مری سانحے کے ذمہ دار عمران خان اور عثمان بزدار کیوں ہیں؟

مشہور سیاحتی مقام مری میں برفباری کے دوران گاڑیوں کے پھنسنے اور شدید ٹھنڈ میں لوگوں کی اموات ہوجانے پر جہاں پوری قوم افسردہ دکھائی دی، وہیں عوام اور اپوزیشن جماعتوں نے پیشگی اقدامات نہ کرنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اس واقعہ کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ٹھہرایا یے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مری کے افسوسناک واقعے نے موجودہ حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا پردہ ایک مرتبہ چاک کردیا ہے اور دو درجن سے زائد افراد کی موت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

یاد رہے کہ مری میں موسم سرما کے دوران برفباری ہوتے ہی پاکستان بھر کے لوگ سیاحت کے لیے وہاں کا رخ کرتے ہیں۔ حالیہ موسم سرما میں مری میں برفباری کا سلسلہ گزشتہ ماہ دسمبر کے آخر سے شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔ مری میں مسلسل برفباری کی وجہ سے پاکستان کے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی گھومنے کے لیے وہاں پہنچے تھے اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 5 جنوری کو اپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ مری میں ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کے مری میں سیاحوں کے رش کے بعد ہوٹلوں کے کرایوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سیاحت میں اضافہ عام آدمی کی خوشحالی اور ان کی آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب مری میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کے داخل ہونے اور برفباری کا سلسلسہ تیز ہونے کے بعد وہاں حالات سنگین ہوتے گئے لیکن حکومت شخصیات ٹویٹس کرنے کے بعد لمبی تان کر سوئی رہیں۔

تبدیلی سرکار خواب غفلت سے تب بیدار ہوئی جب آٹھ جنوری کی صبح مقامی لوگوں نے برف میں پھنسی گاڑیوں کے دروازے کھٹکھٹا کر یہ معلوم کرنا شروع کیا کہ ان کے اندر موجود لوگ تو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ چنانچہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر کاروائی ڈالتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا اور نام نہاد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ حسب سابق عمران خان اور عثمان بزدار نے اس واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دیا ہے حالانکہ یہ دونوں خود اس واقعے کے مرکزی ملزمان ہیں۔

ریسکیو حکام نے مری میں مرنے والوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق اسلام آباد کی ایک ہی خاندان کے آٹھ لوگ بھی گاڑی میں دم گھٹ کر مر جانے والوں میں شامل ہیں۔ مرنے والوں میں گوجرانوالہ کے 31 سالہ اشفاق ولد یونس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرنے والوں میں لاہور کے 31 سال کے معروف ولد اشرف بھی شامل ہیں جبکہ مرنے والے ایک شخص کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ مرنے والوں میں اسلام آباد کا اے ایس آئی نوید اقبال، ان کی اہلیہ، 4 بیٹیاں اور دو بیٹے بھی شامل ہیں جبکہ 46 سالہ شہزاد ولد اسماعیل بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ اسکے علاوہ 35 سالہ مسز شہزاد عمران اور ان کے 2 بچے بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مرنے والوں میں 21 سال کے بلال ولد غفار بھی شامل ہیں جبکہ 24 سالہ بلال حسین ولد سیدغوث بھی فوت ہونے والوں میں شامل ہیں۔

دو درجن افراد کی موت کے بعد ریسکیو آپریشن کس کام کا؟

مری میں شدید برفباری اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیشگی حفاظتی اقدامات نہ کیے جانے پر اموات کے بعد عوام اور اپوزیشن جماعتیں حکومت پر خوب تنقید کر رہی ہیں۔ ٹوئٹر پر ’مری اور اسنو فال‘ کا ٹرینڈ ٹاپ پر آ چکا ہے اور حکومت سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مری میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے پر تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ مری میں بے یارو مددگار برف میں دھنسے رہنے والے پورے کے پورے خاندانوں کی موت کے دردناک واقعے نے دل ہلا کے رکھ دیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کو کوسنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ مردہ ضمیر حکومت بہت پہلے مر چکی ہے، اللہ تعالی مرحومین اور ان کے لواحقین اور پاکستان پر اپناخصوصی رحم فرمائے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومتوں کا کام صرف سیاحوں کی تعداد گننا نہیں ہوتا بلکہ ان کے لیے پیشگی انتظامات اور حفاظتی اقدامات کرنا بھی ہوتا ہے، مریم نے کہا کہ شہباز شریف کے بوٹوں اور خدمت کا مذاق اُڑانے والا اپنے محل میں بیٹھا اپنی گرتی ہوئی حکومت بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے، انکا کہنا تھا کہ یہ اموات برفباری سے نہیں حکومتی غفلت سے ہوئی ہیں۔

مریم نواز نے عمران خان کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کو تھوڑا سا بھی احساس ہے یا آپ کا دل رحم سے بالکل عاری ہے؟ کیا آپکو اللّہ سے ڈر نہیں لگتا؟

سوشل میڈیا پر جہاں لوگوں نے خراب موسم میں مری جانے والے افراد کو قصور وار ٹھہرایا، وہیں لوگوں نے ان المناک اموات کا ذمہ دار حکومت کو بھی قرار دیا اور کہا کہ انتظامیہ کو ایسے حالات میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے تھا۔ لوگوں کے مطابق انتظامیہ نے مری جانے والی ٹریفک کو پہلےسے ہی نہیں روکا اور حالات خراب ہونے کے باوجود انتظامیہ سوتی رہی۔ صحافی عمر باچہ نے ٹوئٹ کی کہ مردان کے چار دوست مری میں برفباری اور شدید سردی کی وجہ سے چل بسے۔ بعض افراد نے لکھا کہ جو حکومت مقامی 6 ہزار سیاحوں کو آفت سے نہیں نکال سکتی، وہ کس منہ سے غیر ملکی سیاحوں کو یہاں آنے کی دعوت دیتی ہے۔ تاہم بعض لوگوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مری میں لوگوں کی اموات کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنا بند کر دیں۔

Back to top button