عدالتیں انصاف کے نام پر عمران کیساتھ کیوں ہیں؟

اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت عمران خان کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں یکسر ناکام نظر آتی ہے۔ حکومتی ذمہ داران یہ بات واشگاف الفاظ میں کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کے بعد عمران خان کی عدلیہ میں سہولتکاری کی جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہماری قیادت کے تو کئی کئی مہینے ضمانتوں کے کیس نہیں لگتے تھے اور عدالت پہنچنے میں تھوڑی سی تاخیر اور ہلکی سی آواز بلند ہونے پر پر ضمانتیں خارج کرنے کی دھمکی دی جاتی تھی تاہم عمران خان ایسا لاڈلا ہے جس کی پیشی کیلئے عدالت انتظار کرتی ہیں اور اسے ڈرائیو تھرو انصاف کی خصوصی سہولت بھی میسر ہے۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کو ہمیشہ عدالتوں سے ریلیف کیسے ملتا ہے؟ عدالتوں سے تمام فیصلے عمران خان کے ہی حق میں کیوں آتے ہیں؟ عمران خان کو جتھوں کے ذریعے عدلیہ پر حملہ آور ہونے کی چھوٹ کیوں ہے؟ عمران کی ججز کو دی جانے والی دھمکیوں پر صرف نظر کیوں کیا جاتا ہے؟اور عمران کے حق میں اعلٰی عدالتوں کے کون سے جج کیسے مینیج ہوتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات پر مبنی تحریک انصاف کے نئے عمرانڈو صدر چوہدری پرویز الہی کے سابق پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی کی انکشافات سے بھرپور ویڈیو سامنے آگئی ہے۔

لیک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ محمد خان بھٹی سے نامعلوم شخص سوال کر رہا ہے کہ یار عدالتوں سے سارے فیصلے پی ٹی آئی کے حق میں آتے ہیں، یہ کس طرح ہوتا ہے؟ کون کر رہا ہے؟محمد خان بھٹی پوچھتے ہیں مثلاً، جس کے جواب میں نامعلوم شخص کہتا ہے کہ سپریم کورٹ۔

سابق وزیراعلٰی چوہدری پرویز الٰہٰی کے دست راست اور سابق پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی نے دعویٰ کیا  کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نہ مینیج ہوتے ہیں نہ ان کے بارے میں ایسا کہا جا سکتا ہے۔ ان کے ساتھ دو ججز ہیں منیب اختر صاحب اور اعجاز الحسن صاحب۔ ان کی پوری ذمہ داری جسٹس مظاہر نقوی نے اٹھائی ہوئی ہے۔ مظاہر نقوی صاحب کی بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ ان کے دو بیٹے ہیں۔ دونوں ان کے فرنٹ مین ہیں۔ کرپشن کرتے ہیں۔ ٹکا کے کرپشن کرتے ہیں۔ صبح سے لے کر رات تک کرپشن کرتے ہیں۔

محمد خان بھٹی مزید بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور چوہدری صاحب بھی ان کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ بھئی یہ ہماری عدالتوں میں بھی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ فیصلے ہمارے حق میں دلواتے ہیں تو ان کا کوئی کام رکنا نہیں چاہیے۔ وہ ٹرانسفریں، پوسٹنگ ہر کام میں پیسے کماتے ہیں اور ٹھیک ٹھاک پیسہ کما رہے ہیں۔

محمد خان بھٹی سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ یہ لاہور ہائیکورٹ کیسے مینیج ہو رہی ہے؟ جس پر وہ کہتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ دیکھیں یہاں بھی کام جسٹس مظاہر نقوی نے لیا ہوا ہے لیکن بیچ میں علی افضل ساہی آ گئے۔ علی افضل ساہی نے کہا کہ میں یہ سارا مینیج کرتا ہوں۔ علی افضل ساہی نے چیف جسٹس سے بات کر کے انہوں نے کہا کہ میں نے بینچ بنایا ہے۔ پی ٹی آئی کے خلاف کسی قسم کا فیصلہ نہیں آئے گا۔ ایک بھی فیصلہ پی ٹی آئی کے خلاف نہیں آئے گا۔

محمد خان بھٹی بتاتے ہیں کہ تو اس کے بارے میں وہ چیف جسٹس صاحب بھی اپنے فائدے اٹھاتے ہیں۔ ٹھیک ٹھاک فائدے۔ پی ٹی آئی کے کہنے پر ان کو فائدے ملتے رہے ہیں اور وہ بھی اپنے سارے کام نکلواتے ہیں۔ اپنے داماد کے لیے بھی انہوں نے دس پندرہ ارب کے پروجیکٹ لیے ہیں۔کون سے پروجیکٹ کے جواب میں محمد خان بھٹی کہتے ہیں کہ پیپر پروجیکٹ۔ پھر ان سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ جواب میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ہوتا ہے کہ آدھا کام ہوا ہوتا ہے اس پہ۔ باقی یہ کھاؤ، پیو پروجیکٹ ہوتا ہے۔ پیسہ جیبوں میں جاتا ہے۔

