خان نے الیکشن مہم کے لئے پلاسٹر اتارنے کی تیاری کر لی!!

عمران خان کی دائیں ٹانگ پر چڑھے پلاسٹر کی کہانی اب ختم ہونے کو ہے کیونکہ خان صاحب نے الیکشن مہم میں اڑان بھرنے کی تیاری کر لی ہے۔ یہ خبر انھوں نے حال ہی میں دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران بریک کی اور بتایا کہ وہ جلد ہی اس پلاسٹر سے نجات حاصل کر کے الیکشن مہم کے لئے نکلنے والے ہیں۔۔البتہ اس کا حتمی فیصلہ ایکسرے رپورٹ آنے کے بعد ہو گا۔ ویسے بھی انھوں نے تین مہینے ریسٹ کیا ہے تو ایک دو ہفتے اور سہی مگر وہ ”ٹوٹل فِٹ“ ہونا چاہتے ہیں تاکہ بلاول بھٹو اور مریم نواز جیسے انرجی سے بھرپور، نسبتاً جوان اور جوشیلے خون کا جم کر مقابلہ کر سکیں۔ خان صاحب کے قریبی ذرائع کے مطابق اپنے جن دو حریفوں کو وہ کبھی ہلکا نہیں لیتے ان میں سے ایک تو انھیں ناکوں چنے چبوانے والی مریم نواز ہیں اور دوسرے مغربی ممالک اور میڈیا میں ٹف ٹائم دینے والے بلاول بھٹو ہیں۔ ابھی تک کی صورتحال کے مطابق بلاول اگر انھیں بیرونی محاذ پر شکست دے رہے ہیں تو مریم اندرونی محاذ پر کڑے اور تیکھے وار کر رہی ہیں۔۔لہٰذا خان صاحب کو اچھے سےسمجھ آ گئی ہے کہ وہ پلاسٹر والی ٹانگ سے اس کھلے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
اب وہ واضح طور پر کہنے لگے ہیں کہ ایک آؤٹ ڈور بندہ تین مہینے سے دو کمروں میں بند ہے، آخر کب تک؟ خان صاحب کے بقول، وہ اپنی ٹانگ کے فائنل ایکسرے کا انتظار کر رہے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ پہلے یہ خطرہ تھا کہ ہڈی کمپیکٹ نہ ہو، ورنہ کبھی بھی ایک ہی جھٹکے سے دوبارہ فریکچر ہو سکتا ہے اور وہ کوئی چانس نہیں لینا چاہتے کیونکہ انھیں ہر صورت الیکشن مہم کے لئے نکلنا ہے۔
انھوں نے انٹرویو کے دوران اس راز پر سے بھی پردہ اٹھایا کہ انھوں نے اتنا لمبا عرصہ پلاسٹر کیوں رکھا؟دراصل ان کی ٹانگ میں پہلے بھی فریکچر ہو چکا ہے۔اس وقت وہ سیاسی میدان کے نہیں، کرکٹ کے کھلاڑی تھے۔ یہ دسمبر 1982 کا ذکر ہے، انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان آئی ہوئی تھی جب کراچی میں دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز خان صاحب کی بائیں ٹانگ کی پنڈلی فریکچر ہوگئی۔ خان صاحب چوٹ کی پرواہ کئے بغیر کھیلتے رہے۔ تکلیف کے باعث اپریل 1983 میں ان کا ایکسرے کروایا گیا اور بھید یہ کُھلا کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی میں فریکچر ہے۔
اس وقت فوجی ڈکٹیٹر ضیاالحق ملک پر قابض تھا، جس کی کمال شفقت اور مہربانی سے خان صاحب کو اپریل 1984 میں لندن کے کرامویل ہسپتال خصوصی علاج کے لئے بھجوایا گیا، بلکہ کہا جاتا ہے کہ 1992 کے ورلڈ کپ سے پہلے 1987 میں جب خان صاحب نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا تو یہ اسی فوجی جرنیل کی مہربانی سے کرکٹ میں دوبارہ اِن ہوئے تھے۔۔ یعنی فوجی جرنیل خان صاحب پر ہمیشہ سے مہربان رہے ہیں۔ ایک کرکٹ میں لائے تو دوسرے نے عنانِ حکومت ہی انھیں سونپ دی اور خان صاحب ہیں کہ تر نوالے کھانے کے بعد جب کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا تو اپنے انہی ”محسنوں“ کے لتے لینے لگے۔
بہرحال فریکچر کی وجہ سے انھیں 6 ماہ تک کاسٹ پہننی پڑی اور تقریباً دو سال بعد وہ دوبارہ کھیلنے کے قابل ہوئے۔ خان صاحب اپنی اس انجری کو شاید ابھی تک نہیں بھولے مگر یہ بھول گئے کہ فریکچر دائیں ٹانگ پر نہیں بائیں ٹانگ پر ہوا تھا۔ انٹرویو کے دوران طویل عرصہ اپنی ٹانگ کو پلاسٹر میں باندھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس ٹانگ پر اسی جگہ انھیں کھیل کے زمانے میں سٹریس فریکچر ہو چکا ہے۔ چونکہ ان کی ہڈی پوری طرح ہیل نہیں ہوئی تھی کہ وہ دوبارہ کھیلنے لگے جس کے نتیجے میں ان کی ہڈی کو دو مرتبہ کھولنا پڑا، اور تین مہینے انھیں کاسٹ پہننی پڑی، یعنی پلاسٹر لگانا پڑا تھا، ویسے یہاں بھی لگتا ہے ان کی یادداشت نے ساتھ نہیں دیا کیونکہ انھیں 6 مہینے کاسٹ پہننی پڑی تھی۔۔ خیر اب انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پلاسٹر کا بوجھ مزید نہیں اٹھائیں گے، ویسے بھی اب انھوں نے ٹانگ کسنے کی بجائے الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے کے لئے کمر کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
دوسری طرف سپریم کورٹ کا نوے دن کے اندر پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن کروانے کا عدالتی حکم کون کون سے آئینی سقم سامنے لانے والا ہے یہ تو آنے والا وقت سمجھا دے گا، فی الحال تو ججز کے اختلافی نوٹ نے پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی، دونوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ خان صاحب کے پلاسٹر والی ٹانگ کی رونمائی کب ہو رہی ہے؟
