلز کی طرح کچھ تعریف اور کچھ تنقید سے بھرا آرٹیکل تھا جس میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کیا گیا اور پاکستان اور عمران خان دونوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی گئی۔ٹائم میگزین نے عمران خان کے ساتھ زوم پر انٹرویو بھی کیا لیکن سوال و جواب کے فارمیٹ کے بجائے پورے آرٹیکل میں انٹرویو کے اقتباسات شائع کیے گئے، جن میں کہیں ان کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا اور کہیں ان کی ناکامیوں پر روشنی ڈالی گئی، انٹرویو کے کچھ اقتباسات کو ٹائم میگزین کی عمران خان اور پاکستان کے بارے میں مثبت اور منفی پیش گوئیوں کی توثیق کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔لیکن عمران خان کے حامیوں کو یہ انداز پسند نہیں آیا اور انہوں نے اپنے ناپسندیدہ پاکستانی پبلی کیشنز پر ردعمل کی طرح اِس کا غصہ بھی ٹائم میگزین اور مصنف چارلس کیمبیل پر نکال دیا۔
پی ٹی آئی کے ایک حامی معاذ الدین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’ٹائم میگزین کا تبصرہ عالمِ اسلام کے بارے میں مغرب کے دہرے معیار، محدود نکتہ نظر اور گمراہ کن تصورسے زیادہ کچھ نہیں ہے، یہ آرٹیکل ایشیائی ممالک کے بارے میں مغربی دنیا کی نوآبادیاتی سوچ پر مبنی روایتی تصور استشراق کی ایک بہترین مثال ہے‘۔پی ٹی آئی کے ایک اور حامی بیا آغا نے دعویٰ کیا کہ ’یہ آرٹیکل حقائق کو مبہم کرنے اور حقارت کو معروضیت کے لبادے میں چھپانے کے استشراقی فن کا نمونہ ہے‘۔ٹائم میگزین کے آرٹیکل میں بیان کردہ عمران خان کی خامیوں کی نشاندہی کرنے میں پی ٹی آئی کے ناقدین بھی پیچھے نہ رہے، ایسے ہی ایک ناقد نے لکھا کہ ’آرٹیکل میں صرف اور صرف عمران خان کو ہی پاکستان کے معاشی بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے‘۔
معاذ الدین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹائم میگزین کے مذکورہ آرٹیکل میں شامل نکات کی فرداً فرداً تردید پوسٹ کی جو فوری طور پر مقبول ہو گئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر ہزاروں لوگوں نے ان ٹوئٹس کو دیکھا، پی ٹی آئی کے سینکڑوں حامیوں نے اسے ری ٹوئٹ بھی کیا اور اُن میں سے بھی کچھ ٹوئٹس کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔
