عمران خان نے خود کو نان سٹیٹ ایکٹر کیسے ثابت کیا؟

دیگر جماعتوں کےسیاسی قائدین کے برعکس گرفتاری سے خوفزدہ عمران خان کے طرز عمل نہ ان کو سیاستدان کی بجائے ایک نان سٹیٹ ایکٹر ثابت کر دیا ہے۔ عمران کے حالیہ طرز عمل سے مقتدر حلقوں پر بھی یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ عمران ملک میں نہ اداروں کو کچھ سمجھتا ہے اور نہ ہی آئین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔ عمران خان صرف اپنے اقتدار کو راہ حق اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والے اداروں کو ہی آئینی اور قانونی گردانتا ہے اور اپنے خلاف فیصلہ دینے والی عدالتوں کے خلاف سینہ سپر ہونا جہاد قرار دیتا ہے جس کی عملی تصویر واضح طور پر زمان پارک میں دیکھنے کو ملی۔
خیال رہے کہ منگل کی صبح یعنی 14 مارچ سے پاکستان میں افراتفری کی صورتحال ہے۔ توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ جس کے بعد عدالتی حکم کی تعمیل کیلئے اسلام آباد پولیس کے لاہور پہنچنے پر عمرانڈوز نے قانون پر عملداری کو یقینی بنانے میں تعاون سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں پولیس پر پلاننگ کے تحت پتھروں، اینٹوں اور پٹرول بموں سے حملہ کیا جس سے علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو سیشن عدالت میں 13 مارچ کو پیش ہونےکا حکم دیا تھا۔ مگر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ فیصلے کے مطابق عمران خان کو اب عدالت نے 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
عمران خان عدالت میں پیش ہونے سے گریزاں ہیں جبکہ پولیس قانون کی عملداری اور ریاستی رٹ کو برقرار رکھنے کیلئے ان کو گرفتار کرنے پر بضد ہے۔ یہاں یہ بحث بھی جاری ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری سے کس کو سیاسی فائدہ ہوگا؟
معروف صحافی سلیم صافی نے بتایا کہ جیل جانے سے اس وقت سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے جب گرفتاری بے بنیاد ہو، جب کسی جرم میں گرفتاری ہو تو اس صورت میں کیا سیاسی فائدہ ہوگا۔انھوں نے نور مقدم کیس کے ملزم ظاہر جعفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر فائدہ ہوتا تو ظاہر جعفر کو بھی فائدہ ہوتا۔ انھوں نے نیلسن مینڈیلا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کا جرم ثابت نہیں ہوا تھا تو ان کو جیل جانے کا فائدہ ہوا تھا۔ مگر عمران خان کے کیس میں ایسا نہیں ہے۔انھوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پاکستان کے وہ واحد لیڈر ہیں جو جیل جانے سے گھبرا رہے ہیں جب کہ اس سے قبل نواز شریف، آصف علی زرداری، مریم نواز اور موالانا فضل الرحمن بھی جیل گئے، اور ان سے پہلے باچا خان نے سب سے زیادہ جیل کاٹی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جیل کاٹی۔
معروف صحافی نے ایک سوال پر کہا کہ عمران خان کے جیل جانے پر گھبرانے کی وجہ یہی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے خلاف درجنوں کیسز ہیں اور اب تو زمان پارک کے باہر اپنے کارکنان کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو مروانے پر بھی کیس بنے گا، اور ان کو بخوبی اندازہ ہے کہ وہ جیل چلے گئے تو باقی کیسز کے تحت بھی ان کو سزا بھگتنی پڑے گی۔سینیئر صحافی سلیم صافی کے مطابق عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے کارکنان کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جو آج سے پہلے کسی لیڈر نے ایسا نہیں کیا۔انھوں نے ایک سوال پر یہ بھی کہا کہ چونکہ عمران خان صاحب کو میڈیا سے کھیلنا آتا ہے ان کو یہی لگتا ہے کہ وہ جیل چلے گئے تو ان کی یہ صلاحیت متاثرہو جائے گی اور پارٹی میں اتحاد کمزور ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ بھی خدشہ ہے کہ کہیں اور کوئی پارٹی پر قبضہ نہ جما لے۔
معروف اینکر پرسن حامد میر کے مطابق ’ گرفتاری کا حکم ایک عدالت نے دیا ہے لیکن اگر عمران خان گرفتاری دے دیتے ہیں تو اس گرفتاری کا سب سے زیادہ سیاسی فائدہ خود ان کو ہوگا۔ اور آئندہ بھی جب کبھی گرفتاری دی گئی تو بھی ان کو ہی فائدہ ہوگا‘۔
مشہور اینکر اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران خان اگر گرفتاری کی جانب بڑھتے ہیں اور گرفتاری دے دیتے ہیں تو اس گرفتاری سے عمران خان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا۔تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ عمران خان کو گرفتار کر کے الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ حکومت طاقت ور ہے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ حکومت دراصل اس گرفتاری سے اپنا رعب ڈالنا چاہتی ہے۔
سینئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار نصرت جاوید نے بتایا کہ ’عمران خان کی گرفتاری کا انتخابی لحاظ سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان تحریک انصاف کو ہوگا۔ اگر گرفتاری ہو جاتی ہے تو اس سے ریاست کا رعب بڑھ جائے گا۔ انھوں نے بات کو مزید بڑھاتے ہوئے بتایا کہ اگرعمران خان کی گرفتاری نہیں ہوتی تو اس صورت میں آئندہ سیاستدان وہی راستہ اختیار کریں گی جو عمران خان نے اختیار کیا‘۔ایک سوال کے جواب میں نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ عمران خان گرفتاری سے نہیں ڈرتے۔ ان کی گرفتاری نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو لگتا ہے کہ انھیں مروا دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا عمران خان کہتے ہیں کہ ’ان کو گرفتاری سے نہیں بلکہ موت سے ڈر لگتا ہے۔