محمد خان بھٹی سے ایک اور سوال پوچھا جاتا ہے کہ اچھا یہ لاہور ہائیکورٹ میں کوئی اور لوگ ہیں آپ کے جاننے والے؟ جواب میں محمد خان بھٹی کہتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ میں ذاتی تعلق بھی ہے۔ مطلب جسٹس شاہد کریم بھی ہے۔ ان کے ساتھ ذاتی تعلق ہے۔ جسٹس شاہد جمیل ہے۔ اس کے ساتھ بھی ذاتی تعلق ہے۔ جسٹس فاروق حیدر ہے اس کے ساتھ بھی ذاتی تعلق ہے۔محمد خان بھٹی سے پوچھا جاتا ہے کہ کس نوعیت کا تعلق تو وہ کہتے ہیں کہ وہ جب سے وکیل تھے تب سے ان سے پرانا تعلق ہے اور میرا بچہ بھی ان کے بچوں کے ساتھ پڑھتا رہا ہے۔

دوسری جانب محمد خان بھٹی کی لیک ویڈیو پر اپنے رد عمل میں ان کے بھتیجے ساجد احمد خان بھٹی کا کہنا ہے کہ محمد خان بھٹی کے بیان کی ویڈیو معزز عدلیہ اور ججز کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔’بھٹی صاحب نے رحیم یار خان میں عدالت میں سب کے سامنے بیان دیا کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ ساجد خان بھٹی نے کہا کہ ایک بندہ کو مسلسل تقریبا ایک ماہ لاپتہ رکھ کر تشدد اور ادویات کے استعمال سے عدلیہ مخالف بیان ریکارڈ کروانا مریم نواز اور پی ڈی ایم کے عدلیہ مخالف بیان کو مزید قوت دینے کی بھونڈی کوشش ہے۔ جس میں یہ پہلے بھی ناکام رہے ہیں اوران بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ اس بار بھی ناکامی کاسامنا کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ تازہ آڈیو آنے سے قبل سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں چار درخواستیں دائر ہونے کے باوجود چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے کوئی نوٹس نہ لینے اور کسی قسم کی کارروائی نہ ہونے سے کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی میں تو کئی دفعہ کسی چھوٹی سی شکایت پر گھنٹوں کیا منٹوں میں بھی ججز کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جبکہ ماضی قریب میں جسٹس قاضی فائز عیسی عدالتوں میں پیش ہوچکے ہیں پھر جسٹس مظاہر نقوی کی آڈیوز اور شکایات پر کارروائی سے آخر کیا چیز مانع ہے؟ کون سی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں چار درخواستیں دائر ہیں جن میں جسٹس مظاہر پر الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پاکستان بار کونسل اور مسلم لیگ ن لائرز ونگ سے قبل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے 2 صفحات پر مشتمل درخواست سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی تھی جس میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس کی فوری سماعت اور ان سے عدالتی امور واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ عمرانڈو ہو جانے والے سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دست راست محمد خان بھٹی نے حالیہ ویڈیو سامنے آنے سے پہلے پولیس کو سی آر پی سی کے سیکشن 164 کے تحت اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا۔محمد خان بھٹی نے اعتراف کیا تھا کہ چوہدری پرویز الہٰی کے کہنے پر پنجاب اسمبلی میں 500 افراد بھرتی کئے۔ 15 سیٹوں کا کوٹہ پرویزالہٰی، طارق بشیر چیمہ اور راجہ بشارت کو دیا گیا۔

ایک سیٹ اعجاز حسین شاہ کے بھتیجے اور 4 سیٹیں میرے حصے میں آئی۔محمد خان بھٹی کے اعترافی بیان میں کہا گیا ہے کہ پرویز الہٰی اور مونس الہٰی نے گجرات میں 50 لاکھ کے ٹینڈر میں 35 فیصد کمیشن لیا۔ مونس الہیٰ نے لاہورکے ماسٹر پلان میں ملک ریاض اور دیگر کو فائدہ دے کر اربوں روپے کی کک بیکس وصول کی ہیں۔ بلڈنگ ڈویژن گجرات میں 3۔5 فیصد  کک بیکس فرنٹ مین سہیل نے وصول کیں۔ محمد خان بھٹی نے اپنےاقبالی بیان میں مزید بتایا کہ انڈسٹریل اسٹیٹ گجرات اور حافظ آباد ٹو گجرات روڈ کے ٹھیکے پر 35 فیصد ، پنجاب ماس ٹرانزٹ کے تحت بسوں کی خریداری میں 10 فیصد، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے کنٹریکٹ میں 7 فیصد کمیشن حاصل کیا گیا۔

اپنی گرفتاری کے حوالے سے محمد خان بھٹی نے بتایا تھس کہ 26 فروری 2023 کو چمن کے راستےافغانستان فرار ہونے کوشش کی۔چمن بارڈرپرپولیس نے روکنے کی کوشش کی۔ہم نےپولیس پرجوابی فائرنگ کی۔پولیس کی جوابی کارروائی سےکارکےٹائر پھٹ گئے۔پولیس نے مجھے 2 کلاشنکوف اور ساتھی سمیت گرفتار کر لیا۔

کیا عمران اسٹیبلشمنٹ کے لیے خطرہ ہے یا خود اپنے لیے؟

Back to top button