عمران خان نے پلان B کے تحت نئی فوج مخالف حکمت عملی بنا لی

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے فوجی قیادت اور حکومت کو مزید دباؤ میں لانے کی خاطر پلان "بی” کے تحت اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے جس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ عید کے بعد وہ حکومت کے خلاف ایک بڑی احتجاجی تحریک چلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
تحریک انصاف کے ذرائع کا دعوی ہے کہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو تین خطوط لکھنے کا نتیجہ صفر کی صورت میں سامنے آنے کے بعد اب پارٹی کی عادت نے بیانیے کی جنگ مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ 26 نومبر کو اپنے اسلام آباد احتجاج کی ناکامی کے بعد سے تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ذریعے فوج اور حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوششیں کرتی رہی ہے، اس دوران بانی پی ٹی آئی کے اپنے ایکس اور سوشل میڈیا ہینڈلز فوج مخالف بیانیہ بھرپور طریقے سے آگے بڑھاتے رہے، مگر اس اقدام نے پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان نہ صرف فاصلے اور بڑھا دیے بلکہ بانی پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ اور تحریک انصاف کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست مخالف بیانیہ بننے سے ان کیلئے قانونی مسائل بھی بننے لگے، پھر جب حکومت کے ساتھ تحریک انصاف کا مذاکراتی عمل شروع ہوا اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک ڈور رابطوں کی امید پیدا ہوئی تو پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بریک لگی دکھائی دی۔
چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی پشاور میں آرمی چیف سے غیر رسمی ملاقات کے بعد تحریک انصاف نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور امید لگا لی کہ اب فوج کے ساتھ بات چیت کے دروازے شاید کھل جائیں گے، مگر دوسری جانب سے بڑا واضح پیغام دیا گیا کہ تحریک انصاف کے ساتھ کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی ہوں گے، اگر پی ٹی آئی نے بات چیت کرنی ہے تو اسے سیاسی قیادت کے ساتھ ہی بیٹھنا ہے۔
اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا، ایک خط چیف جسٹس آف پاکستان کو جبکہ یکے بعد دیگرے تین خطوط آرمی چیف کو لکھے گئے، ان تینوں خطوط میں 8 فروری کے انتخابات، حکمران خاندان کے خلاف ماضی کے مقدمات، تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے متعلق کم و بیش ایک جیسی باتیں لکھی گئیں۔
ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے بنائے گئے بیانیے اور لکھے گئے خطوط میں فرق یہ تھا کہ ان خطوط میں آرمی چیف کو التجا کی گئی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنی ترجیحات کو تبدیل کرے، اس سے تحریک انصاف کو فائدہ یہ ہوا کہ خطوط کا ذکر میڈیا اور سیاسی ڈومین میں ہونے لگا جو کہ سوشل میڈیا پر مہم چلانے سے نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس پر اپنا ردعمل دینا پڑا۔
اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے خطوط سے متعلق سوالات کئے جس پر انہوں نے بڑے واضح انداز میں کہا کہ انہیں عمران کا کوئی خط موصول نہیں ہوا اور اگر کوئی خط ملا بھی تو وہ وزیر اعظم کو بھجوا دیں گے، آرمی چیف کا پیغام بڑا واضح تھا کہ فوج تحریک انصاف کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کا حصہ نہیں بنے گی، اور یہ کہ اگر تحریک انصاف کو بات کرنی ہے تو صرف اور صرف سیاسی قیادت سے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان بار بار واضح کر چکے ہیں کہ فوج غیر سیاسی ادارہ ہے اور اگر کسی اپوزیشن سیاستدان کو بات کرنی ہے تو وزیراعظم یا حکومت سے کرے۔
اس کے باوجود تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کی خواہشمند ہے اور علی امین گنڈا پور کے ذریعے بات چیت کا چینل قائم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر مثبت جواب نہیں ملا، اس کے بعد جب تحریک انصاف کو اندازہ ہوگیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات ٹھیک ہونے کی امید بر نہیں آ رہی تو پارٹی نے اپنی پرانی حکمت عملی کے تحت ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر فوج مخالف بیانیہ اگے بڑھانے پر فوکس کر لیا ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کے سوشل میدیا ہینڈلز سے ایک مرتبہ پھر افوجی سٹیبلشمنٹ کے خلاف بھر پور مہم شروع کی جا چکی ہے۔
فوج کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے پر عمران خان نے نے ایک مرتبہ پھر جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور امریکا میں بھی ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے لابنگ شروع کر دی گئی۔ تحریک انصاف عید کے بعد اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کے ذریعے حکومت کو چلتا کرنے کی باتیں کر رہی ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرینڈ الائنس پر تمام اپوزیشن پارٹیز کی متفقہ رائے موجود ہے، صرف کچھ نکات پر بات کرنا باقی ہے، سب کچھ تیار ہے مگر گرینڈ الائنس کے سیاسی اثرو رسوخ کا سارا دارو مدار مولانا فضل الرحمان پر ہے، مولانا فضل الرحمان کی اپنی ترجیحات ہیں اور گرینڈ الائنس بننے اور اس کے مستقبل کے سب سے بڑی بینیفشری مولانا ہی ہوں گے جنہیں حکومت نے ابھی سے انگیج کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ مولانا کا اس اتحاد سے نکلنا یا اس میں رہنا مستقبل میں اس اتحاد کی کامیابی یا ناکامی کی وجہ بنے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان اس اتحاد کا حصہ رہے بھی تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی گرینڈ الائنس اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکا جب تک اسے اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل نہ ہو، اپوزیشن کا گرینڈ الائنس اس مرتبہ صرف حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانے کیلئے بنایا جا رہا ہے جو پوری طرح اس حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور پالیسیوں کے تسلسل کیلئے اسی سسٹم کے چلنے کی حامی ہے۔ اس وقت حکومت اور فوج کے درمیان اعتماد کی جو صورتحال ہے وہ ماضی میں بہت کم دیکھی گئی، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں، مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے دوران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کبھی ایسا اعتماد نہیں دیکھا گیا جو شہباز حکومت کے دور میں دیکھا جا رہا ہے، موجودہ نظام حکومت بیانیے کے معاملے میں اگرچہ مقبول نہیں ہے مگر اسے ایک انشورڈ سسٹم کے طور پر دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے۔
پرویز خٹک کا حکومت کی بجائے مولانا کا سپاہی بننے کا فیصلہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ گرینڈ الائنس حکومت کیلئے کوئی بڑے خطرے کے طور پر دکھائی نہیں دیتا اور عید کے بعد تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے دعوے میں زیادہ وزن نہیں دکھائی دیتا۔
تحریک انصاف کی سیاست کیلئے آئندہ چند ہفتوں میں جی ایچ کیو حملہ کیس کا فیصلہ بھی بہت اہم ہوگا جس میں پراسیکیوشن کی جانب سے نصف کیس مکمل کر لیا گیا ہے، اس کیس میں بڑے شواہد اکٹھے کئے جا چکے ہیں جو عدالت میں پیش کئے جا رہے ہیں، کیس کا فیصلہ جو بھی ہوا وہ تحریک انصاف اور ملکی سیاست کیلئے بڑا بھونچال لے کر آئے گا۔
