کیا خان صاحب کے ”سنگی ساتھی“ تھکنے لگے ہیں؟

اسے عمران خان کی تقدیر کا لکھا کہہ لیں یا کچھ اور کہ بیس بائیس سال کی جدوجہد کے بعد وہ ”سلیکٹرز“ کو بھا تو گئے لیکن چونکہ ”ڈلیور“ نہیں کر سکے اس لئے چار سال بھی مکمل نہیں کر پائے تھے کہ کرسیء اقتدار سے نیچے پٹخ دیئے گئے۔ یہ صدمہ اگرچہ اچانک نہیں تھا اور حکومت کا جانا ٹھہر چکا تھا اس کے باوجود ان کے سنگی ساتھی اور حواری، جن کی پانچوں گھی میں تھیں، ہل کر رہ گئے۔۔تاہم انھیں یقین تھا کہ خان صاحب جلد ہی اس ”اٹھا پٹخی“ یا وقتی ناراضگی کا حل نکال لیں گے۔۔ مگر کسے معلوم تھا کہ خان صاحب جس لڑائی کو چھیڑ چکے ہیں، اس سے ان کی جان آسانی سے نہیں چھوٹنے والی اور یہ کہ اس اعصاب شکن محاذ پر لڑنے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں۔ جہانگیر خان اور علیم ڈار جیسے خان صاحب کے چند قریبی ساتھیوں نے تو ہمت کر لی اور اپنی عزت بچا لی لیکن جو باقی رہ گئے، پارٹی ان کے لئے کمبل جیسی ہو گئی ہے یعنی وہ پارٹی سے جُڑے رہتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو اور نکلتے ہیں تو کسی دوسری سیاسی پارٹی کو قبول نہیں۔
فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، اسد عمر ، پرویز خٹک، ڈاکٹر یاسمین راشد اور نئی انٹری چودھری پرویز الہیٰ۔۔ اس مظلوم ٹولے کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ یہ سب اپنا اپنا سیاسی مستقبل بچانے کے لئے پی ٹی آئی کی ہچکولے کھاتی کشتی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
فواد چودھری تو اتنے بوکھلا چکے ہیں کہ انھیں اس بات کی بھی خبر نہیں ہوتی کہ کون سا جملہ کہاں داغنا ہے؟ جب اور کچھ نہیں سوجھتا تو خواتین سیاسی رہنماؤں کی کردار کشی ہی سہی جو فواد کا پسندیدہ شغل ہے۔ شاہ محمود قریشی بھی اسی تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ خان صاحب کے دفاع میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ انھیں واپسی کا راستہ ساتھ والے سے پوچھنا پڑتا ہے۔
اسد عمر بہت دھیرے سے سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں اس کے باوجود وہ اپنے پژمردہ اور پریشان چہرے کے تاثرات چھپا نہیں سکتے، جیسے انھوں نے کچھ ایسا تو نہیں کہہ دیا کہ لینے کے دینے پڑ جایئں۔
یاسمین راشد پارٹی کے اندر ہی گھن چکر بن چکی ہیں، خان صاحب کے لئے پیغام رسانی کے فرائض انجام دینا کوئی آسان کام نہیں۔۔ وہ بھی ان حالات میں جب وہ خود کہتی ہیں کہ خان صاحب ٹھیک نہیں کر رہے۔۔ وہ اکثر خان صاحب کے فیصلوں سے نالاں نظر آتی ہیں۔ پرویز خٹک بھی حالات کے دھارے کو دیکھ کر چلتے ہیں۔ کب کہاں منظر سے غائب ہونا ہے، ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور تو اور بڑے ولولے اور جوش و جذبے کے ساتھ پی ٹی آئی صدارت کی ”پگ“ اپنے سر پر سجانے والے چودھری پرویز الہیٰ بھی دور دور سے ہی بڑھکیں لگا رہے ہیں۔۔تو کیا خان صاحب کے ڈانواں ڈول وژن کے ساتھ بھاگتے بھاگتے ”عمرانڈو سکواڈ“ اب تھک گیا ہے؟ تاہم دوسری طرف خان صاحب کے ورکرز کو سلام ہے جو زمان پارک کے ایکشن سے بھرپور ”ایپی سوڈ“ میں بھی ہمت نہیں ہارے۔۔جبکہ خان صاحب کے ”کرائم ان پارٹنر“ پچھلی گلی سے نکل گئے۔ زمینی حقائق کے مطابق کئی وفاقی اور صوبائی وزراء خان صاحب کے قدم سے قدم ملا کر پیش قدمی کرنے کی بجائے اپنے اپنے بنکرز میں واپس جا چکے ہیں۔۔ شفقت محمود، علی محمد خان، غلام سرور خان، فخر امام، میاں محمد سومرو، مراد راس، محمودالرشید، راجہ بشارت، محسن لغاری، خسرو بختیار، محمود خان، خاندانی سیاست کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے مونس الہیٰ، رانا ثناالٰلہ فیم شہریار آفریدی اور پنجاب کے مہان وزیر اعلیٰ عثمان بزدار جنھیں اس وقت کی خاتون اول کی آشیر باد سے پنجاب کی گدی سونپی گئی اور جو حکمِ حاکم ٹرانسفرز ، پوسٹنگز اور سہولتکاریوں میں پیش پیش تھے۔۔سب کے سب چپ سادھے کسی انہونی کے منتظر ہیں!!

بشیر میمن نے عمران کی مریم مخالف سازش کیسے ناکام بنائی؟

Back to top button