عمران خان کا دور حکومت پاکستان کا بدترین دور کیوں ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب عمران خان کے دور کو پاکستان کا بدترین دور ڈکلیئر کیا جائے گا اور بتایا جائے گا کہ دنیا کی واحد اسلامی نیوکلئیر ریاست پر نا اہل، نا سمجھ، نا تجربہ کار اور متکبر لوگ مسلط کر دئیے گئے تا کہ وہ پاکستان کو وہاں پہنچا دیں جہاں سے اسے واپس نکالنا ممکن نہ رہے۔
انکا کہنا ہے کہ یہ سازش کامیابی کی جانب گامزن ہے لیکن اللہ کرے کہ میرا یہ تبصرہ ’’فیک نیوز‘‘ ثابت ہو اور پاکستان اور اس کا ایٹمی پروگرام بچ جائے، حالانکہ بظاہر اب ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان کی فیک گورنمنٹ نے پاکستان کو کسی قابل نہیں چھوڑا اور یہ تبصرہ فیک نہیں ہے، وقت ثابت کر رہا ہے کہ یہ خبر سچ پر مبنی ہے، اس لیے اب صرف یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اس وقت پوری ریاستی مشینری وزیراعظم عمران خان کے ایماء پر پاکستانی میڈیا کو فیک نیوز کی آڑ میں پابندیوں کی بیڑیاں ڈالنے کے لیے کوشاں ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ ایسی حکومت ہے جس کے وزراء خود فیک نیوز پھیلاتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس حوالے سے وہ وہ شہریار آفریدی کا ایک قصہ بیان کرتے ہیں جو اس وقت چیئرمین کشمیر کمیٹی ہیں۔ جاوید بتاتے ہیں کہ 2019 میں موصوف نارکوٹکس کنٹرول کے اسٹیٹ منسٹر تھے۔
یکم جولائی 2019 کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے عمران خان کے بارے سخت گفتگو کرنے والے مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کو موٹروے پر گرفتار کر لیا اور ان پر15کلو گرام ہیروئن سمگل کرنے کا الزام لگا دیا۔ آفریدی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس رانا ثناء اللہ کے خلاف آڈیو ویڈیو ثبوت موجود ہیں جو ہم عدالت میں پیش کریں گے۔ آفریدی نے بعدازاں 16جولائی کو قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر پھر اعلان کر دیا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں اور ان سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوئس بینک میں کن پاکستانیوں کے خفیہ اکاؤنٹس تھے؟
رانا ثناء اللہ خان چھ ماہ جیل میں رہے یہاں تک کہ اے این ایف ان کے خلاف عدالت میں کسی قسم کا ثبوت پیش نہیں کر سکی، یوں 26 دسمبر 2019 کو لاہورہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا۔ یہ مقدمہ آج بھی چل رہا ہے لیکن آج تک وزارت‘ اے این ایف اور شہریار آفریدی ثبوت پیش کر سکے اور نہ ہی وہ ویڈیو سامنے آئی جس میں رانا ثناء اللہ ہیروئن اسمگل کر رہے تھے۔
آفریدی کا الزام اور انکی پریس کانفرنس پوری دنیا میں مشہور ہوئی جس سے پوری دنیا میں پاکستان اور اسکے پارلیمنٹیرینز بدنام ہوئے، لیکن یہ سارا معاملہ بعدازاں فیک نیوز نکلا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فیک نیوز کا ذمے دار کون تھا؟ شہریار آفریدی یا پھر میڈیا اور پیکا کے نئے آرڈیننس کے مطابق اس فیک نیوز پر کس کو سزا ملنی چاہیے؟
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اسی طرح غلام سرور خان سول ایوی ایشن کے وفاقی وزیر ہیں۔ موصوف نے 24 جون 2020 کو قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر دعویٰ کر دیا کہ ’’پاکستان کے 30 فیصد پائلٹس کی ڈگریاں اور لائسنس جعلی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نے اپنے فلائنگ آورز بھی پورے نہیں کیے‘‘۔ پاکستان میں اس وقت ٹوٹل 860 کمرشل پائلٹس تھے اور حکومت نے ان میں سے 262 کو مشکوک قرار دے دیا۔ یہ خبر پوری دنیا میں بریکنگ نیوز بن گئی اور آدھی دنیا نے پی آئی اے پر پابندی لگا دی اور غیر ملکی ایئرلائنز نے تمام پاکستانی پائلٹس گراؤنڈ کر دیے یوں قومی ایئر لائن کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
