پاکستان کی ترقی کیلئے کسی سے بھی بات کر سکتا ہوں

سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی، مفادات اور جمہوریت کے لیے کسی سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہوں جبکہ 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں گا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے بات چیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی، مفادات اور جمہوریت کے لیے میں کسی قربانی سے گریز نہیں کروں گا اور اس ضمن میں کسی سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہوں اور اس جانب میں ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔
قبل ازیں زمان پارک میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور عملدرآمد پر یقین رکھتا ہوں۔
عمران خان نے کہا کہ میری گرفتاری عدالت میں پیش ہونے کے لیے نہیں مجھے مارنے کے لیے ہے، جب کہہ دیا تھا کہ عدالت پیش ہو رہا ہوں تو معلوم نہیں پھر سارا ڈراما کیوں رچایا جارہا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ مجھے اس جگہ بلا رہے ہیں جس کے بارے میں مجھے سیکیورٹی خدشات ہیں، عدالت میں پیش ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا۔
بعدازاں لاہور میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے گھر پر ہزاروں پولیس اہلکاروں اور رینجرز نے چڑھائی کی جس سے ایسا لگا کہ میں دنیا کا بڑا دہشت گرد ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری کے لیے بکتربند گاڑی منگوالی، مجھے پچاس برس سے قومی جانتی ہے، ایک دفعہ کوئی بتائے کہ میں نے قانون توڑا ہو۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس ملک میں عوام سب سے زیادہ چندہ مجھے دیتی ہے جس سے تیسرا سب سے بڑا خیراتی ہسپتال تعمیر ہو رہا ہے جبکہ پہلے نمل یونیورسٹی اور اب القادر یونیوسٹی تعمیر کی ہے جو کہ سب غریبوں کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو فوج اور پولیس پکڑنے آجاتی ہے اور جرم یہ تھا کہ 18 تاریخ کو پیشی تھی لیکن پولیس 14 تاریخ کو ہی پہنچ گئی۔
عمران خان نے کہا کہ انتخاب کسی صورت 90 دن سے آگے نہیں جانے دیں گے، انتخابات 90 روز سے آگے گئے تو پھر آئینی تحریک چلائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ کسی صورت آئین کی خلاف ورزی کرکے انتخابات آگے جانے نہیں دیں گے۔
