کیا عمران خان نئی منتخب حکومت کو بھی نہیں چلنے دے گا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ پاکستانی الیکشن میں کم زور ترین اور نالائق ترین لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر انھیں کام بھی نہیں کرنے دیتے‘ میاں نواز شریف نے اپنا دور عمران خان کے دھرنے اور پاناما کے مقدمات میں گزار دیا تھا۔ جس کے نتیجے ملک تباہ ہو گیا‘ عمران خان نے بھی اپنا وقت ملک چلانے کے بجائے اپوزیشن کو جیل اور میڈیا میں ذلیل کرنے پر صرف کیا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ اور اب جو حکومت بنے گی کیا عمران خان اسے چلنے دے گا اور کیا یہ بھی اتحادیوں کو راضی کرتے کرتے وقت نہیں گزارے گی اور اس کے نتیجے میں بھی کس کا نقصان ہو گا؟ کیا ملک برباد نہیں ہو گا لہٰذا خدا خوفی کریں اورکم از کم الیکشن کا قبلہ ہی ٹھیک کر لیں۔ اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ اگر ہم 75 برسوں میں اپنا الیکشن سسٹم بھی شفاف اور سیدھا نہیں کر سکے تو پھر ہم واقعی قابل ترس ہیں۔ ہم کم از کم ایک ایسا الیکشن کمیشن اور ایک ایسا فول پروف سسٹم ہی بنا لیتے جس پر سب کو اعتبار ہوتا مگر ہم جس طرح آج تک عوام کو صاف پانی‘ صاف ہوا‘ اصلی دوا‘ اچھی تعلیم‘ اچھا مستقبل اور اچھی رہائش نہیں دے سکے بالکل اسی طرح ہم انھیں آج تک ٹھوس جمہوریت بھی نہیں دے سکے۔ ہم 2023 میں بھی بلا چلا گیا اور بلا واپس مل گیا اور شاہ محمود قریشی رہا اور شاہ محمود قریشی دوبارہ گرفتار سے باہر نہیں آ سکے‘ ہم آج بھی امیدواروں سے کاغذات چھین رہے ہیں اور امیدواروں کے وارنٹ جاری کر رہے ہیں‘ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے لیکن یہ فریضہ سپریم کورٹ کو ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں جمہوریت بھی ہے لیکن نگران صوبائی حکومتیں مینڈیٹ کے بغیر سال سے برسرروزگار ہیں اور یہ کھربوں روپے کے پروجیکٹس بھی چلا رہی ہیں‘ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن جس نے نوے دنوں میں الیکشن کرانا تھا اس کے پانچ کے پانچ ممبرز گاڑیوں پر جھنڈے لگا کر اڈیالہ جیل جاتے ہیں اور عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف جیل میں توہین الیکشن کمیشن کی سماعت شروع کر دیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن الیکشن کا کام درمیان میں چھوڑ کر عدالت کا فریضہ انجام دے رہا ہے‘ یہ کبھی بلا لے رہا ہے اور کبھی بلا واپس کر رہا ہے‘ یہ 2018میں ن لیگ کے خلاف استعمال ہوا اور اب 2024 میں آدھی پارٹیاں اسے ن لیگ کا سہولت کار قرار دے رہی ہیں‘ یہ کیا تماشا ہے اور یہ آخر کب تک جاری رہے گا۔ اگر کسی قوم نے ترقی کرنی ہو تو اسے پہلے اپنے رویے اور حرکتیں تبدیل کرنی پڑتی ہیں۔ ترقی چل کر اس کے پاس آ جاتی ہے‘ اس فلسفے کی وضاحت اس مثال سے بھی کی جا سکتی ہے آپ نیویارک یا منگولیا جانا چاہتے ہیں تو آپ سب سے پہلے ڈائریکشن لیں گے‘ آپ نیویارک کی ڈائریکشن میں سفر کریں گے تو آپ نیویارک پہنچ جائیں گے اور اگر آپ کا رخ منگولیا کی طرف ہے تو آپ صحرائے گوبی میں پہنچ جائیں گے بالکل اسی طرح ترقی اور تنزلی کی بھی ڈائریکشن ہوتی ہے۔ روایات اور رویے اچھے ہوں گے تو قوم آگے نکل جائے گی اور اگر روایات اور رویے پس ماندگی میں لت پت ہیں تو قوم کبھی غربت ‘پس ماندگی اور لاچارگی سے باہر نہیں آسکے گی اور ہمارا المیہ بھی یہی ہے‘ ہم اگر الیکشن بھی بے ایمانی‘ دھاندلی اور اپنے ذاتی مفاد کی بنیاد پر کرائیں گے‘ ہم اگر کم زور‘ ان پڑھ اور نالائق لوگ آگے لے کر آئیں گے اور ہم اگر ایسی پارٹیوں اور گروہوں کو منتخب کرائیں گے جو کل ہمارے سامنے بول نہ سکیں یا آزادی کے ساتھ کام نہ کر سکیں تو پھر ملک کیسے چلے گا؟ آپ فرض کریں آپ کے پاس نیا اور بڑا جہاز ہے اور آپ اس کے لیے چن کر نالائق پائلٹ بھرتی کرلیتے ہیں اوراس کے بعد اس کی توجہ اصل کام سے ہٹا کر دوسرے کاموں میں لگا دیتے ہیں تو پھر اس جہاز کا کیا بنے گا؟ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ ہم ایک ہی بار آزاد اور مکمل خود مختار الیکشن کمیشن بنا دیں اور حقیقی طور پر صاف اور شفاف الیکشن کرا دیا کریں‘ الیکشن کی تاریخیں بھی ایک ہی بار فکس کر دیں اور اس کا طریقہ کار بھی طے کر دیں ملک میں پھر تبدیلی آئے گی‘ ہم راؤنڈ اباؤٹ پر مزید کتنا عرصہ گاڑی چلا لیں گے؟ ہم اگر ملک میں الیکشن خالص نہیں کرا رہے تو ہمیں دودھ والا … خالص دودھ کیسے دے گا اور ہمیں میڈیکل
اسٹورز پر اصلی دوائیں کیسے ملیں گی؟ ایک لمحے کے لیے ضرور سوچیے۔
