کیا واقعی عمران خان کی جان کو خطرہ ہے؟

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف ناقدین سابق وزیراعظم کے بیان کو جھوٹ پر مبنی ایک بے بنیاد دعویٰ قرار دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف پنجاب کی نگراں حکومت نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو ملنے والی ’قتل کی دھمکیوں‘ کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
محسن نقوی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے سنگین الزام کی مکمل تحقیقات اور کسی بھی طرح سے سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سیاست الزامات اور جھوٹ کے گرد گھومتی ہے،عمران خان کو اپنے قتل کی مبینہ سازش بارے شواہد فراہم کرنا ہوں گے ورنہ قانونی کارروائی لازمی ہے عامر میر نے کہا کہ عمران خان کا دعویٰ فلم ڈائریکٹر کی کہانی لگتی ہے، عمران خان ایسی کہانیاں بنانے کے ماہر ہیں، سینئر پولیس افسران پر قتل کی سازش کا الزام لگانا سنگین جرم ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی باتوں پر یقین کیا جائے تو ہر دوسرا آدمی انہیں مروانا چاہتا ہے،عمران خان خود کو شدید خطرات لاحق ہونے کا تاثر دے کر عدالتوں سے استثنیٰ چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ 22 مارچ کی شام ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد اور ان کے ”ہینڈلرز‘‘ نے پلان بنایا ہے جس کے مطابق زمان پارک کے اندر آج یا کل آپریشن کیا جائے گا اور اس دوران مبینہ طور پر ”پلانٹڈ لوگ ‘‘ پی ٹی آئی کے حامیوں میں شامل ہو کر پولیس والوں کو ماریں گے، اس کے جواب میں وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح لوگوں کو قتل کریں گے۔ عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں بھی مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996 کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی عمران خان کی جان کو خطرہ ہے؟تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان پر اس سے پہلے بھی ایک قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاپولر سیاسی لیڈرز کو منظر عام سے ہٹانے کی کئی ایک مثالیں بھی موجود ہیں، اس لیے عمران خان کے اس خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم ان کے مطابق عمران خان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کو کئی مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے اس لیے اگر وہ کسی قاتلانہ حملے کے خوف سے عدالتوں میں تو پیش نہیں ہوتے مگر چند دن بعد مینار پاکستان کے قریب ہونے والے پارٹی کے جلسے میں شرکت کرتے ہیں تو اس سے ان کے موقف کو زد پہنچے گی۔
دوسری جانب سینئر صحافی نوید چوہدری نےبتایا کہ اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عمران خان کو مکمل سکیورٹی ملنی چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالات خراب ہیں عمران خان کی جان کو اتنا ہی خطرہ ہے جتنا ہم سب کو یا دیگر سیاسی لیڈروں کی جان کو خطرہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پر متعدد حملے ہو چکے ہیں، نواز شریف کو مارنے کی بھی کوشش ہو چکی ہے، لیکن ان کی رائے میں اگر عمران خان کی جان کو واقعتاﹰ سینگین خطرات لاحق ہیں تو پھر ان کی حمایت میں فیصلے صادر کرنے والی عدلیہ کیوں اس بات کا نوٹس نہیں لیتی تاکہ حقائق سامنے آ سکیں: ”میرے خیال میں عمران خان کو بھرپور سکیورٹی ملنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سوال کا جواب بھی ایمانداری سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر عمران خان کی حفاظت کے لیے ان کو ان کے اطمینان کے مطابق سینکڑوں سکیورٹی گارڈز اور بلٹ پروف گاڑیاں بھی مہیا کر دی جائیں تو کیا وہ فرد جرم کی کارروائی کی تکمیل کے لیے عدالت میں پیش ہونے پر تیار ہوں گے؟‘‘
کالم نگار سلمان عابد کہتے ہیں کہ خود وفاقی وزارت داخلہ کا یہ مؤقف رہا ہے کہ عمران خان سمیت کئی سیاسی لیڈروں کو دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے، الیکشن کے التوا کے لیے بھی کئی ایجنسیاں اپنی رپورٹس میں امن و امان کے حوالے سے تشویش ناک صورتحال کا اظہار کر چکی ہیں۔ سلمان عابد کے بقول اہم بات یہ ہے کہ عمران خان نے اس سے پہلے اپنے اوپر حملے کا جو خدشہ ظاہر کیا تھا وہ اسی طرح وقوع پذیر ہوا۔ ان کے نزدیک عمران خان کے ارد گرد اکٹھے ہونے والے ہجوم میں نامعلوم افراد کی موجودگی عمران کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ زلمے خلیل زاد کا بیان بھی عالمی تشویش کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے حکومت عمران خان کے خدشات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
دفاعی تجزیہ نگار فاروق حمید کا خیال ہے کہ حالات خراب ہیں اس لیے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے: ”پاکستان کے دشمن ممالک کی ایجنسیاں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ ملک کو پہلے ہی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اگر اس نازک صورتحال میں ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو پھر ملک شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔‘‘ ان کے خیال میں عمران کے خدشات درست بھی ہیں اور ان خدشات کے اظہار سے انہیں فائدہ بھی ہو رہا ہے۔ سیاسی طور پر انہیں ہمدردیاں مل رہی ہیں، عدالتیں بھی ان کی بات سن رہی ہیں، حکومت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور عالمی رائے عامہ بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے مقبول ترین لیڈر کے ساتھ ہونے والے ملک کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ اس لیے عمران کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ فاروق حمید سمجھتے ہیں کہ ملک کے اندر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو صورتحال کو بہتر بنانے کی بجائے خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان پر بھی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے: ”دیکھئے تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے اس ضمن میں حکومت اور عمران خان دونوں کو اپنے طرز عنمل کو بہتر بنانا ہوگا۔