پی آئی اے کے آپریشنز اب تک بحال نہیں ہو سکے اور قومی ایئر لائنز کو پابندیوں کی وجہ سے شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ وزیر موصوف کے چار منٹ کے اس بیان سے پی آئی اے کو 8 ارب روپے کا نقصان ہوا اور ملک کی بے عزتی الگ ہوئی لیکن یہ دعویٰ بھی بعدازاں ’’فیک نیوز‘‘ نکلا‘ کیونکہ 98فیصد پاکستانی پائلٹس کی ڈگریاں اور ’’فلائنگ آورز‘‘ ٹھیک ثابت ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اس فیک نیوز کا ذمے دار کون تھا؟ غلام سرور خان یا میڈیا اور پیکا کے نئے آرڈیننس کے تحت اس فیک نیوز پر کس کو سزا ہونی چاہیے؟۔
بقول جاوید، کاش یہ صرف دو مثالیں ہوتیں لیکن بد قسمتی سے تحریک انصاف کے دور میں ایسی سینکڑوں بونگیاں ماری گئیں اور ہر بونگی کلاسیک ثابت ہوئی۔آپ چینی کی رپورٹ ہی لے لیں۔ وزیراعظم نے 21فروری 2020 کو چینی پرتین رکنی کمیٹی بنائی، رپورٹ آئی اور اس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا، چینی 55 روپے سے 121 روپے فی کلو ہو گئی۔ چینی مافیا نے چار سو ارب روپے لوٹ لیے لیکن آج تک ایک بھی شخص گرفتار نہیں ہوا۔ اسی طرح رنگ روڈ کیس کی انکوائری ہوئی۔ 21 بااثر لوگوں کے نام سامنے آئے، ذلفی بخاری سے استعفیٰ بھی لے لیا گیا لیکن چند چھوٹے بیوروکریٹس کے علاوہ کسی حکومتی شخصیت کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ آپ اگر اس لسٹ میں نجم سیٹھی پر 35 پنکچر‘ ملتان موٹروے سے میاں شہباز شریف کی کک بیکس‘ برطانوی فنڈمیں خورد برد‘ سلیمان شہباز اور شہباز شریف کے خلاف برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی تفتیش اور جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی آرز کو بھی شامل کر لیں تو فیک نیوز کا انبار لگ جائے گا جس کی ہر فیک نیوز کے ساتھ وزیراعظم کے بیانات جڑ جائیں گے۔ ہم اگر اس انبار میں وزراء کی کلاسیک نیوز کو بھی شامل کرلیں تو پھر کمال ہو جائے گا۔ مثلاً فیصل واوڈا نے اپریل 2019 میں ایک ٹاک شو میں فرمایا تھا کہ اتنی نوکریاں آنے والی ہیں کہ بندے کم پڑ جائیں گے اور یہ سب برسوں میں نہیں محض چار ہفتوں میں ہو گا۔
کاروبار کرنا اتنا آسان ہو جائے گا کہ پان اور ٹھیلے والا بھی کہے گا مجھ سے ٹیکس لے لو۔ ان چار ہفتوں کو گزرے اب دو سال اور دس ماہ ہو چکے ہیں لیکن وہ خوش خبری وقوع پذیر نہیں ہوئی حالانکہ وااڈا اس دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے فارغ بھی ہو چکے ہیں۔ فواد چوہدری نے 2019میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے دعویٰ کر دیا تھا دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ ہیبل اسپارکو نے خلاء میں بھیجی جب کہ یہ ناسا کا کارنامہ تھا اور ہیبل دنیا کے مشہور خلاء نورد ایڈورڈ ہیبل کے نام سے بنی تھی۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ ان سب چیزوں کو چھوڑ بھی دیں تو بھی حکومت کے لیے ان کے فیک دعوے اور فیک یوٹرن ہی کافی ہیں۔ یہ تاریخ کی واحد حکومت ہے جس نے ملک کے لوٹے ہوئے دو سو ارب ڈالر واپس لا کر ایک ارب ڈالر ایک کے منہ پر اور دوسرا ارب ڈالر دوسرے منہ پر مارنا تھے۔ آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس بھی جمع کرنا تھا، قوم کو آئی ایم ایف کی غلامی سے بھی نکالنا تھا‘ جن کی نظر میں ڈالر کی قدر میں ایک روپیہ اضافے سے سو ارب روپے قرض بڑھتا تھا اور جنھوں نے حکومت میں آ کر قوم کو اس قرض کی غلامی سے نجات دلانی تھی، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا بندوبست بھی کرنا تھا۔
پٹرول‘ بجلی‘ گیس‘ آٹا اور گھی بھی سستا کرنا تھا‘ امیر اور غریب دونوں کے لیے انصاف میں بھی برابری لانی تھی‘ پورے ملک کے لیے ایک نصاب بھی بنانا تھا‘ ایک ماہ میں کرپشن بھی ختم کرنی تھی اور ملک کو بھیک سے نکال کر اپنے قدموں پر بھی کھڑا کرنا تھا لیکن آج وہ وعدے وہ دعوے کہاں ہیں؟ آج قوم کا بچہ بچہ پوچھ رہا ہے اگر جھوٹی خبر کی سزا پانچ سال ہے تو جھوٹے وعدوں پر کیا سزا ہونی چاہیے؟
