گھڑی فروش عمران خان زیورات فروش بھی ثابت ہو گیا

توشہ خانہ ٹو کرپشن کیس میں ریاست مدینہ کے دعویدار عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی چوری اور بددیانتی ثابت ہو گئی۔ توشہ خانہ سے کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی زیورات چند لاکھ روپے میں اچکنے پر عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سناتے ہوئے فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے جس کے بعد عمران خان کا 2042 سے پہلے جیل سے باہر آنا نا ممکن ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 10 ، 10 سال جبکہ پی پی سی دفعہ 409 کے تحت 7،7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، مجموعی طور پر دونوں کو 17 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ ان دونوں کو ایک کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے فی کس جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دورہ سعودیہ کے دوران تحفے میں ملنے والے گراف جیولری سیٹ کو اپنے پاس رکھنے پر سزا سنائی گئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے انعام اللہ شاہ کے ذریعے صہیب عباسی پر پریشر ڈال کر سیٹ کی کم قیمت لگوائی تاکہ سعودی عرب سے بطور تحفہ ملنے والے کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی بلغاری جیولری سیٹ چند لاکھ روپوں میں خرید سکیں۔ یاد رہے کہ بلغاری جیولری سیٹ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو بطور وزیراعظم تحفہ میں دیا تھا۔ لیکن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے پرائیویٹ اپریزر سے کم قیمت لگا کر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ بلغاری جیولری سیٹ کی اصل قیمت ساڑھے 7 کروڑ روپے تھی، جبکہ عمران نے پرائیویٹ اپریزر سے سیٹ کی قیمت 50 لاکھ روپے لگوائی تھی جس کے بعد انہوں نے صرف 20 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروا کے قومی خزانے کو ساڑھے چھ کروڑ روپے کا چونا لگایا، جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، کانوں کی بالیاں اور ایک انگوٹھی شامل تھی۔
یاد رہے کہ 13 جولائی 2024 کو عدت نکاح کیس میں بریت کے بعد نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے ایک اور ریفرنس میں گرفتار کر لیا تھا۔ نیب نے انکوائری رپورٹ میں کہا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر ’ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام‘ ہے۔ نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ’یہ کیس 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔ گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں۔‘
عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس 5 ستمبر 2022 کو دائر کیا گیا تھا۔ توشہ خانہ ریفرنس میں کہا گیا کہ وزرات عظمیٰ کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مختلف سربراہان مملکت کی طرف سے 108 تحائف ملے جن میں سے ملزمان نے 58 قیمتی تحائف خود رکھ لیے۔ریفرنس میں مزید بتایا گیا کہ ’108 تحائف میں سے بشریٰ بی بی نے 14 کروڑ روپے مالیت کے 58 تحائف اپنے پاس رکھے جبکہ عمران خان نے جیولری سیٹ انتہائی کم رقم کے عوض رکھا۔‘عدالت کو بتایا گیا تھا کہ توشہ خانہ قوانین کے مطابق تمام تحائف توشہ خانہ میں رپورٹ کرنے لازم ہیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ جیولری سیٹ ملٹری سیکریٹری کے ذریعے توشہ خانہ میں رپورٹ تو ہوا لیکن جمع نہیں کرایا گیا۔’بشریٰ بی بی اور عمران خان نے توشہ خانہ قوانین کی خلاف ورزی کی۔‘ریفرنس کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تحائف کی من پسند قیمت لگوائی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے جیولری سیٹ کی 90 لاکھ روپے ادائیگی کی۔ ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے قومی خزانے کو 1573 ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔
ٹیری کو اپنی بیٹی تسلیم کرو، عمران کے بیٹوں کا باپ سے مطالبہ؟
توشہ خانہ ٹو کیس سات گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف کو خلافِ قانون پاس رکھنے اور بیچنے کے الزام پر مبنی ہے۔اس کیس کی ابتدائی تحقیقات نیب نے کی تھیں اور بعدازاں نیب ترامیم کی روشنی میں یہ کیس وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو منتقل کر دیا گیا تھا۔سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ پر گذشتہ برس 12 دسمبر کو اس کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم دونوں نے صحت جرم سے انکار کیا تھا، جس کے بعد کیس کا ٹرائل ہوا اور گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔توشہ خانہ کے معاملے میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اب تک تین جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف دو ریفرنسز دائر ہو چکے ہیں۔
